خبر وتعليق   خطاب أوباما واستراتيجية محاربة الإرهاب والدولة الإسلامية
September 13, 2014

خبر وتعليق خطاب أوباما واستراتيجية محاربة الإرهاب والدولة الإسلامية


الخبر:


- i24news: يلقي الرئيس الأميركي، باراك أوباما، اليوم الأربعاء، خطاباً يحاول من خلاله حشد تأييد الرأي العام الأميركي لدعم خططه لمحاصرة وتقويض تنظيم "داعش".


- الوقائع الإخبارية: بدء اجتماع "جدة" الإقليمي بحضور الأردن


بدأ اجتماع تستضيفه المملكة العربية السعودية، ظهر اليوم الخميس، في مدينة جدة، بمشاركة أمريكا و11 دولة عربية من بينها الأردن، إضافة إلى تركيا.


ويبحث المجتمعون سبل مكافحة تنظيم الدولة الإسلامية 'داعش'، وتوسيع التحالف الدولي للتصدي للتنظيم الذي شكلته الولايات المتحدة الأمريكية ويضم حتى الآن 10 دول أوروبية.


وتسعى أمريكا لإقناع الدول العربية ذات الأغلبية السنية بالانضمام للتحالف ودعمه


التعليق:


منذ وجد مصطلح الإرهاب عالميا والمقصود به عند الغرب وعملائهم الإسلام، وعندما حصلت أحداث 11/ أيلول ترسخ أن الحرب على الإرهاب تعني الحرب على الإسلام، وبقي الأمر كذلك ويزداد منسوبه وينخفض حسب الأحداث السياسية ومفهوم الربح والخسارة (القتل) عند أمريكا، وعندما قرر أوباما حينها الترشح للانتخابات وعد ناخبيه بسحب الجنود الأمريكيين من أفغانستان والعراق، وبالفعل نفذ الوعد إلا أن الأحداث لم تسعفه، فكانت الولاية الثانية متزامنة تقريبا والربيع العربي التي حاولت الأمة الإسلامية به الصحوة من كبوتها بل من سباتها العميق، وبالفعل اندهش العالم مما يحصل في العالم الإسلامي، وما إن حصلت ثورة الشام المباركة واحتضانها راية العقاب ومشروع الأمة وإعادة الخلافة حتى جُنًّ جنون الغرب وعملائهم وارتبكت المنطقة وتم خلط الأوراق ولم يستطيعوا إيجاد بديل لبشار ولا إنهاء الثورة.


وبقي الأمر بين مدٍ وجزر وخلط أوراق وصراع ومناكفات سياسية حتى تم إعلان "خلافة الموصل" أو ما سمي بالدولة الإسلامية على قسم من أرض العراق والشام، وأوجدت ظروف وملابسات لا يتسع المجال للحديث عنها، وعندما تجذرت فكرة الخلافة على منهاج النبوة واحتضان الثوار المخلصين لها وأصبح لها رأي عام، لم تجد أمريكا بُداً من إعلان استراتيجية أوباما لضرب ثورة الشام المباركة وإيجاد بديل لبشار على غرار بديل المالكي بحيث يكون مقبولاً عند أهل الشام والمنطقة وتهيئ له من القوة والأسباب ما يحميه، فكانت أخطاء تنظيم "الدولة الإسلامية" وما شاع عنه من تقتيل وتهجير واعتداء على الناس والممتلكات، تلك الحجة والشماعة التي علقت أمريكا عليها قرارها الاستراتيجي بين عشية وضحاها لضرب تنظيم الدولة وبالفعل ابتدأ الأمر ولقي قبولا واستحسانا، وطلب الائتلاف السوري من أمريكا ضرب التنظيم في سوريا مثلما فعلت بالعراق، وبالفعل اتخذ أوباما قرارا بذلك وحشد له رأيا عاما داخليا وخارجيا، وأغرى إحدى عشرة دولة عربية وبلداً إسلامياً واجتمعوا بجدة (السعودية) للبدء باتخاذ قرارات توازي قرارات واستراتيجية أوباما لمقاومة تنظيم الدولة حاليا وأعطوه فترة قد تمتد إلى ثلاث سنين وتزيد، وهنا نرى أن بيت القصيد يكمن والمطلوب رأس ثورة الشام ومخلصوها وقتل مشروع الخلافة أي مشروع الأمة الذي ترى أمريكا ومراكز دراساتها أنها أصبحت قاب قوسين أو أدنى، ولذا نرى أن تضخيم قوة وحجم تنظيم الدولة إلى هذا الحد من إيجاد تحالف دولي من أكثر من أربعين دولة، والطلب من مجلس الأمن والجامعة العربية اتخاذ قرارات تخدم استراتيجية أوباما في مقاتلة مشروع الأمة الإسلامية والتي عبَّر عنه قادة الغرب قبل الربيع العربي بالإمبراطورية الإسلامية من المحيط إلى الخليج وحتى قبل وجود ذاك التنظيم الحدث، ومن يرى الدول العربية وخصوصا السعودية والأردن يشاركون وبقوة في ذاك التحالف ليدلل على عمق الاستراتيجية الأمريكية والغربية لمحاربة مشروع الأمة وخلافتها على منهاج النبوة، وأن ذاك التحالف لا يعقل أن يستدعيه تنظيم عمره لا يزيد عن سنوات وقوته محدودة ومناصروه كذلك، وناهيك أن إعلانه للخلافة لم يلق من الأمة الإسلامية وعلمائها المخلصين من القبول ما يوجد رأيا عاما له ومناصرته، بل على العكس من ذلك فإنه لاقى صدودا سواء في العراق أو في الشام، بل وكل العالم الإسلامي، وكذلك من أبرز الأحزاب الإسلامية الذي نذر نفسه لمشروع الأمة وخلافتها، ألا وهو حزب التحرير الذي اعتبرها خلافة "لغواً" وأن بيعتها لم تستوف الشروط الشرعية ولم يبايعها أو يعيرها اهتماماً كبيراً، رغم نصحه لها بأن تصحح ما وقعت به من أخطاء وتتوب إلى الله تعالى عما فعلت سابقا من مقاتلة لفصائل إسلامية لمجرد الاختلاف بالرأي.


وهنا ننهي بالقول أن القرارات الاستراتيجية التي اتخذها أوباما مؤخرا ومجلس الأمن والجامعة العربية ومؤتمر جدة تعني ما يلي:


- تحجيم تنظيم الدولة على أرض العراق والشام والمحافظة عليه وبقائه تحت السيطرة.


- عدم إنهاء تنظيم الدولة على شاكلة ما حصل مع طالبان أفغانستان.


- ضرب التنظيم بالشام وإيذاؤه ليتسنى ضرب بقية التنظيمات الإسلامية المخلصة وإنهاؤها.


- إضعاف بشار ونظامه وإيجاد بديل مناسب ويرضى عنه الناس ورفض التعامل معه وتحجيم دور إيران بالشام وكذلك حزب إيران.


- إبقاء التحالف الاستراتيجي قائما ومتحفزا لضرب أي تحرك مخلص للأمة ينوي إعادة دولة الخلافة على منهاج النبوة.


وإنا نرجو الله تعالى أن يرد كيد أمريكا وعملائها إلى نحرها، وأن يكون وعي الأمة ومخلصوها مقتلاً لكل من يتآمر على الأمة الإسلامية.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
الأستاذ وليد نايل حجازات (أبو محمد) - ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست