خبر وتعليق   ما تريده أميركا هو تأجيج الأزمة الأوكرانية
January 01, 2015

خبر وتعليق ما تريده أميركا هو تأجيج الأزمة الأوكرانية


الخبر:


أوردت وسائل الإعلام يوم الجمعة 26 كانون الأول/ ديسمبر خبراً يفيد بأن المؤسسة الأوكرانية لنقل المسافرين براً (UkrTransInspectsiya) أرسلت رسائل إلى شركات النقل وأصحاب محطات حافلات نقل الركاب تطلب فيها وقف بيع التذاكر ونقل المسافرين على الطرق التي تصل أوكرانيا بجمهورية القرم المتمتعة بالحكم الذاتي اعتباراً من 26 كانون الأول/ ديسمبر، وذلك بالنظر إلى ازدياد تأزم الأوضاع في القرم.


والأسوأ من هذا هو أن هذه الأوامر قد جاءت مباشرة عقب قرار الإدارة العامة الأوكرانية للنقل بالقطارات (UkrZaliznitsya) وقف جميع خدمات نقل المسافرين والبضائع بين أوكرانيا وشبه جزيرة القرم.

التعليق:


يجب ألا ينظر إلى هذه الأحداث بمعزل عن التطورات التي شهدتها الأزمة الأوكرانية خلال الأسابيع الفائتة. فقد تمت الموافقة في 2 كانون الأول/ ديسمبر على الحكومة الجديدة التي شكلها رئيس الوزراء آرسيني ياتسينيوك. وهي تضم 3 وزراء أجانب تخرجوا من جامعات الولايات المتحدة. كما كان أحدهم، هو ناتالي آن جاريسكو، قد عمل في وزارة الخارجية الأميركية في بدايات عقد التسعينات من القرن الماضي.


وفي 18 كانون الأول/ ديسمبر وقع رئيس الولايات المتحدة باراك أوباما المرسوم رقم H.R. 5859 "قانون دعم تحرر أوكرانيا لسنة 2014"، الذي ينص على تقديم الدعم التقني والعسكري لأوكرانيا، وتوسيع نطاق العقوبات المفروضة على روسيا ليشمل الميدان العسكري ومجال الطاقة.


كما كانت مساعدة وزير الخارجية الأميركي فيكتوريا نولاند قد صرحت قبل ذلك بيوم واحد فقط بأن الإدارة الأميركية تنتظر من صندوق النقد الدولي والبنك الدولي، ومن الجهات الدولية المانحة الأخرى أيضاً، القيام بزيادة المساعدات المالية المقدمة لأوكرانيا.


كذلك وقع باراك أوباما يوم 19 كانون الأول/ ديسمبر قراراً بفرض عقوبات جديدة تشمل تجميد أموال الأشخاص العاديين والشركات التي ستعمل في القرم.


وفي 23 كانون الأول/ ديسمبر صوت البرلمان الأوكراني بالأغلبية الدستورية لصالح إلغاء وضع "عدم الانحياز" الذي كانت تنتهجه البلاد. ومن المعروف أن هذا الإلغاء يتصل على نحو وثيق بنيّة التقدم بطلب للانضمام إلى حلف شمال الأطلسي. وعلى الرغم من أن أمين عام الحلف، جينس ستولتينبيرغ، لم يكن متحمساً لهذا الإلغاء، حيث صرح بأنه يتوجب على أوكرانيا أولاً إدخال إصلاحات وحلّ النزاعات المناطقية القائمة فيها، وأن الحلف لن يقوم بهذه العملية بذاته، كان ردّ فعل المؤسسة الروسية الرسمية متردداً.


كما بدأت أوكرانيا في 24 كانون الأول/ ديسمبر بقطع الكهرباء عن العديد من المدن والمناطق في القرم.


وأخيراً، قيل في 26 - 28 كانون الأول/ ديسمبر أنه سيتم قطع جميع خطوط المواصلات مع القرم، سواء منها خطوط الحافلات أو القطارات.


والأنكى هو ما نشرته بعض وسائل الإعلام في 26 كانون الأول/ ديسمبر عن قرار شركة الخدمات المالية فيزا وقف تزويد البنوك الروسية العاملة في القرم بخدماتها، وذلك امتثالاً من الشركة للعقوبات آنفة الذكر.


وفوق ما سبق، جاء قيام السلطات الأوكرانية بقطع إمدادات الكهرباء وخدمات المواصلات مع القرم، خصوصاً في ظروف الشتاء القاسية حالياً؛ ما من شأنه أن يؤذي ويؤلم السلطات الجديدة في القرم، التي كانت قد وعدت سكان شبه الجزيرة بحياة ملؤها الرخاء بعد الانضمام إلى الاتحاد الروسي.


زد على ذلك، أن استخدام القوة لفتح ممر بري على طول الساحل الشمالي لبحر اللازوف، الذي جرى الحديث عنه خلال الصيف والخريف، أصبح أمراً مستحيلاً. إذ إن الاقتصاد الروسي، في ظل العقوبات التي يفرضها الغرب على روسيا وانخفاض أسعار النفط، لن يكون في مقدوره تحمّل نتائج غزو عسكري روسي مكشوف وواسع للأراضي الأوكرانية.


لكن ما يجب ألا يغيب عن الذهن أن اتخاذ هذه الخطوات، التي تتسم بالتصميم والتحدّي، من جانب الحكومة الأوكرانية، وفي ظل هذه الأوضاع المتأزمة أصلاً، ما كان له أن يحصل لولا الموافقة المسبقة للمسؤولين الأميركيين عليها ومباركتهم إياها.


وعليه، فإن من الواضح أن الولايات المتحدة ترمي من وراء هذه الخطوات إلى تصعيد الأزمة الأوكرانية، وذلك أن مصالح أميركا الاستراتيجية تقضي بخلق حالة من عدم الاستقرار طويل الأمد على حدود منافسيها: أوروبا وروسيا. ولقد طبقت الولايات المتحدة هذه الاستراتيجية، ولا زالت، منذ مجيء فيكتور يوشينكو إلى السلطة مع بداية 2005.


نعم، ربما تكون الولايات المتحدة قد حققت هدفها من هذه الأزمة، ألا وهو إضعاف أوروبا وروسيا. وربما كانت تريد من وراء هذه الأعمال إنهاء هذه الأزمة بإجبار روسيا على العودة والوفاء بالتزاماتها الدولية والتزاماتها تجاه أوكرانيا. لكن هذا الأمر لا يبدو سهل المنال.


أما بالنسبة لأوكرانيا ذاتها، فإن مصيبتها تكمن في الوضع الذي هي عليه. إذ ليست لديها القدرات المالية، ولا الإرادة السياسية، وهذا هو الأهم، لوضع وانتهاج سياسة مستقلة في الدفاع عن سيادتها ووحدة ترابها الوطني. فآثرت الركون إلى القوى الخارجية والاعتماد عليها، وعلى رأسها الولايات المتحدة، الأمر الذي جعل حاضرها ومستقبلها في مهب الريح، حتى غدت منطلَق جميع الأزمات في هذه الأيام. وهذا هو السبب في انهيار وتفكك الكثير من الدول في العالم في عصرنا، وهو عينه سبب أزمتها الحالية: بحثها عن قوى خارجية تعتمد عليها طوال فترة وجودها السابقة وعدم رغبتها في الاعتماد على قدراتها وقواها الذاتية.


ومن ناحية الولايات المتحدة، فإنها لا تهمها أوكرانيا ولا الشعب الأوكراني. بل على العكس تماماً، لا يعنيها شعب أوكرانيا ولا سيادتها ولا مواردها ولا إمكاناتها المستقبلية إلا بقدر ما تكون هذه كلها أدوات ووسائل لتنفيذ استراتيجيتها الرامية لإضعاف أوروبا وروسيا.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
فضل أمزاييف
رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في أوكرانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست