خبر وتعليق    خطاب نتنياهو أمام الكونجرس الأمريكي
March 09, 2015

خبر وتعليق خطاب نتنياهو أمام الكونجرس الأمريكي


الخبر:


نقلت وسائل الإعلام الخطاب التاريخي لرئيس وزراء كيان يهود بنيامين نتنياهو أمام الكونجرس الأمريكي محذّرا من مخاطر الاتفاق مع إيران، بشأن ملفّها النووي.


جاءت زيارة نتنياهو إلى واشنطن بدعوة من الرئيس الجمهوري لمجلس النواب جون باينر، دون التشاور بشأنها مع الإدارة الديمقراطية ما أثار غضب البيت الأبيض. وفي ظل هذا الخبر تحدثت وسائل الإعلام عن توتر العلاقات بين أمريكا وكيان يهود.

التعليق:


أود تناول هذا الخبر من أكثر من جانب:


أولا: يقول المحلل في مجلة "فورين بوليسي"، آرون ديفيد ميلر، أن البيت الأبيض يعمل في صمت لزعزعة رئيس وزراء كيان يهود قبل الانتخابات المقبلة هناك. وعليه يندرج الخطاب هذا ضمن الدعاية الانتخابية لنتياهو.


ثانيا: ربما يكون الجمهوريون قد قاموا بفعلتهم هذه لأهداف انتخابية تخصهم، إلا أنه وحسب مسؤول سابق في "آيباك"، فإن "تحول نتنياهو نحو الجمهوريين أغضب آيباك، وليس الديمقراطيين فقط. وأن كل يهودي عضو في الكونغرس، باستثناء واحد فقط، هو ديمقراطي، بل ديمقراطي ليبرالي".


ثالثا: إن توترا مثل هذا ليس الأول في تاريخ العلاقة بين أمريكا وكيان يهود.


ففي عام 1956 أدان الرئيس الأميركي دوايت أيزنهاور العدوان الثلاثي الذي قادته دولة يهود على مصر واحتلت على إثره شبه جزيرة سيناء وقطاع غزة.


وفي عام 1967 توترت العلاقة بين الولايات المتحدة وكيان يهود، إثر هجوم القوات الجوية لدولة يهود على المدمرة الأميركية (ليبرتي).


وفي عام 1975 هددت إدارة الرئيس جيرالد فورد بإعادة تقييم العلاقات مع كيان يهود ما لم توقع على اتفاقية "فك اشتباك" مع مصر لتنسحب من سيناء.


وفي عام 1982 عبر الرئيس رونالد ريغان لرئيس الوزراء اليهودي مناحم بيغن، عن غضبه من قصف كيانهم لبيروت خلال اجتياح لبنان.


وفي عام 1991 ضغط الرئيس جورج بوش الأب على دولة يهود لعدم المشاركة في حرب الخليج الأولى خشية أن يسبب هجومها على العراق تفكك التحالف الذي تقوده الولايات المتحدة.


وفي عام 2004 قال جورج بوش الابن في خطاب موجّه لرئيس وزراء كيان يهود حينها أرئيل شارون إن المراكز السكانية الكبرى تجعل التوقعات بعودة كيانهم لخطوط الهدنة لعام 1949 غير واقعية.


وفي عام 2010 أعربت إدارة الرئيس باراك أوباما عن غضبها من دولة يهود لإعلانها بناء مزيد من المنازل الاستيطانية حول القدس.


وفي عام 2012 شهدت العلاقات الأميركية اليهودية أزمة تعكس حالة من عدم الثقة بين كل من أوباما ونتنياهو وازدادت توترا مع سنة 2013 و2014 على خلفية تعطّل مفاوضات السلام والنووي الإيراني.


رابعا: رغم وجود توتر كهذا بين أمريكا ودولة يهود، أو قل بين أوباما ونتنياهو، فإن هذا لا يزعزع العلاقة الجوهرية بين البلدين، فالقيادات تتبدل ولكن دعم أمريكا لها يبقى ثابتا. وحتى في ظل قيادة أوباما، فقد تعززت علاقات كيان يهود وأميركا بدرجة غير مسبوقة، ونذكر بعض الأمثلة على ذلك:


- الدعم السنوي الأمريكي لدولة يهود والذي يصل إلى نحو 3.1 مليارات دولار سنوياً لم يتوقف، ناهيك عن مساعدات نظام القبة الحديدية وتطوير الأنظمة الدفاعية.


- وصلت صادرات السلع الأميركية إلى دولة يهود عام 2014 إلى نحو 15 مليار دولار، أي بزيادة 64٪ عن عام 2004.


- أقر جون كيري بأن لدى أمريكا علاقات أمنية مع دولة يهود أقوى من أي وقت مضى، وأن أمريكا قامت بالتدخل مئات المرات بالنيابة عن دولة يهود في العامين الماضيين.


- قال نعوم شومسكي في مقابلة تلفزيونية معه بأن البنتاجون قام بتحديد المواقع حول العالم التي يجب على أمريكا حمايتها مهما بلغت التكلفة، ومن هذه المواقع مدينة حيفا وما حولها.


خامسا: يرى بعض المحللين أن دولة يهود لا تخشى من امتلاك إيران قنبلة نووية، لأن لديها أكثر من 200 رأس نووي، الأمر الذي يضطر إيران إلى التفكير ألف مرة قبل الشروع في استعمال سلاح مماثل ضدها، إلا أن إظهار تخوّفها من إيران "نووية" ذريعة لابتزاز الولايات المتحدة على جميع المستويات لأغراض مالية وعسكرية وسياسية. ففي السنوات الأخيرة ازدادت الأصوات المنادية بمراجعة الدعم الأمريكي لدولة يهود. فإليوت أبرامز، نائب مستشار الأمن القومي السابق للرئيس جورج دبليو بوش والكاتب المؤيد لدولة يهود، قال لديلي بيست: "وجهة نظري هي أن العلاقة ستكون صحية أكثر إذا ما تضاءلت المساعدات الأمريكية (لإسرائيل). يجب على (إسرائيل) أن تكون أقل اعتمادًا على المساعدات المالية الأميركية، وينبغي أن تصبح الولايات المتحدة حليفًا من نوع حلفائنا في أستراليا، وكندا، أو المملكة المتحدة: علاقة عسكرية حميمة وتحالف، ولكن لا مساعدات عسكرية". وقد ذكرت صحيفة وول ستريت جورنال الأمريكية، في آب/أغسطس 2014، أن الولايات المتحدة ألغت توريد صواريخ هيلفاير لدولة يهود، وأن مسؤولين أمريكيين يطالبون الآن بمراجعة طلبات الأسلحة في دولة يهود. وفي يوليو 2014 ذكرت بعض الصحف أنه في ظل انتعاش اقتصاد دولة يهود يتساءل بعض أنصارها عن سبب استمرار الدعم المالي الأمريكي لها. كما يتساءل المواطن الأمريكي لماذا تذهب أموال ضرائبه لدعم دولة يهود، بدلا من صرفها محليا على التعليم والصحة، حيث إن دولة يهود قد أخذت من أمريكا ما يزيد على 121 مليار دولار منذ إعلان تأسيسها، إضافةً إلى دعم حوالي 25 في المئة من ميزانية الدفاع السنوية في دولة يهود في السنوات الأخيرة.


وأختم بقول إفتير كوهين البروفيسور في أبحاث الانتشار النووي في معهد الدراسات الدولية في منوتري بولاية كاليفورنيا "إن الاتفاق المطروح (يقصد النووي الإيراني) ليس سيئاً بالنسبة إلى (إسرائيل)، الدولة النووية الوحيدة في الشرق الأوسط، لكنه سيئ جداً بالنسبة لنتنياهو. فتوقيع الاتفاق سيسمح لسكان (إسرائيل) بالعيش خلال جيل أو أكثر من دون تهديد بخطر وجودي من جانب إيران، لكنه سينزع من نتنياهو علة وجوده كزعيم".



كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
غسان الكسواني - بيت المقدس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست