الخبر: كان السادس من آب/أغسطس موعد الذكرى السبعين لقصف هيروشيما من قبل الولايات المتحدة. في ذلك التاريخ من عام 1945، ألقت طائرة بوينغ بي-29 سوبر فورترس التابعة لسلاح الجو الأمريكي قنبلة نووية تزن 16 طنا على المدينة اليابانية ما أسفر عن مقتل حوالي 80 ألف مدني على الفور و60 ألفا آخرين على مدى الأشهر التي تلت ذلك. وبعد ثلاثة أيام قامت الولايات المتحدة بإسقاط قنبلة ذرية أخرى على البلاد. كانت هذه المرة على مدينة ناغازاكي ما أسفر عن مقتل أكثر من 70 ألف شخص. دمرت هاتين المدينتين تماما وعاش سكانهما معاناة من آثار التسمم الإشعاعي السامة لعقود تلت ذلك الحدث. التعليق: لم تكن أهداف الهجمات الأمريكية على هيروشيما وناغازاكي موجهة ضد منشآت عسكرية أو حتى أحواض السفن أو المنشآت الزراعية. بل استهدفت المراكز الجغرافية للمدينتين بغرض إيقاع أكبر قدر من الخسائر في صفوف المدنيين. وعلى الرغم من أن هذا كان استخدام أمريكا الأول للقنبلة النووية، إلا أنها كانت فعليا سابقة لعمليات القتل الجماعي للمدنيين اليابانيين بدأت منذ أشهر سبقت هذا الهجوم الأخير عندما قصفت الولايات المتحدة طوكيو. ففي آذار/مارس 1945، أسقطت الطائرات الأمريكية حمولات ضخمة من القنابل العنقودية المجهزة بالنابالم والغازات السامة على "شيتاماشي" المكتظة بالسكان في طوكيو. وقد تسبب هذا بحريق كالجحيم في المدينة وبمقتل ما يقارب 100 ألف شخص. وقامت الولايات المتحدة بهجمات مماثلة على عشرات المدن اليابانية الأخرى. ووفق مسح لعمليات القصف الاستراتيجي الأمريكي، فقد أسقطت الولايات المتحدة خلال الفترة ما بين كانون الثاني/يناير 1945 إلى آب/أغسطس 1945، 167 ألف طن من القنابل على المدن اليابانية مخلفة ما يقدر بـ 333 ألف قتيل. وقد بررت حكومات الولايات المتحدة في الماضي والحاضر الهجمات المروعة على هيروشيما وناغازاكي بزعمها أن الحاجة كانت ماسة لإنهاء الحرب العالمية الثانية وإنقاذ آلاف الأرواح على المدى الطويل. ومع ذلك، فإن هناك أدلة تناقض ذلك تماما. فوفقا لمسح عمليات القصف الاستراتيجي الأمريكي والذي استند إلى مقابلات أجريت مع أكثر من 400 ضابط أمريكي وفحص للسجلات العسكرية اليابانية، فقد أعلن التقرير في تموز/يوليو 1946 ما يلي "استنادا إلى التحقيق المفصل في كل الحقائق والذي دُعِّم بشهادات لقادة يابانيين ممن شاركوا في الحرب بقوا على قيد الحياة، فقد توصل المسح إلى أن ... اليابان كانت ستستسلم حتى لو لم تلق القنابل الذرية". لذلك يقول عدد من المحللين أن الولايات المتحدة قامت بهذا العمل الذي يُعد أسوأ عمل إرهابي في التاريخ من أجل ترك بصمتها في العالم وإثبات قدرتها لأعدائها السياسيين ومنافسيها. وبغض النظر عن نوايا الولايات المتحدة الحقيقية من وراء هذه الهجمات، إلا أن حقيقة صارخة تبرز بوضوح؛ بأن هذه كانت جريمة ضد الإنسانية وتحمل في طياتها أبعاداً هائلة، وبأنها قامت باستهداف مئات الآلاف من المدنيين من أجل تحقيق أهداف سياسية تجعل من الولايات المتحدة الرائدة على مستوى العالم في استخدام "التكتيك الإرهابي" للحرب. وتستند تبريراتهم التي يقدمونها سببا للقيام بهذه الجريمة البشعة إلى مذهبهم الخبيث القائل بأن "الغاية تبرر الوسيلة" وأن "كل شيء ممكن طالما أنه يحقق في النهاية مكاسب مادية تستحق العناء" وهي قواعد يتبناها النظام الرأسمالي الذي تقوم على أساسه الدولة الأمريكية. وهذا هو السبب ذاته الذي تستمر لأجله الولايات المتحدة في استخدام ذات التكتيك باستهداف المدنيين لتحقيق مكاسب سياسية كما فعلت في حروبها في كوريا وفيتنام وفي حروبها في العصر الحديث. ففي حربها على العراق على سبيل المثال، قتل مئات الآلاف من المدنيين في حرب كان دافعها تحقيق مصالح إقليمية غربية. وتواصل الحكومات الغربية الرأسمالية توريد الأسلحة إلى الأنظمة الديكتاتورية الوحشية التي تقوم بدورها باستخدامها ضد شعوبها، أو توَرِّدها إلى مناطق الحرب فتؤجج الصراعات؛ كل ذلك من أجل تحقيق مكاسب سياسية أو اقتصادية. ومثل هذه الأنظمة الرأسمالية لا تتورع في إطلاق العنان لأسلحتها الكيميائية القاتلة واستخدامها ضد سكان دول معادية إن رأت أن ذلك مفيدٌ لها ويحقق أهدافها السياسية أو العسكرية. وفي نتائج لدراسة نشرت في تموز/يوليو على مدينة الفلوجة العراقية والتي تعرضت للقصف من قبل الولايات المتحدة في 2004، ظهر بأن هنالك زيادة كبيرة في نسبة معدلات وفيات الرضع وظهور العيوب الخلقية الخطيرة والسرطانات التي أصبح يعاني منها سكان المدينة في السنوات العشر الماضية فاقت تلك التي ذكرها الناجون من تفجيرات هيروشيما وناغازاكي. إن الولايات المتحدة بالطبع ليست الوحيدة التي تستهدف المدنيين لتحقيق مكاسب سياسية أو عسكرية. فالقصف البريطاني لمدينة دريسدن الألمانية خلال الحرب العالمية الثانية قتل عشرات الآلاف من الناس. وعلى الرغم من هذا كله، لا تزال الولايات المتحدة والحكومات الرأسمالية الغربية الأخرى مصرة على تبني الدور الذي تصبو له أنفسهم بأن يكونوا شرطة العالم، وينغمسوا في الحرب المروعة التي أسمَوها "الحرب على الإرهاب" والتي كلفت أيضا حياة الآلاف من المدنيين الأبرياء - تحت ذريعة (يدعونها) تقضي بمنع القتل العشوائي للمدنيين من قبل مختلف الجماعات والأفراد - الذين يعدون مجرد هواة في استخدام هذا التكتيك المروع إذا ما قورنوا بالدول الغربية. وعلاوة على ذلك، فإن لديهم الجرأة ليزعموا بأن إقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة ستشكل خطرا على سكان العالم. هذا على الرغم من حقيقة أن الخلافة تحظر استهداف المدنيين لأي غرض أو هدف. عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ «أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ عليه الصلاة والسلام مَقْتُولَةً فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ عليه الصلاة والسلام ذَلِكَ وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ» وعندما أرسل أبو بكر رضي الله عنه، أول خليفة في الإسلام، الجيشَ للشام قال لواحد من قادة الجيش وهو يزيد بن أبي سفيان يوصيه: "وإني موصيك بعشر: لا تقتلن امرأة، ولا صبيا، ولا كبيرا هرما، ولا تقطعن شجرا مثمرا، ولا تخربن عامرا، ولا تعقرن شاة، ولا بعيرا، إلا لمأكلة. ولا تحرقن نخلا، ولا تعزقنه، ولا تغلل، ولا تجبن." لذلك فإن السؤال الذي يطرح هو: من الذي يشكل أكبر تهديد لأمن العالم وحياة المدنيين؟ أهي الدول التي تقوم على أسس أخلاق متقلبة متناقضة يمكن أن تتنازل عنها لمجرد نزوة والذين لا يتورعون عن استهداف السكان الأبرياء من أجل مصالح سياسية، أم الدولة التي ترفض الأساس المشوه القائم على فكرة أن "الغاية تبرر الوسيلة" والتي نُقشت مبادئها على الصخر فكان الثبات سمتها لا تتغير ولا تتبدل بغض النظر عن المآرب والمكاسب السياسية والمادية التي يمكن الحصول عليها؟ كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرد. نسرين نوازمديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
خبر وتعليق هيروشيما: كيف قادت الولايات المتحدة الأمريكية العالم باستهدافها للمدنيين لتحقيق مكاسب سياسية (مترجم)
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست