خبر وتعليق - كيف يمكن لنظام أن يعتبر ناجحا فيما يعيش أكثر من 2 مليون من أطفاله في منازل يتعرضون فيها لخطر الأذى؟
خبر وتعليق - كيف يمكن لنظام أن يعتبر ناجحا فيما يعيش أكثر من 2 مليون من أطفاله في منازل يتعرضون فيها لخطر الأذى؟

خبر وتعليق - كيف يمكن لنظام أن يعتبر ناجحا فيما يعيش أكثر من 2 مليون من أطفاله في منازل يتعرضون فيها لخطر الأذى؟

0:00 0:00
Speed:
July 12, 2018

خبر وتعليق - كيف يمكن لنظام أن يعتبر ناجحا فيما يعيش أكثر من 2 مليون من أطفاله في منازل يتعرضون فيها لخطر الأذى؟

خبر وتعليق

كيف يمكن لنظام أن يعتبر ناجحا فيما يعيش أكثر من 2 مليون من أطفاله

في منازل يتعرضون فيها لخطر الأذى؟

(مترجم)

الخبر:

في 3 تموز/ يوليو، نشر مفوض الأطفال تقريراً أساسيا كشف أن 2.1 مليون طفل في إنجلترا، أي ما يعادل طفلاً واحداً من كل 6 أطفال في البلاد، ينشؤون في عائلات حيث يتعرضون لخطر الأذى. يعيش 825000 من هؤلاء الأطفال في منازل كانت تشهد العنف المنزلي؛ تعرض 470000 طفل للإساءة من قبل أهل مدمنين للكحول أو المخدرات أو غير ذلك من المواد؛ وعاش 100000 مع عائلة تستخدم "الثلاثي السام" وعانوا من مشاكل في الصحة العقلية والعنف المنزلي والإدمان على الكحول والمخدرات؛ 470 ألفا كانوا يعيشون حرمانا ماديا. وذكر التقرير أيضا أن 1.6 مليون طفل في هذه الأسر التي يتعرضون فيها لخطر شديد تُركوا كي "يدافعوا عن أنفسهم"، دون مساعدة من السلطات أو غيرهم للتعامل مع ظروفهم المأساوية. ووفقًا للبيانات التي نشرتها وزارة التعليم في بريطانيا في أيار/مايو من هذا العام، كان هناك 646.120 طفلًا تم تحويلهم إلى دوائر الخدمات الاجتماعية في إنجلترا وويلز في 2017/2016 بسبب سوء المعاملة أو الإهمال - وهو ما يمثل إحالة واحدة كل 49 ثانية. ووصفت آن لونغفيلد، مفوضة شؤون الأطفال في بريطانيا، الوضع المزري بأنه "التحدي الأكبر للعدالة الاجتماعية في عصرنا"، مضيفةً: "نحصل على المجتمع الذي نختاره، وفي الوقت الحالي نحن في وضع نختار فيه المقامرة بمستقبل مئات الآلاف من الأطفال".

التعليق:

اختارت المناقشات السياسية والإعلامية فيما يتعلق بتسليط الضوء على سبب هذا الوضع القاسي، التركيز على عدم وجود تمويل حكومي مناسب لخدمات الأطفال، ما يجعلهم غير قادرين على تقديم الدعم الفعال وحماية هؤلاء الأطفال الذين يعانون في هذه البيوت "الخطيرة". وقد تم تقليص الإنفاق على هذه الخدمات بنحو مليار جنيه إسترليني في السنوات الست الماضية، ما دفع المؤسسات الخيرية للتحذير من أن السلطات المحلية تحاول تقديم خدمات الأطفال الحيوية "بتساهل شديد". بينما الصحيح أن هذه التخفيضات الحكومية الحادة تؤثر بشكل مباشر على قدرة المجالس المحلية على تقديم المساعدة إلى هؤلاء الأطفال الضعفاء - وهو في حد ذاته إدانة لعدم اهتمام أولئك الذين يحكمون البلاد برفاهية صغارهم - وهذا ما يشرح ما يدفع باتجاه الارتفاع القياسي لمستويات هذه الكارثة الإنسانية.

إن التركيز على الجانب الاقتصادي لهذه المشكلة يبرز الجانب السلبي للحقيقة الواضحة القائلة بأن القيم السائدة وأنماط الحياة والقوانين داخل الدول الليبرالية العلمانية الرأسمالية هي السبب الرئيسي لهذا الدمار المجتمعي... وهذا ليس مفاجئاً! لأنك إذا كنت تروج للحريات الليبرالية التي تحتفي بحق الأفراد في العيش في أساليب حياة سعيدة، وتدعو إلى تقديم المتعة على كل شيء، تحت الشعار المسموم "عش الحياة إلى أقصى الحدود"، فلا تفاجأ إذا ما تسببت في انتشار وباء الكحول وإدمان المخدرات وكذلك رعاية الأفراد الذين يهتمون قليلا برفاهية أطفالهم. وإذا ما كنت تقدس السعي وراء النزوات الفردية والرغبات في إطار الحريات الجنسية، التي تؤدي إلى إذلال المرأة وإهانتها بشكل منهجي من خلال اعتبارها شيئا من الأشياء في المجتمع، فلا تندهش إذا رأيت تسونامي من العنف المنزلي في المنازل. وإذا كنت تحكم بنظام تُشرع فيه القوانين من قبل العقول المحدودة والضعيفة والمتقلبة للبشر فلن تفاجأ إذا ما ساهمت بذلك في خلق جبل من المشاكل الاجتماعية والاقتصادية والسياسية المستعصية التي تمزق حياة الأفراد والأطفال على حد سواء دون تقديم حل سليم يؤدي إلى إنقاذهم من بؤسهم.

للأسف، فإن أسرنا وبيوتنا، بصفتنا أمة مسلمة، تتبع الاتجاه الرهيب نفسه لإساءة معاملة أطفالنا، وإهمالهم، وإيلامهم، وبؤسهم، بعد أن عانت من المشاكل الإنسانية نفسها الموجودة في الغرب. ويرجع ذلك إلى احتكامنا إلى ذات القيم والنظم الليبرالية والعلمانية والرأسمالية الفاسدة المفسدة التي بيعت لنا من قبل الحكومات والمنظمات والمعاهد الغربية في حين أخفت آثارها الفاسدة عن المجتمعات. ونحن كمؤمنين، علينا أن نتذكر كلام ربنا سبحانه وتعالى في سورة التين: ﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ * ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ * إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ﴾.

حان الوقت بالتأكيد، لأن نفتح أعيننا وندرك بأن إنقاذ مجتمعاتنا وبلادنا المسلمة من هذه الكارثة المجتمعية يتطلب رفض هذه القيم والأنظمة الغربية والعودة إلى القيم السامية والأحكام والقوانين الإسلامية وجعلها الحكم الذي نحتكم إليه في أنفسنا وأهلينا وأنظمة حكمنا. في الواقع، وحدها طريقة الإسلام في العيش هي التي تخلق عقليات أساسها التقوى - استشعار رقابة الله تعالى - ما يجعلها ترفض أنماط الحياة والمعتقدات القائمة على أساس المتعة؛ وتشكل أعمال الفرد وتجعلها قائمة على طاعة الله وحده؛ وتغذي إحساسًا كبيرًا بالمساءلة في أفعال المرء، بما في ذلك كيفية تعامل المرء مع أطفاله وتربيتهم، نظرًا لمعرفته بأن كل عمل سيكافأ أو يعاقب عليه في الآخرة. إن النظام الإسلامي وحده، الذي تطبقه الخلافة على منهاج النبوة، حيث كل حكم وقانون هو من رب العالمين سبحانه وتعالى، خالق البشر والعالم بأحوالهم وما هو لصالحهم، هو صاحب الحق بتنظيم المجتمعات وبالتالي تحقيق الانسجام في المجتمع وحمايته من أنواع الاضطهاد. ولهذا السبب أشاد غير المسلمين بالحضارة الإسلامية للخلافة على طبيعتها السامية. فعلى سبيل المثال، كتب الكاتب الإنجليزي الشهير هـ. جي. ويلز في كتابه "خلاصة التاريخ": "لقد خلق الإسلام مجتمعاً أكثر تحررا من القسوة والاضطهاد الاجتماعي من أي مجتمع آخر كان في العالم من قبل". هذا بالتأكيد هو المستقبل الذي نرغب فيه كمسلمين لأبنائنا وعائلاتنا ومجتمعاتنا... ولكنه مستقبل لن يتحقق إلا من خلال العودة إلى الإسلام عودا كاملا في حياتنا، وإعادة حكم الله سبحانه وتعالى، (الخلافة) في بلادنا.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست