خبر وتعليق   هل هذا تناقض أم تلاعب من قبل أمريكا، ولماذا؟!
خبر وتعليق   هل هذا تناقض أم تلاعب من قبل أمريكا، ولماذا؟!

الخبر: قال وزير الدفاع الأمريكي أشتون كارتر يوم 2015/5/24 لقناة (سي إن إن) في تعليقه على سقوط الرمادي قبل أسبوع في يد تنظيم الدولة الإسلامية إن: "ما حدث كما يبدو هو أن القوات العراقية لم تظهر أي إرادة للقتال، لم يكن مسلحو تنظيم الدولة الإسلامية أكثر عددًا. في الحقيقة، كانت القوات العراقية أكثر عددًا من القوة الأخرى". فأوجد ذلك ردة فعل لدى النظام العراقي تبرر للوزير الأمريكي تصريحه، فقال حيدر العبادي رئيس وزراء النظام العراقي إن "كارتر كان مؤيدًا جدًا للعراق وأنا واثق أنه تم تزويده بمعلومات خاطئة". وقال إن "القوات العراقية ستستعيد الرمادي خلال أيام" (بي بي سي 2015/5/25) وبعد ذلك بيومين يقوم البيت الأبيض وينشر بيانًا باسم نائب الرئيس الأمريكي جو بايدن يقر فيه "بالتضحيات الهائلة والشجاعة التي أبدتها القوات العراقية في الأشهر الثمانية عشر الأخيرة في الرمادي وغيرها" (رويترز 2015/5/26) وتعهد بأن "تقدم الولايات المتحدة دعمًا كاملًا للجهود العراقية لتحرير الأراضي من تنظيم الدولة الإسلامية".   التعليق: باعتبار أن أمريكا ليست دولة كبرى فحسب، بل تعتبر الدولة الأولى عالميًا، فعندما يقوم مسؤولوها بالتناقض في التصريحات فإن هذا يدل على مستوى هابط لدى هذه الدولة في إدارة الأمور، وأن هناك تلاعبًا في الطرف التابع لها لتنفيذ سياسات معينة؛ مثلما فعلت مع دول الخليج فتقول لهم إن أكبر خطر عليكم هو إيران فعليكم أن تقبلوا بنصب الدرع الصاروخي الأمريكي، ومن ثم تقول إن الخطر الداخلي عدم وجود الديمقراطية والاضطهاد السياسي أكبر من الخطر الإيراني. وكما شككت في الوجود الإيراني في اليمن ووقوفه وراء الحوثي ومن ثم أقرت به، وهي تقر بانقلاب الحوثي على الرئيس اليمني المنتخب وتدعي أنها مع هذا الرئيس وتطلب منه التفاوض مع الانقلابيين. وكذلك يحدث انقلاب في مصر على رئيس منتخب ديمقراطيًا كانت تؤيده، ومن ثم لا تبدي رأيًا فيه ولا تقول أنه انقلاب أو غير انقلاب، ومن ثم تقول إن حركة الجيش في مصر هي لإعادة الديمقراطية. وكذلك كما فعلت في الشأن السوري فاعتبرت الأسد جزءًا في الحل ومن ثم قالت ليس للأسد مكانٌ في سوريا. وكذلك تقول إن إيران تدعم الإرهاب وحزبها في لبناني إرهابي ومن ثم تسمح لإيران وحزبها أن يتدخلوا ويحاربوا في سوريا وتطلب من النظام العراقي والنظام اللبناني أن يسهلوا لهم الطريق، في الوقت الذي تدعي أنها مع الثوار وتمنع عنهم وصول السلاح بذريعة الخوف من أن يصل إلى من تطلق عليهم الإرهابيين والمتطرفين في الثورة السورية. فكل ذلك تناقض وهو عبارة عن تلاعب يجري لتمرير سياسات وتحقيق أهداف بأساليب هابطة مفضوحة من قبل دولة تدّعي أن لديها قيمًا رفيعةً وتحمل مشعل الحرية للشعوب! ويستمر مسلسل التناقض عندما تقول أنها مع وحدة العراق في الوقت الذي تعمل على تجزئته داخليًا عندما وضعت دستورًا للعراق يقسمه فدراليًا ويقر بالمحاصصة الطائفية التي توجد الاختلاف وتؤججه وتؤدي إلى التجزئة، وتقول إنها ضد التدخل الإيراني وهي تقر بوجوده وبدعمه للحشد الشعبي. وكذلك تقول إنها ضد تنظيم الدولة الإسلامية وقد طلبت من الجيش العراقي في نينوى الذي أسسته وسهرت على تأسيسه وبوجود نائب رئيس الأركان العراقي وقائد القوات البرية أمرته وهو مجهز بأحدث الأسلحة ويبلغ تعداده عشرات الآلاف ويقال أنه كان يبلغ حوالي 50 ألفًا أمرته أن يترك سلاحه وعتاده ويخلع ملابسه أمام ألفين من المقاتلين ويترك الأموال في البنوك لتكون غنائم لتنظيم الدولة ليتقوى بها. مع العلم أنه يوجد اتفاقية أمنية بين أمريكا والعراق تقضي بالتدخل الأمريكي في حالة تعرض العراق لهجوم عليه أو تعرض النظام للخطر ومع ذلك أمريكا لم تقم بالتدخل سوى التدخل بالضربات الجوية المحددة فيما بعد عندما يتجاوز التنظيم حدود منطقة الإقليم السني الذي تخطط له. وقد ظهر التناقض في موضوع سقوط الرمادي، فقوات التنظيم تتحرك من سوريا وأماكن أخرى ولا تقوم الطائرات الأمريكية بضربها وتتركها تصل إلى الرمادي! وقد تجلى هذا التناقض عندما يقول وزير الدفاع الأمريكي إن الجيش العراقي لم يظهر أي إرادة للقتال، فيتهم هنا الجيش العراقي بالتقصير ويعلق عليه سبب الهزيمة، ومن ثم يأتي نائب الرئيس الأمريكي ويقر بالتضحيات الهائلة والشجاعة التي أبدتها القوات العراقية، فهذا التناقض هو تلاعب لأهداف معينة، ويبدو أنها لإظهار أن الجيش العراقي عاجز أو غير قادر على دحر تنظيم الدولة، ليكون مبررًا للتدخل الإيراني وقيادة الحشد الشعبي ولتبرر دعمها لذلك، حتى يتم تأجيج الحقن الطائفي وردة الفعل الطائفي، فيسهل عملية تقسيم العراق طائفيًا وتأسيس إقليم سني كما تخطط له أمريكا، ليكون العراق بلدًا مقسمًا طائفيًا متصارعًا، وحدته هشة لا تقدر على شيء، وحتى لا يشكل خطرًا على أمريكا مستقبلًا، بل ليكون معرقلًا لطرد النفوذ الأمريكي من هناك كما حصل في بداية الاحتلال الأمريكي للعراق حيث أصدر السيستاني الذي يعتبر مرجعية شيعية كبيرة بتحريم مقاومة الاحتلال الأمريكي وطلب التعاون معه ومقاومة الذين يقاومونه وعمل على شرعنته والانخراط في النظام الجديد الذي أقامه للعراق، وبذلك تجعل العراق عقبة في وجه وحدة المسلمين في دولة واحدة لا تميز بين من يحمل تبعيتها.       كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرأسعد منصور

0:00 0:00
Speed:
May 28, 2015

خبر وتعليق هل هذا تناقض أم تلاعب من قبل أمريكا، ولماذا؟!

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست