October 13, 2014

خبر وتعليق إلى متى السكوت عن نظام وظيفته الإجرام والسرقة يا أهل القوة في الأردن


الخبر:


أورد موقع جو 24 بتاريخ 2014/10/05م خبرا جاء فيه "عبّر النائب الأردني مصطفى العماوي عن استيائه من التصريحات التي جاءت على لسان رئيس الوزراء الدكتور عبد الله النسور خلال المؤتمر الصحفي الذي عقده للكشف عن حقيقة 'ذهب عجلون'.


وأشار العماوي أن المؤتمر أكد حقيقة كشف عنها في تصريحاته الصحفية تتمثل بالتغييب الكامل للحكومة عما يجري على الأرض، إضافة للتضارب الرسمي في التصريحات حول حقيقة الأمر، بخاصة ما جاء على لسان وزير الداخلية حسين المجالي والناطق الرسمي باسم الحكومة الدكتور محمد المومني.


وشدد العماوي على أن النسور لجأ في سبيل إخفاء الحقيقة عن الرأي العام إلى كل الوسائل المتاحة أمامه، بما في ذلك 'التصريح الخطير بأن الأردن في حالة حرب'.


وتساءل العماوي عن الصفة التي أطلق فيها النسور ذلك 'التصريح الخطير'، مشيرا إلى أن إعلان حالة الحرب لا يكون على هامش مؤتمر غير مخصص للحديث حول ذلك الأمر الجلل."


التعليق:


يأتي هذا التصريح من النائب مصطفى العماوي بسبب تحايل الدولة على الناس ممثلة في رئيس وزرائها الدكتور عبد الله النسور ووزير الداخلية حسين المجالي، ورئيس هيئة الأركان المشتركة الفريق أول الركن مشعل الزبن، ففي مؤتمر صحفي عقد للبحث في كنوز عجلون التي كثر الحديث عنها وعن تعاون أردني و(إسرائيلي) في استخراجها والتي قدرت بـ14 ملياراً، والتي استخرجت من قرية هرقلة على إثر الحفريات التي بدأ تنفيذها في 19 من شهر أيلول الماضي في أرض أحد المواطنين وتم إغلاق المنطقة وعدم السماح بدخول أحد إليها، وإغلاق الشارع الرئيس الذي يخدم 180 ألف مواطن.


فقد ذكر مشعل الزبن أن الحادثة أمنية، ترتبط بـ"إزالة أجهزة تجسس زرعتها إسرائيل في العام 1969، وتمت العملية بوجود خبراء إسرائيليين، وتحت إشراف القوات المسلحة الأردنية".، وهذه هي الرواية الرسمية الرابعة التي اختلفت تماما عن الروايات السابقة.


أما الرواية الأولى فقد صرح مصدر أمني أن "سبب الإغلاق جاء نتيجة حدوث انهيارات على جانب الطريق، ما يشكل خطرا على سلامة المواطنين وسالكي الطريق".


وأكد تلك الرواية الناطق الرسمي باسم الحكومة، د. محمد المومني إن "إغلاق طريق إربد-عجلون، عند إشارة ارحابا إلى إشارة صخرة، كان عبارة عن معالجة أمنية لانهيارات أرضية في تلك المنطقة".


أما الرواية الثانية فقد صدرت عن نائب محافظ عجلون رضوان العتوم، وصف ذلك بأنه "عمل خاص بالقوات المسلحة، ولأسباب تتعلق بتنفيذ إنشاءات، وليس كما تداوله البعض؛ بسبب العثور على ذهب".


أما الرواية الثالثة فهي تصريحات وزير الداخلية، حسين المجالي، خلال لقاء لجنة النزاهة والشفافية النيابية، والتي أكد فيها "أن ما تم من أعمال حفر وإنشاءات، كان عبارة عن إجراءات عسكرية خاصة، لغاية إنشاء منظومة اتصالات ورادارات وإنذار مبكر، تربط القيادة العامة للقوات المسلحة بالمنطقة العسكرية الشمالية".


هذه الروايات المتضاربة تؤكد وجود أزمة ثقة بين الشعب والدولة في الأردن خاصة وأن الشعب يعرف العديد من قصص استيلاء الأمير حسن على صناديق الذهب العثماني والروماني التي يجدها بعض المواطنين هنا أو هناك، ومهما حاول رجال الدولة أن ينفوا الخبر فإن الناس لن يصدقوا ذلك، بل تجعل الشكوك تزداد أكثر حول كل من ينفي هذه الأخبار بأنه وصله مقدار من المال غص به حلقه فلم يعد يتكلم، في محاولة لتغطية الدولة على عصابة اللصوص الذين يحكمون البلد ويتسابقون في نهب ثرواتها، بل أصبح الناس يتساءلون عن سكوت صاحب الأرض وعدم سماع صوته، بل إن الفيديو الذي قامت بتصويره الدكتورة النائبة رولا الحروب سحب منها بطريقة ساذجة حسب تفسيرها، والذي أكدت فيه شهادة امرأة تسكن قريبا من الأرض التي تم فيها الحفر تؤكد أنهم استخرجوا ذهبا..


وسرقة الذهب ليست إلا شيء قليل مما يسرقة حكام الأردن ومن حولهم من المنتفعين، فقد تم سرقة الفوسفات والبوتاس والإسمنت والبترول والغاز والفحم الحجري والنحاس والحديد والمغنيسيوم، إضافة إلى المواد التي يجري استخراجها في الخفاء كاليورانيوم وغيره من العناصر الثمينة، إضافة إلى بيع المؤسسات العامة بثمن بخس كالكهرباء والمياه والاتصالات والمستشفيات والأراضي والمعسكرات التابعة للجيش وغيرها...


والدولة تراقب جيوب المواطنين كاللص الذي يراقب منزلا فيدرس مداخله ومخارجه ويتحين الفرص لاقتحامه وسرقته، فإذا ما أنفق الناس مبالغ على أعراس أولادهم وقدموا المناسف، قال مراقبو الدولة إن الناس شبعانين وعظامهم ذهب يجب أن نمتص نخاع عظامهم من الداخل، وإذا ذبحوا 250 ألف أضحية، وأنفقوا 3 ملايين دينار على الطعام في عيد الأضحى صار عندهم يقين بأن الشعب لا زال عنده شيء قابل للسرقة!!


وقد جاء الحديث عن كنوز الذهب متزامنا مع مشاركة الأردن في الحرب على المسلمين في سوريا عن طريق سلاح الجو الذي لم نره يوما قد أغار على عدو للأمة، وبالأمس كانت غزة تستغيث ولا مغيث لها وسلاح الجو رابض مكانه لم يحرك ساكنا، واليوم نراه يغير على بلد يعيش فيه مسلمون ثاروا على حكم بعثي علماني علوي كافر، يريدون تحرير أنفسهم من التبعية للغرب الصليبي الحاقد، وتطبيق شرع ربهم في حياتهم، فما كان من الأردن إلا أن أغار بطائراته ليعمل في المسلمين ذبحا وتنكيلا واضعا نفسه في صف أعداء الأمة، مستبيحا حرمة دمائها تماما كما استباح تنظيم الدولة دماء المسلمين وأموالهم في سوريا والعراق، لكن الفرق بينهما أن تنظيم الدولة استباح الدماء والأموال ربما متأولا، بينما تستبيح الدولة الأردنية دماء المسلمين في سوريا وأموال المسلمين في الأردن ظلما وعدوانا..


فإلى متى السكوت عن نظام وظيفته الإجرام والسرقة... يا أهل القوة في الأردن؟


إن كل جريمة ترتكبها الدولة إثمها في رقابكم، تحاسبون عليها يوم القيامة.. وإن كل سرقة تتم سواء بالقانون أو خارج القانون إثمها في رقابكم تحاسبون عليها يوم القيامة، فأعدوا جواب السؤال لله، وتأكدوا أنه لن يجيركم من عذاب الله إلا طردُ هذه الزمرة الفاجرة وخلعها من الحكم ومبايعة خليفة يحكم بالكتاب والسنة.


كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
نجاح السباتين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست