خبر وتعليق   حزب أردوغان وجماعة غولان: أوجه التشابه والتمايز والاختلاف بينهما والموقف منهما
December 31, 2014

خبر وتعليق حزب أردوغان وجماعة غولان: أوجه التشابه والتمايز والاختلاف بينهما والموقف منهما


الخبر:


ذكرت وكالة الأناضول في 25/12/2014 أن النيابة العامة في إسطنبول اعترضت على إطلاق سراح 8 أشخاص من جماعة غولان على خلفية التحقيقات الجارية في قضية ما أطلق عليه "الكيان الموازي" وهو جماعة غولان. وكانت فرق مكافحة الإرهاب قد اعتقلت 30 شخصا في 14/12/2014 ينتمون لهذه الجماعة منهم إعلاميون يعملون في تلفزيون وصحيفة تابعة لهذه الجماعة. ووجهت لهم "تهمة ممارسة الضغوط والترهيب والتهديد، وتأسيس تنظيم يمارس الافتراء وحرمان أشخاص من حريتهم وتزوير وثائق". وأصدرت محكمة الصلح الجزائية الأولى في إسطنبول في 23/12/2014 قرارا بإلقاء القبض على رئيس الجماعة فتح الله غولان الذي يتخذ بنسيلفانيا بأمريكا مقرا له منذ 15 عاما.

التعليق:


كثير من الناس يتساءلون عن أسباب الخلاف بين هذين الفريقين وقد كانا إلى وقت قريب معا متحالفين. فنريد أن نعلق على هذا الموضوع مبينين أوجه التشابه والتمايز بين هذين الفريقين ومن ثم نبين سبب الاختلاف بينهما، وموقف الإسلام منهما:


1- من ناحية فكرية: فهما متشابهان؛ إنهما يتبنيان العلمانية والديمقراطية وفكرة الحريات وكثيراً من الأفكار الغربية وكذلك فكرة حوار الأديان واتفاق الحضارات ويدعوان إلى ذلك ويطبقانه بالفعل. ويقولان أنهما يعتقدان بالإسلام بصورة فردية وليس كحزب أو كنظام دولة ويجب أن يكون الدين مفصولا عن العمل السياسي وعن الدولة، ويقومان بممارسة العبادات ويلتزمان ببعض الأحكام الشرعية ويقبلان ببعض الأفكار الإسلامية مع خلطها بتلك الأفكار والدعوات الباطلة.


2- من ناحية سياسية: فهما متشابهان أيضا؛ إنهما يسيران في ركاب أمريكا ويدافعان عن سياستها وينفذانها، كما يعترفان بكيان يهود ويتعاملان معه. ويهاجمان كل حركة تدعو إلى تطبيق الإسلام وإلى إقامة الخلافة ويتمسكان بقوة بالنظام العلماني وبالديمقراطية. وقد اشتركا معا في اعتقال كثير من حملة الدعوة الإسلامية أثناء تحالفهما مع بعضهما.


3- اختلفا في كيفية التعاطي مع بعض القضايا وفي أسلوب التعامل والخطاب، حيث إن أردوغان يوجه انتقاداته أحيانا لأمريكا كأسلوب ليظهر نفسه على أنه مستقل وليس تابعا، ولكنه في الوقت نفسه يلتزم بسياستها وينفذها، وكذلك ينتقد كيان يهود ولكنه يعترف به ويتعامل معه، ولا يتخذ ضده أي إجراء عدائي أو عقابي، بل ضاعف التعامل التجاري مع هذا الكيان، فهو يتقن صنعة الكلام وفن الخداع. أما جماعة غولان فهي سائرة في ركاب أمريكا واليهود وتدافع عنهما من دون لف ودوران، فدافعت عن يهود في هجومهم على سفينة مرمرة عام 2010 وانتقدت إرسالها بدعم من الحكومة التركية لمساعدة أهل غزة، وهي ضد أهل سوريا المنتفضين على حكم الطاغية بشار أسد، وتهاجم المسلمين الذين يقومون بأي فعل ضد أمريكا وعملائها أو ضد كيان يهود وتتهمهم بالإرهابيين والمتطرفين.


4- وأوجه الخلاف والاختلاف مصلحية وتنافسية؛ فمن يسيطر على الثاني؟! فقد أصاب جماعة غولان الغرور وانتهزت الفرصة عندما فتح أردوغان لها الباب لتركز منتسبيها في دوائر الدولة بعدما تحالفا وخاصة في مجال الأمن والقضاء. فأرادت هذه الجماعة أن تجعل أردوغان وحزبه والحكومة تحت وصايتها، فأرادت أن تركز من تشاء وترفض من تشاء، وتقيم المدارس والجمعيات لها كيفما تشاء من دون رقابة. ففي سنة 2011 وهي السنة التي بدأ فيها الخلاف يظهر على السطح أرادت جماعة غولان أن تضع في قائمة المرشحين لعضوية البرلمان في الانتخابات التي جرت في تلك السنة كثيرا من منتسبيها فعندما رأى أردوغان ذلك شعر بما تريده الجماعة فشطب تلك القائمة كلها، فقامت الجماعة بإثارة فضيحة لرئيس المخابرات الذي كانت تعترض على تعيينه وتريد تعيين شخص منها. فبدأ أردوغان بتصفية العديد من ضباط المخابرات والأمن من المنتسبين إلى الجماعة. وجاءت أحداث منتزه غزي في حزيران 2013 فأيدت هذه الجماعة اليساريين المحتجين على حكومة أردوغان، ومن ثم أثارت فضائح الفساد والرِّشى في 17/12/2013 عن طريق المنتمين لهذه الجماعة ممن هم في القضاء والأمن والصحافة بواسطة بث تسجيلات صوتية بأعمال تجسسية، فطالت أبناء أربعة وزراء كما طالت رجال أعمال ومدير بنك من المؤيدين لحزب أردوغان. ومنذ ذلك التاريخ بدأ أردوغان بعملية التصفية للمنتسبين لهذه الجماعة.


5- أما موقف أمريكا من أتباعها في الفريقين؛ فقد انتقدت بشكل خفيف تصرفات أردوغان، ولكنها لم تقم بحماية تلك الجماعة لسببين رئيسين:


أولهما: إن ورقة أردوغان بالنسبة لها أهم بكثير من ورقة هذه الجماعة، فأردوغان هو في سدة الحكم ينفذ لها ما تشاء ويلعب دورا مهما لها في المنطقة، وإن انتقدها ببعض الكلمات ليظهر أنه مستقل، ولديه حزب سياسي فيه كوادر سياسية تتبع السياسة الأمريكية. أما جماعة غولان فهي ليست سياسية ولا تتقن العمل السياسي وأكثر ما قامت به هو عملية التنصت، ولا تعد من الأعمال السياسية، وإنما من الأعمال البوليسية والتجسسية. فالعمل السياسي هو أن تدخل المجتمع وتخوض غماره بأفكار سياسية لديك، وتبدأ تكافح النظام القائم فكريا وسياسيا، وتعرض برنامجك السياسي وحلولك السياسية، وتعمل لأن تصل إلى الحكم بواسطة الشعب بعدما تقنعه بأفكارك وآرائك وحلولك.


ثانيهما: إن أردوغان من أول يوم له بدأ يعمل مع أمريكا بعدما انفصل عن أربكان وشكل هو وعبد الله غول وآخرون حزب العدالة والتنمية حتى اليوم لم يتخل عن العمل معها. أما جماعة غولان فقد تقلبت من تأييد لعملاء أمريكا أوزال ودميريل وتشلر في الفترات السابقة إلى تأييد لعملاء الإنجليز من أربكان وأجاويد إلى السير في ركاب أمريكا وتأييد عملائها الحاليين، وفي آخر انتخابات محلية ورئاسية أيدت عملاء الإنجليز في حزب الشعب. ولذلك لا تثق بها أمريكا كثيرا فهي انتهازية تبحث عن مصلحتها وتحارب خصومها أو تنتقم منهم بوسائل غير سياسية وغير فكرية. ولذلك يبقى ترجيح أمريكا جانب أردوغان، وإن هي لا تريد أن تفلت جماعة غولان من يدها، ولهذا يقوم أردوغان بهذه الإجراءات ضدها بموافقة أمريكا.


6- أما موقف الإسلام من الفريقين؛ فهو رفضهما وعدم الانحياز لأحدهما وعدم دعم فريق ضد الثاني، بسبب تبنيهما ودعوتهما للأفكار العلمانية والديمقراطية وغيرها من الأفكار والدعوات الغربية التي تتناقض مع الإسلام. وكذلك بسبب تبعيتهما السياسية لأمريكا وتنفيذهما لخطتها، وبسبب محاربتهما للداعين إلى إقامة دولة الخلافة الإسلامية على منهاج النبوة والزج بهما في السجون طوال مدة تحالفهما. فهما على باطل وصراعهما على باطل، وصدق الله العظيم فيهما حين قال: ﴿وكَذَلِكَ نُوَلّي بَعْضَ الظّالمينَ بعضاً بِما كَانوا يَكْسِبُونَ﴾.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست