خبر وتعليق    محاولات ألمانيا الجارية لدمج المسلمين ما هي إلا محاولة لتكريس إخفاء عيوب الديمقراطيات الفكرية (مترجم)
خبر وتعليق    محاولات ألمانيا الجارية لدمج المسلمين ما هي إلا محاولة لتكريس إخفاء عيوب الديمقراطيات الفكرية (مترجم)

الخبر: بث التلفزيون الألماني نقلا حيا ومباشرا لصلاة العيد من مسجد في بلدة قريبة من ميونخ، في خطوة هي الأولى من نوعها في تاريخ البلاد. وقد عُرضت الصلاة التي كانت يوم الجمعة في تمام الساعة 4:45 صباحا بالتوقيت المحلي من مسجد بينزبيرغ على شبكة التلفزة والإذاعة البافارية التي تعد من الشبكات الرئيسية في البلاد. وقد كان هذا النقل للصلاة جزءا من تغطية أوسع استمرت لساعتين واشتملت على الخطبة، وقراءة آيات من القرآن الكريم، وأناشيد إسلامية، وكلمات ألقاها كهنة من النصرانية الكاثوليكية والأرثدوكسية. وقبل الخطبة، صرح بنيامين إدريس الخطيب الذي أم الصلاة للجزيرة بأن ما جرى كان خطوة تاريخية بالنسبة للمسلمين في ألمانيا. وقال الداعية الألماني المقدوني المولد "سأوصل في الخطبة رسائل إلى المسلمين وغير المسلمين في ألمانيا. سأتحدث عن القيم المشتركة وسأحث فيها المجتمع في ألمانيا على الانفتاح على المسلمين وزيارة مسجدهم، كما سأحث المسلمين كذلك على الانفتاح على المجتمع في ألمانيا". وأضاف بأن بث ما يتعلق بمناسبة العيد سيساعد الجاليات المسلمة على الشعور بمزيد من الترحيب في هذه البلاد وبأنهم جزء لا يتجزأ من ألمانيا. وتأتي هذه الخطوة بعد أسبوعين فقط من حضور المستشارة الألمانية آنجيلا ميركل لإفطار رمضاني، لتكون أول رئيس للحكومة يفعل ذلك، وقد صرحت أثناء الإفطار بأن الإسلام يُعد "جزءا من ألمانيا". وهذه هي المرة الأولى التي تحضر فيها ميركل حفل إفطار كمستشار ألماني. هذا وقد أعلن المتحدث باسم الحكومة شتيفن زايبرت أيضا بأن ميركل تخطط في العام القادم لاستضافة حفل إفطار لتكون تلك المرة الأولى من نوعها لفعل ذلك. وقال زايبرت بأنه من المتوقع أن يقام الإفطار في مبنى الاستشارية وبأنه سيستضيف ممثلين عن منظمات المجتمع المدني الإسلامية في ألمانيا. ووفقا لزايبرت فإن الإفطار سيصبح حدثا سنويا.   التعليق: إن على رأس التحديات التي تواجه المسلمين في ألمانيا هي الدعوة المستمرة إلى تحقيق التكامل الكامل مع المجتمع وبالتالي التخلي عن أي شكل من أشكال الهوية الإسلامية أو حرف الشباب المسلم عنها. وإن النقاشات المتكررة التي تجري من قبل الحكومة ووسائل الإعلام عن كيفية دمج المسلمين والحالة التي ذكرت من عملية نقل صلاة العيد على شبكة التلفزة والإذاعة البافارية ما هي إلا مثال على ذلك. هذه الحملة سيكون لها أثر بعيد من حيث احتواء المسلمين أفراداً ومنظمات وكذلك الأئمة في محاولة الدمج هذه. خضوع المسلمين وإذعانهم وانسياقهم وراء تبني الليبرالية والديمقراطية والقيم العلمانية تحت رقابة "سلطة الدولة لحماية الدستور" "Verfassungsschutz" بهدف منح الجنسية والذي يتضمن أن يكون هنالك التزام واضح بالديمقراطية والمساواة بين الجنسين والحقوق الأساسية واحترام رموز الدولة كل ذلك كان لأن تبنيه يعتبر شرطا لمنح المسلمين الجنسية. الحق الذي حرم منه الجيل الثاني والثالث لمن كان من أصل إسلامي ومعظم هؤلاء كانوا من الأتراك. ولذلك فإن الدولة الألمانية لِترضى بالإسلام الذي هو "جزء من ألمانيا" سيكون على هذا الدين الخضوع للنهج الإصلاحي. وقد أُخِذ النهج الإصلاحي للإسلام من "فقه الأقليات" الذي صمم على أساس جعل المكان أو الزمان والواقع مصدرا للتشريع. نحن الذين نعيش في المجتمعات الغربية نعرف وبشكل جيد العقبات والإغراءات التي وضعت وتوضع في طريقنا من أجل صرف أنظارنا وحرفنا بعيدا عن سبيل الله تعالى. إننا نتعرض وبشكل دائم للقذف بمعتقدات ومفاهيم وقيم وعادات وأخلاق غير إسلامية. كما أننا نتعرض في هذه المجتمعات الغربية وباستمرار إلى هجوم على ديننا أو على جوانب منه وبشكل يومي ما يؤدي إلى عواقب وخيمة تؤثر في عقلية المسلمين وطريقة تفكيرهم. وهذا ينتج وبشكل طبيعي أجواء من الشعور بعقدة النقص عند المسلمين بشكل عام لدرجة أن الكثيرين منهم في نهاية المطاف لن يكون عندهم بأس في ليِّ عنق الإسلام وأحكامه من أجل جعله أكثر قبولا ومناسبة للأذواق الغربية. لذلك، فإن على مسلمي ألمانيا الثبات على دينهم في الوقت الذي يواجهون فيه هذه الحملة التي تهدف إلى دمجهم وإفساد إسلامهم وهويتهم الإسلامية عبر تلويثها بالقيم الليبرالية العلمانية بأسلوب ممنهج فيه من الليونة المخادعة ما فيه ومثال عليها الإيماءات الرمزية من المستشارة الألمانية آنجيلا ميركل بحضور حفل الإفطار أو البث المباشر لصلاة العيد من مسجد بينزبيرغ. وعلاوة على ذلك فإن هذا كله يحصل في البيئة التي شهدت ظهور الحركة اليمينية المتطرفة "وطنيون أوروبيون ضد أسلمة الغرب" والمعروفة أيضا باسم بيغيدا. ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ * أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [سورة الأحقاف: 13-14]   كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرثريا أمل يسنا

0:00 0:00
Speed:
July 22, 2015

خبر وتعليق محاولات ألمانيا الجارية لدمج المسلمين ما هي إلا محاولة لتكريس إخفاء عيوب الديمقراطيات الفكرية (مترجم)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست