خبر وتعليق   حملة أمريكية للتذكير بسجينات الرأي في العالم!
خبر وتعليق   حملة أمريكية للتذكير بسجينات الرأي في العالم!

الخبر: أطلقت الولايات المتحدة حملة للتذكير بمحنة المعتقلات السياسيات، ودعت إلى الإفراج عن عشرين امرأة تعتبرهن واشنطن من أشهر السجينات السياسيات في دول عدة، وهذه الدول هي: الصين وإيران وسوريا وميانمار وإثيوبيا وفيتنام وأذربيجان وإريتريا وروسيا وفنزويلا وكوريا الشمالية وأوزبيكستان. وسيتم تسليط الضوء على هؤلاء النسوة، كل على حدة، بمعدل امرأة في كل يوم عمل حتى انعقاد مؤتمر رفيع المستوى عن حقوق المرأة نهاية أيلول/سبتمبر الجاري بمقر الأمم المتحدة في نيويورك. وينعقد المؤتمر في الذكرى السنوية العشرين لإعلان بكين بشأن حقوق المرأة الذي وقعته 189 دولة عام 1995 بحضور هيلاري كلينتون التي كانت يومها السيدة الأمريكية الأولى. وقالت سامنثا باور (سفيرة أمريكا في الأمم المتحدة): "نحن نبعث برسالة إلى حكوماتهن" وللحكومات الأخرى مفادها "إذا كنتم تريدون تمكين النساء، فلا تسجنوهن بسبب آرائهن". (الجزيرة نت)   التعليق: إن أمريكا لم تكن يوماً مهتمة بحقوق الإنسان والمرأة، وتاريخها وحاضرها يشهدان بإجرامها تجاه الشعوب والدول، وكيف أنها حولت حياة الناس - لا سيما النساء والأطفال - إلى جحيم، وأعداد الأرامل واليتامى التي نتجت عن حروبها في العراق وأفغانستان تشهدان بذلك، وكذلك التعذيب والانتهاكات بحق النساء في سجن أبو غريب وغوانتنامو، وما لاقته الدكتورة عافية صديقي من أذى وتعذيب في سجون أمريكا لينطق بوحشيتها وغياب الناحية الإنسانية عنها، وبالتالي فإن إثارتها لمواضيع حقوق الإنسان وحقوق المرأة، ليست إلا حصان طروادة تريد من خلاله أن تحقق مصالح معينة، فهي تريد من مثل هذه الحملات أن تظهر أمام العالم بمظهر المدافع عن الحريات والحقوق، والحامل لهموم المرأة وقضاياها، كما أنها تستخدم قضايا حقوق الإنسان وحقوق المرأة كورقة ضغط على بعض الدول، من خلال إثارة ملفات التعذيب والقمع والحريات في هذه الدول، وذلك مثلما أثارت قضية استقلال إقليم التبت وقمع المعارضين في الصين، وكذلك فإنها تستخدمها للتدخل في شؤون هذه الدول وبث أفكارها بين أبنائها كما تفعل في بلاد المسلمين. ومن جهة ثانية ما دامت أمريكا ترى أن هذه الدول تنتهك حقوق الإنسان، وحقوق المرأة فلماذا تدعم هذه الدول وتتحالف معها؟! ألم توقع اتفاقاً مع إيران حول برنامجها النووي لتتفرغ لخدمتها وتحقيق مصالحها في العراق وسوريا واليمن...؟!، ألم تقم بتطبيع العلاقات مع ميانمار، ورفعت القيود المفروضة على تعامل الشركات الأمريكية مع بورما؟! ألم يقم أوباما بزيارة بورما؟! ولماذا استقبل الرئيس البورمي في البيت الأبيض وأثنى عليه لقيادته بلاده على طريق الإصلاح السياسي والاقتصادي؟! ثم ألم تقم وزيرة خارجيته السابقة هيلاري كلينتون بزيارة لبورما في الأول من كانون الأول/ديسمبر من العام الماضي 2011م. وأعلنت أن بلادها ستعين سفيرًا لها فيها لأول مرة منذ عشرين عامًا، وأنها ستخفف العقوبات تماشيًا مع التقدم في إجراء الإصلاحات الديمقراطية هناك؟! ألا تدعم أمريكا بشار المجرم عن طريق عميلتها إيران وحزبها في لبنان، أليست شريكة له في الإجرام من خلال التحالف الذي تقوده ضد أهل الشام بحجة محاربة الإرهاب وتنظيم الدولة؟! وكذلك الأمر مع كريموف المجرم والقواعد العسكرية الأمريكية في أوزبيكستان تشهد على العلاقات الطيبة بين البلدين، وكذلك الأمر مع باقي الدول العشرين. وإذا كانت سفيرة أمريكا في الأمم المتحدة قد بعثت رسالة لحكومات هذه الدول مفادها "إذا كنتم تريدون تمكين النساء، فلا تسجنوهن بسبب آرائهن"، فإننا نبعث رسالة لأمريكا والدول الغربية وكذلك للمؤسسات التي تعمل في مجال حقوق المرأة، أن كفاكم كذباً وخداعاً وتضليلاً للمرأة، فرغم كل الاتفاقيات والحملات والمؤتمرات التي تم عقدها (ومن ضمنها مؤتمر بيجين الذي أطلقت هذه الحملة احتفالاً بمرور عشرين عاماً على انعقاده)، قد فشلت في تحقيق الحياة الكريمة للمرأة، ولم تستطع رفع الظلم الواقع عليها، والإحصائيات التي نشرت عن وضع المرأة في العالم خير شاهد على ذلك، فبحسب إحصائيات نشرتها صحيفة الإندبندنت البريطانية، فإن واحدة من كل ثلاث نساء في العالم سوف يتعرضن للضرب أو الاغتصاب خلال حياتهن، وأن 70% من الفقراء الذين يبلغ عددهم 1.2 ملياراً هم من النساء والأطفال، و700 مليون امرأة يعشن دون ما يكفيهن من الغذاء والمياه والصرف الصحي، والرعاية الصحية، أو التعليم، وأن 85 مليون فتاة لا يستطعن الذهاب إلى المدارس، وتشير التقديرات إلى أن 1،2 مليون طفل يتاجَر بهم سنويا كعبيد؛ 80% منهم من الإناث. إن تمكين المرأة وإعطاءها حقوقها وتوفير الحياة الكريمة لها، لن يكون إلا بتطبيق أحكام الإسلام في واقع الحياة، في ظل دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، القائمة قريبا بإذن الله ، والتي ستقدم نموذجاً مضيئاً لحقوق المرأة ودورها السياسي.       كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرأختكم براءة مناصرة

0:00 0:00
Speed:
September 05, 2015

خبر وتعليق حملة أمريكية للتذكير بسجينات الرأي في العالم!

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست