خبر وتعليق    ما فائدة وجود هيئة كبار العلماء إن لم يسمع كلامها وينفذ قرارها!!
October 21, 2014

خبر وتعليق ما فائدة وجود هيئة كبار العلماء إن لم يسمع كلامها وينفذ قرارها!!


الخبر:


ورد على موقع (CNN) أنه في يوم الأحد التاسع عشر من تشرين أول / أكتوبر 2014م بدأت عملية الاكتتاب على 500 مليون سهم من أسهم البنك الأهلي السعودي الذي تمتلك الحكومة السعودية حصة كبيرة فيه، بسعر 45 ريالا للسهم، في اكتتاب قد يكون الأضخم بتاريخ المملكة والمنطقة، وذلك وسط جدل واسع حول شرعية العملية، خاصة بعدما تراجع رئيس اللجنة الشرعية للبنك عن فتواه المؤيدة للاكتتاب بدفْعٍ من الفتوى المخالفة الصادرة عن المفتي.

التعليق:


البنك الأهلي السعودي التجاري هو من أكبر البنوك في السعودية من حيث رأس المال وعدد الفروع وكان قد صدر في شباط الماضي توجيه ملكي لبيع صندوق الاستثمارات العامة لنسبة تعادل 25% من رأس مال البنك بطرح الاكتتاب على الأسهم، فبدأ الجدل حول مشروعيته.


وكانت اللجنة الدائمة للفتوى بالسعودية، والتي يرأسها عبد العزيز آل الشيخ، قد أفتت بـ"تحريم الاكتتاب والمساهمة في البنوك والشركات والمؤسسات التي تتعامل بالربا بيعاً وشراءً."


أما الهيئة الشرعية في البنك الأهلي التجاري، فقد أعلنت بعد الاجتماع بالمسئولين في البنك، أن الاكتتاب في أسهم البنك الأهلي التجاري "سائغٌ شرعاً ولا حرج فيه".


فمن هي الهيئة الشرعية وما دورها؟


تتولى المصارف المركزية لكل دولة الرقابة على (المصارف الإسلامية) وهناك رقابة أخرى وهي هيئات الرقابة الشرعية والتي تختارها المصارف عينها - ويكونون من علماء الشريعة وفقهاء القانون - لتحقيق الالتزام بالأحكام الشرعية في عمل المصارف وهذه من الترقيعات المسايرة للنظام الرأسمالي؛ فالأصل أن تكون أجهزة الإدارة في المصرف هي التي تقرر الحلال والحرام.


يقول الدكتور جمال الدين عطية في كتابه (البنوك الإسلامية بين الحرية والتنظيم) أن "هيئات الرقابة الشرعية دورها لا يتعدى دور الإفتاء النظري فلا تقوم بالرقابة الفعلية على العمليات هل تمت بحسب توجيهاتها أم لا، بل يقتصر عملها على الإجابة عما تُسأل عنه، وتكون الإجابة عادة مترتبة على السؤال ومتوقفة على طريقة توجيهه ويمكن أن يوجه السؤال عن مسألة محددة بطريقة معينة للحصول على إجابة معينة بينما لو وُجّه بطريقة أخرى لكانت الإجابة مختلفة" ولهذا يمكن أن نرى إجابتين متناقضتين لهيئتين شرعيتين في بنكين مختلفين في مسألة واحدة!!


وهذا ما يفسر لنا لماذا أفتى رئيس اللجنة الشرعية للبنك عبد الله المنيع بجوازها مع أنه عضو بهيئة كبار العلماء التي يرأسها المفتي السعودي، عبد العزيز آل الشيخ الذي أفتى بحرمتها.


لقد استندت اللجنة الشرعية في قرارها إلى أن الخطة المعتمدة من قبل البنك، كما هو مرسوم لها ستؤدي إلى تحقيق هدف التحول الكامل إلى المصرفية الإسلامية "خلال مدة معقولة بما في ذلك التخلص من جميع السندات."


وتابعت الهيئة بالقول إن الأصول المالية التي يدخل فيها الربا "لا تمثل إلا نسبة تقل عن الثلث من جملة الأصول، أما الأغلب من هذه الأصول فهي أصول ناتجة من عمليات تمويل مباحة والقاعدة أن للكثير حكم الكل".


وهذه أيضا من المبتدعات؛ فبعض الاقتصاديين في البلاد الإسلامية ينظرون إلى الاقتصاد على أنه يقوم على المنطق والأرقام متجاهلين العقائد، فمنهم من أخذ مسائل من فقه المعاملات ووضعها في قوالب اقتصادية وربطها بالمصطلحات الاقتصادية الرأسمالية الحديثة متجاهلا الآيات التي تحرم الربا وأكل أموال الناس بالباطل.


إن هذه القاعدة ابتدعها الفقهاء المعاصرون للسكوت والتغاضي عن القليل الحرام مقابل الكثير الحلال، وقد حددوا معيارا للقليل بأنه الثلث فإذا كانت المعاملات أو مجموع الكسب الحرام دون الثلث يهمل ولا يؤثر في حرمة المؤسسة أو البنك ويكون الحكم حسب الأغلب والذي من المفترض أن يزيد عن الثلثين، وهذا ما ورد عن الهيئة في بيانها حين أجازت الاكتتاب؛ فقد أكدت أن الأصول الإسلامية للبنك أصبحت تشكل 67%، وهي نسبة تزيد على الثلثين.


وكما ورد في الخبر فقد حذر المفتي (آل الشيخ) من عقوبة من يفتي بالربا، ودعا من أفتى بذلك إلى الرجوع عن رأيه، مما دفع رئيس الهيئة الشرعية للإعلان أن: "الكلمة الأخيرة هي للمفتي وإخوانه أعضاء اللجنة الدائمة، وهي الجهة الرسمية التي تمثل الدولة، وبناء على ذلك نحن إن قلنا أو لم نقل، هذه هي الفتوى الرسمية الصادرة ممن يمثل الدولة، وعلى كل حال على إخواننا أن يتصرفوا وكل واحد يتحمل مسؤولية تصرفه."


وأخيرا ورغم تحفظنا على هيئة كبار العلماء، فما رأيناه هو بدء العمل بالاكتتاب والضرب بالفتاوى عرض الحائط حين يتعلق الأمر بمصالح الحكومة السعودية، وبالتالي نقول: فما فائدة وجود هيئة كبار العلماء إن لم يُسمع كلامها وينفذ قرارها؟


الجواب واضح: فالحكومة السعودية تهدف من وراء الاكتتاب أن تجمع ما تبقى من مال لدى رعاياها ليكون في يدها وتتحكم بهم وبمالهم وتسلبهم إياه، فالبنك يعتزم جمع قرابة ستة مليارات دولار كأسهم، فهي لم تكتف بعدم رعاية مواطنيها الرعاية الإسلامية - حسب ما تدعي أنها تملك ولاية الأمر عليهم - ولم تحد من مشكلة الفقر التي أدت إلى زيادة عدد المتسولين الأطفال في مكة إلى أكثر من خمسة آلاف طفل وثمانية آلاف امرأة.


وأين هي الرعاية الاجتماعية والتعليمية والطبية والعسكرية وأين هو الأمان والاستقرار؟


لن يجد المسلمون في السعودية وغيرها من بلاد المسلمين بل في العالم أجمع ما تتطلبه الرعاية الحقيقية إلا في ظل دولة الخلافة على منهاج النبوة التي نسأل الله أن تكون قريبة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أختكم راضية

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست