خبر وتعليق   كفى  تآمراً وخداعاً وتحدياً لعقيدة ومشاعر أمة المليار والنصف
خبر وتعليق   كفى  تآمراً وخداعاً وتحدياً لعقيدة ومشاعر أمة المليار والنصف

الخبر: داوُد: الاعتداء على المسجد الأقصى خط أحمر لا نقبل المساس به أكد وزير الأوقاف والشؤون والمقدسات الإسلامية الدكتور هايل داوُد أن أي اعتداء أو اقتحام للمسجد الأقصى المبارك/ الحرم القدسي الشريف هو إجراء مرفوض رفضا تاما من المملكة حيث إن المسجد الأقصى خط أحمر لا نقبل المساس به تحت أي ظرف أو موقف، إذ إن هذه المقدسات الإسلامية تحت الوصاية الهاشمية. وأدان داوُد في اتصال هاتفي لوكالة الأنباء الأردنية (بترا) مساء اليوم الخميس أن إغلاق سلطات الاحتلال اليهودي عددا من أبواب المسجد الأقصى المبارك / الحرم القدسي الشريف في وجه المصلين المسلمين والسماح باقتحام المتطرفين والمستوطنين للمسجد الأقصى تحت حماية جنود وشرطة الاحتلال يشكل خرقا للاتفاق والمعاهدات بين الطرفين. وأكد رفض الأردن المطلق لهذه الإجراءات محذرا من محاولات استمرار تغيير الأمر الواقع من قبل الاحتلال خلافا للقانون الدولي والإنساني، والأردن حريص على حماية المقدسات انطلاقا من مسؤولياته، علما بأن الأردن أخطر السلطات اليهودية أكثر من مرة من خطورة الاعتداء على هذه المقدسات لما تشكله هذه الاعتداءات من تهديد لاستقرار المنطقة وأمنها. التعليق: في الثاني من شهر آب/أغسطس الحالي قام وزير الأوقاف الأردني بفصل ثلاثة حراس من حراس المسجد الأقصى وفي سياق ما ورد في "موقع الجزيرة نت" أن حراس الأقصى ذكروا بأن داود أوعز بفصل عددٍ آخر قد يتجاوز الثلاثين حارساً ممن تتهمهم الدوائر الأمنية اليهودية بأنهم يواجهون اقتحامات المتطرفين اليهود، وهو ما نفاه الوزير الأردني، وبعد ثلاثة أيام في الخامس من شهر آب/أغسطس قامت أجهزة كيان يهود باعتقال ستة من حراس الأقصى ونشرت حينها "الخليج أونلاين" عن مصادر مطلعة داخل المسجد الأقصى المبارك، بوجود مساعٍ أمنية يهودية خلال الأيام القادمة للتعامل بتعنت مع حراس المسجد الأقصى، أو المرابطين داخل المسجد، الذي يمثل أولى القبلتين بالنسبة للمسلمين. وقد صرح الشيخ عكرمة صبري، خطيب المسجد الأقصى المبارك أن "ما يجري داخل المدينة المقدسة ومحيطها؛ من الاستيلاء على مبان فلسطينية وهدم أخرى، هو ضمن مخطط يهودي عنصري مدروس لحصار المسجد الأقصى وتضييق الخناق عليه". وقال إن "المخططات الإسرائيلية في هذا الجانب تنشط وبشكل كبير وخاصة في الفترة الأخيرة، وجرى الاستيلاء على عدد كبير من المباني والمنشآت الفلسطينية المحيطة بالمسجد الأقصى..." وكشف أيضاً أن الاحتلال سيشرع خلال شهور قليلة بإقامة كنس يهودية ذات طابع رسمي داخل ساحة البراق المحيطة بالمسجد الأقصى. وبالأمس أعلن وزير الأوقاف والشؤون والمقدسات الإسلامية هايل الداود، عن وجود فرص عمل في حراسة المسجد الأقصى، وأضاف أن الأردن ومن خلال وزارة الأوقاف المعنية بتنفيذ الوصاية الأردنية، تقوم عبر 850 موظفاً، بينهم 300 حارس بحماية المسجد الأقصى، وحفظ أمنه، رغم مواصلة الاقتحامات اليهودية وأشار الوزير إلى أن الأردن يتوجه لتعزيز حراس المسجد الأقصى بـ 200 حارسٍ إضافيّ، ينضمون إلى الـ 300 الحاليين، ليصبح العدد الإجمالي 500. وحول إمكانية إرسال جنود أردنيين لحراسة المسجد الأقصى، قال الوزير إن هذه مسألة تعود للقنوات الرسمية الدبلوماسية، وللسياسة العامة للدولة وللقوات المسلحة.   ويوم الخميس 2015/08/27م نشرت بعض المواقع الإخبارية وتحت عنوان - الاحتلال يبدأ تقسيم الأقصى زمنياً - بعد منع المصلين من دخول المسجد الأقصى حتى الساعة الحادية عشرة ولليوم الرابع على التوالي ومنعهم من المكوث أكثر من ساعة داخل المسجد بعد حجز بطاقات المصلين، فرضت شرطة الاحتلال الخاصة التي تتولى حراسة وحماية المستوطنين خلال جولاتها الاستفزازية في الأقصى، إجراء جديدا يتمثل بالطلب من حراس المسجد الابتعاد عن المستوطنين مسافة لا تقل عن 29 مترا، تحت طائلة الملاحقة والاعتقال والإبعاد لكل حارس يخالف أوامر وتعليمات الشرطة. واقتحم أكثر من 100 مستوطن يهودي المسجد الأقصى المبارك بينهم 90 ممن يسمون \'طلاب من أجل الهيكل\'، و15 مستوطنا يهوديا، وسبعة عناصر من مخابرات الاحتلال. وعلى المواقع الإخبارية نفسها نقرأ الخبر التالي - توظيف علني للأردنيين في إسرائيل - حيث أعلنت إحدى شركات التوظيف الأردنية عن شواغر وظيفية للذكور والإناث في فنادق إيلات المحتلة، مؤكدة أن كل ما تقوم به مرخص ورسمي... وتطلب الشركة من الموظف بعد الموافقة الأولية عليه عدة أوراق ليتم التأكد رسمياً من الجهات المختصة بالأردن حول صلاحية توظيفه في إيلات. فأي حماية تدّعون للأقصى وقطعان المستوطنين تدنسه كل يوم، وأي حماية للأقصى ومن يتصدى ليهود من الحراس يفصل ويلاحق أو يبعد ويعتقل إذا اقترب أقل من 29 مترا من عصابات يهود، وأي حماية للأقصى وجنودنا لا يستطيعون الوصول إليه لأن المسألة تعود للقنوات الرسمية الدبلوماسية، وللسياسة العامة للدولة وللقوات المسلحة كما قال الوزير، وأي حماية للأقصى والتعاون الأمني والعسكري على أحسن ما يكون لدرجة وصفه بالطفرة بين الأردن وكيان يهود بعد أن تحدثت تقارير يهودية وأمريكية عن نقلة نوعية في العلاقات العسكرية بين كيان يهود والمملكة الأردنية، تمثلت في بيع الكيان طائرات متقدمة من دون طيار لسلاح الجو الأردني، فضلا عن أنباء عن تزويد طائرات يهود للمقاتلات الأردنية بالوقود، خلال رحلتها إلى الولايات المتحدة للمشاركة في مناورة (ريد فلاج)، وهي الخطوات التي تصفها المصادر بالتاريخية، وكانت تقارير تحدثت سابقا عن بيع كيان يهود مروحيات عسكرية كانت قد خرجت من الخدمة في سلاح جو الكيان قبل سنوات، لسلاح الجو الأردني. كفاكم خداعا وتضليلا فقد سقطت أقنعتكم واتضحت أبعاد المؤامرة فبعد تسليم فلسطين ليهود ومحاصرة من بقي من أهل فلسطين في بلادهم وإذلالهم بأيدي سلطة صنعت على يد أمريكا وكيان يهود، ها هي بداية خطوات تقسيم المقدسات زمانيا وبعد فترة مكانياً لإقامة الهيكل المزعوم مستغلين الظرف الدولي الحالي ومحاربة ما يزعمونه إرهاباً رعاه وصنعه الغرب. وبعد أن استطاعت هذه الأنظمة التقاط أنفاسها وإحكام قبضتها الأمنية وظنها أنها استطاعت ترويض وكسر إرادة الأمة بالملاحقة والاعتقال والمحاكم التي تحكم بقوانين صيغت لحماية أنظمتهم ومنع حتى محاسبتهم بالكلمة ومساجد البلاد تشهد على ذلك. المسجد الأقصى وفلسطين كلها وبلاد المسلمين كلها لن يحررها ولن يطهرها من نجس يهود وقذارة أمريكا والغرب وأعوانهم إلا كيان سياسي يتمثل فيه سلطان الأمة وإرادتها وسيادة شرع ربها، يمتلك مشروعا نهضويا لتحرير العباد من عبادة العباد، لعبادة رب العباد ولا يكون هذا إلا بإقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة كما أقامها رسول الهدى محمد عليه وعلى آله أفضل الصلاة والتسليم.     كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرحاتم أبو عجمية / ولاية الأردن

0:00 0:00
Speed:
August 30, 2015

خبر وتعليق كفى تآمراً وخداعاً وتحدياً لعقيدة ومشاعر أمة المليار والنصف

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست