December 08, 2014

خبر وتعليق هل أتت الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي إلى المنطقة بالازدهار أم بالاستعمار (مترجم)


الخبر:


اجتمع وزراء خارجية دول حلف شمال الأطلسي، في 2 كانون الأول/ديسمبر 2014، في بروكسل حيث اتفقوا على الدور الجديد الذي سيلعبه حلف شمال الأطلسي في السنوات القادمة في أفغانستان. فقد صرح رئيس منظمة حلف شمال الأطلسي بقوله: "لقد قررنا أن يبدأ دعمنا غير العسكري بدءًا من كانون الثاني/يناير. إنها حقًا لحظة مهمة لكل من أفغانستان وحلف شمال الأطلسي. وسيكون هذا دعمًا غير عسكري. ما يقارب اثني عشر ألف جندي من قوات الناتو سيساعدون قوات الأمن الأفغانية وسوف يلعبون دورًا استشاريًا، وسيقومون أيضًا بتدريب قوات الأمن الأفغانية التي من شأنها الحفاظ على إنجازاتنا في أفغانستان''.


التعليق:


إن وعود قوات حلف شمال الأطلسي والولايات المتحدة الكاذبة بالإضافة إلى الحكومة الأفغانية الخانعة ليست شيئًا جديدًا. إن ما شهدناه على مدى السنوات الـ 13 الماضية هو قتل المسلمين الأبرياء، والرشوة ومداهمة المنازل، والاعتقالات، والتعذيب ونهب الموارد والفساد. وكل هذه الجرائم البشعة تتم بتعاون تام من الحكومة الأفغانية العميلة التي فُرضت على المسلمين في أفغانستان من خلال قوات الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي. في الواقع، فإن نمط الجرائم فقط هو الذي سيتغير شكله بعد عام 2015، لأن القوات الأفغانية المأجورة ستقوم الآن بهذه المهمة نيابة عنهم، بينما قوات الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي هي من ستحدد الأهداف والخطط الاستراتيجية. وبذلك فإنهم يضربون عصفورين بحجر واحد، لأن المسلمين حينئذ هم وقود الصراع على الجانبين.


لقد صرح العميل حاكم أفغانستان الجديد محمد أشرف غاني، مع الأسف، بقوله "أنا متفائل بأن ضمانات حلف شمال الأطلسي الأخيرة ستجلب السلام والازدهار إلى أفغانستان". إنه ساذج جدًا إذ إنه حتى لا يعرف ما هو السلام والازدهار ولا يدرك كيف أن شعب أفغانستان المسلم المجاهد سيحقق ذلك. إن أفكاره وتفكيره مختلف تمامًا عن تفكير المسلمين في أفغانستان. إن أشرف غاني هو شخص من صنع العلمانية الغربية ويؤمن بالقيم العلمانية وليس لديه أية مشاعر تجاه الأمة الإسلامية ولا ينظر إلى الإسلام كنظام للحياة. ومن ناحية أخرى، فإن المسلمين في أفغانستان دائمًا ما أثبتوا حبهم للإسلام بانتصارهم على بريطانيا ثلاث مرات، ثم هزيمتهم للاتحاد السوفيتي والآن قوات الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي. وقيامهم بكل هذا هو بهدف عدم تمكين الكفار من احتلال بلاد المسلمين. إلا أن الهزيمة العسكرية التي منيت بها أمريكا اليوم قد جعلتها تسعى للسيطرة السياسية على البلاد عن طريق استخدام عميلهم أشرف غاني الذي أثبت، خلال 24 ساعة من رئاسته، ولاءه للولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي من خلال التوقيع على الاتفاقية الأمنية الثنائية واتفاقية وضع القوات الأمريكية وحلف شمال الأطلسي التي تضمن وجود الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي على المدى الطويل وتحمي مصالحهم السياسية والعسكرية والاقتصادية في المنطقة.


وأضاف أشرف غاني أنه يعتقد أن الاتفاق بين أفغانستان وحلف شمال الأطلسي لن يجلب السلام والازدهار إلى أفغانستان فقط ولكن للمنطقة بأكملها. ونحن نعلم جميعًا أن الولايات المتحدة ودول حلف شمال الأطلسي قد جاؤوا إلى أفغانستان فقط لتحقيق مصالحهم الخاصة الشريرة وليس من أجل توفير الأمن والازدهار لأفغانستان وللمنطقة. إن الأهداف الإقليمية التي تسعى الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي لتحقيقها هي واضحة جدًا، فمنها احتواء روسيا والصين، والوصول إلى آسيا الوسطى والشرق الأوسط والسيطرة على النفط والهيدروكربون في بحر قزوين. وبذلك فهم سيتحكمون في طرق نقل هذه الخامات والموارد، والأهم من ذلك، العمل على إعاقة التوحيد السياسي والجغرافي والاقتصادي للأمة الإسلامية من خلال نظام الإسلام الخلافة على منهاج النبوة.


إن الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي يستغلون الأهمية الجيوسياسية لأفغانستان لتحقيق الأهداف المذكورة أعلاه؛ وبالتالي، فإن أفغانستان ليست هي الهدف بل وسيلة لتحقيق أهداف أخرى في المنطقة. ولهذا السبب لم يتم إطلاق أو التخطيط لأي مشروع ضخم يمكن أن يستفيد منه مسلمو أفغانستان على المدى البعيد، ولكنهم أطلقوا فقط مشاريع معينة قصيرة المدى ذات فوائد مؤقتة ومحددة. وبالإضافة إلى ذلك، فقد تم تقسيم المسلمين في أفغانستان على أساس الاختلاف العرقي واللغوي والقبلي، وقام المستعمرون أيضًا وبالتعاون مع الحكام العملاء بتغيير القوانين الإسلامية في أفغانستان واستبدلوا بها قوانين غربية ويحاولون تغيير كل ما له صلة بالإسلام كنظام حياة كامل. إن المسلمين في أفغانستان يعرفون الأهداف الخبيثة للكفار وعملائهم ولن يسمحوا لهم أبدا بالنجاح في خططهم.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
سيف الله مستنير
كابول - ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست