August 19, 2014

خبر وتعليق إلى أردوغان وأمثاله ومؤيديه


الخبر:


وكالات الأنباء والإعلام: انتخابات الرئاسة التركية وفوز رجب طيب أردوغان بها.

التعليق:


تتعلق وتتطلع الأغلبية الكاثرة من الأمة الإسلامية إلى عودة الإسلام إلى معترك الحياة وإدارة السياسة المحلية والإقليمية والدولية، وانتزاع العزة والسيادة لها، وليس رفع الذل والتذيل عنها فقط بين الأمم، بل وانتزاع موقع الصدارة والحضارة في العالم بحمل دعوة الإسلام للعالم بالدعوة والجهاد، ولذا نرى آمالها معلقة دائماً بإقامة أحكام الله وتحكيم الإسلام وتمكينه في أنظمة الحكم في هذه الدول الرأسمالية العلمانية المتسلطة عليهم، ونرى أنها أصبحت تدرك أن لا سبيل إلى عودة عزتها ومجدها إلا بإفراد الله بالعبادة، بإقامة حياة إسلامية يُفرد فيها الإسلام بالسيادة، ونرى أنها أصبحت تدرك أن العقبة الكأداء أمامها هي هذه الأنظمة المتسلطة في الدول التي أنشأها الاستعمار ونصب عليها عملاءه من الحكام والنخب السياسية، ولذا نراها تصارع هذه النظم وتلك الدول وهؤلاء الحكام ونخبهم وترفع راية الجهاد. ومن ثمَّ نراها أيضاً، وبهذه الآمال التي تملأ قلبها تتلهف أبناء الأمة الذين تشعر فيهم بحب الإسلام والمسلمين ويتصدرون صفوفها معلنين ذلك ومعبرين عن آمالها، نراها ترى فيهم وفي واقعهم ما تتمناه، ولا ترى حقيقة ما يقومون به بسوء نية أو حسنها. ولعل ما حدث في مصر من تولي محمد مرسي الرئاسة في مصر ودعم أهل الكنانة له، وما يحدث في تركيا بتولي أردوغان رئاسة وزراء تركيا ثم رئاستها نموذجاً لما نقول، وكلاهما، وغيرهما، كان ولا زال يدور مشروعه حول الإصلاح الاقتصادي وتحقيق الأمن والاستقرار!، ويرون ويرى الكثيرون معهم أن تحكيم الإسلام والتمهيد له وتمكينه يكون على هذا الأساس!.


والحقيقة القاطعة هي أن تحكيم الإسلام والتمهيد له وتمكينه ليس بزيادة الناتج القومي، كدليل على الإصلاح الاقتصادي، ولا بالأمن ولا بالاستقرار في ظل نظام جمهوري ديمقراطي رأسمالي يسمح بتطبيق الإسلام إذا سمح، هذا مع افتراض صحة أنه يمهد لتطبيقه!.


تحكيم الإسلام والتمهيد له لتمكينه يكون بالوعي على إقامة الحياة الإسلامية الكاملة الشاملة وحمل الإسلام دعوة للعالم بالدعوة والجهاد، وذلك بإقامة دولته، دولة الخلافة، مهما كانت الكلفة وليرجع من يشاء إلى بيعة العقبة الثانية حتى يدرك كيفية تحكيم الإسلام وتمكينه وإقامة دولته.


في بيعة العقبة الثانية، وتُسمى بيعة الحكم وتُسمى بيعة الحرب، قال العباس بن عبادة الأنصارى، مؤكدا البيعة فى أعناق الأنصار: يا معشر الخزرج هل تدرون علام تبايعون هذا الرجل، قالوا: نعم، قال: إنكم تبايعونه على حرب الأحمر والأسود من الناس، فإن كنتم ترون أنكم إذا أنهكت أموالكم مصيبة، وأشرافكم قتلا، أسلمتموه فمن الآن، فهو والله خزي فى الدنيا والآخرة إن فعلتم، وإن كنتم ترون أنكم وافون له بما دعوتموه إليه على نهكة الأموال وقتل الأشراف فخذوه، فهو والله خير في الدنيا والآخرة فأجاب الأنصار: نأخذه على مصيبة الأموال وقتل الأشراف، أبسط يدك يا رسول الله لنبايعك فبسط يده فبايعوه.


فلا أثر فيها لوعود لا بزيادة إنتاج ولا بأمن واستقرار، بل وعد بالجنة والجنة فقط!!.


وحتى إن كنت تبحث عن زيادة الناتج القومي، ومتوقع أنه سيزيد في دخلك ورفاهيتك أو حتى يحفظهما كما يروج أصحاب النظام الرأسمالي وكما يصوره سدنته ومثقفوه ونخبه، فلا تبحث كثيراً، فالذي يزيد فيه هو ثروات أصحاب رؤوس الأموال!، ثم يجمعونها جمعاً حسابياً ويقسمونها على عدد الأفراد، ويعلنون أن متوسط دخل الفرد زاد!، والحقيقة أن عدد الفقراء والمساكين هو الذي زاد وفقرهم يزداد نسبياً مع ارتفاع مستوى المعيشة وبخاصة معيشة أصحاب روؤس الأموال.


فلا يغرنك مشاهد السياحة التي تراها في تركيا، ولا عدد السياح، وانبهارهم، فما زال الكثير الكثير من أهل تركيا يعملون في أعمال وضيعة ومهينة في ألمانيا والنمسا وبريطانيا ومعظم أوروبا. مثلهم مثل الصينيين، برغم أن الصين لديها أعلى معدل نمو اقتصادي وناتج قومي، ولكن ما أكثر الباعة الجائلين منهم في شوارع وطرقات القاهرة وفي البيوت يطرقون الأبواب، أما معدل الفقر هناك فمرتفع!. ولو أردت المزيد، بل هناك الملايين في أمريكا نفسها من المشردين بلا مأوى في الشوارع!.


أما الأمن والاستقرار فهو بضاعة الفزع التي يروجها الغرب الكافر وعملاؤه، وإذا لم نفزع بالتهديد بفقدان الأمن والاستقرار المغموس بالذل والهوان ومعصية الله الصراح أذاقونا لباس الخوف والفزع على يد عملائهم.


راجعوا بيعة العقبة الثانية يا من تتصورون أن تجربة أردوغان إسلامية، برغم ولائه التام للعلمانية تصريحاً وتطبيقاً، وأجيبوا: هل عندكم استعداد لحرب الأسود والأحمر من الناس لحمل الإسلام ونشره؟!... هل عندكم استعداد أن تنهك أموالكم مصيبة وأحبابكم قتلاً من أجل ذلك وليس من أجل الشرعية الديمقراطية؟!... فوالله إن لم يكن عندكم هذا الاستعداد فهو خزي الدنيا والآخرة مهما زاد الناتج القومي والنمو الاقتصادي، ومهما كان عند حكامكم أمن واستقرار يدّعونه لكم وهو في حقيقته أمن واستقرار لأنظمتهم ولمعصيتهم ولخياناتهم فإنكم وهم تستبدلون الذي هو أدنى بالذي هو خير، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم وإنا لله وإنا إليه راجعون.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
علاء الدين الزناتي
رئيس لجنة الاتصالات المركزية في حزب التحرير / ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست