الخبر: غدًا، 13 أيار/مايو 2015 يصادف الذكرى العاشرة للمجزرة المروعة في مدينة أنديجان فقد تم ذبح الآلاف من العزل، رجالًا ونساءً وأطفالاً تجمعوا للاحتجاج على السياسات القمعية للنظام الأوزبكي بدم بارد، من قبل قوات الأمن على طريقة سفاح طشقند الرئيس كريموف. أطلق مسلحو الحكومة النار بشكل عشوائي وبلا رحمة على المتظاهرين في ذلك اليوم، لم يفرقوا بين الرجال والنساء، الصغار والكبار، حتى إنهم قاموا بقتل الجرحى. وقال "مقدّوس" شاهد عيان على المجزرة لمعهد صحافة الحرب والسلام "... أطلقوا النار وقتلوا الجرحى... في حضوري، أطلقوا النار على امرأة وطفلين صغيرين". وفي أعقاب هذه المذبحة، منع كريموف أي تحقيق في هذه الأحداث الدموية، ليس هذا فقط بل واصل حملته في الأشهر والسنوات التي تلت ذلك، فواصل المضايقات والاحتجاز والتعذيب لأي متظاهر أو شاهد عيان على المذبحة من أجل انتزاع اعترافات كاذبة عما شاهدوه ذلك اليوم. كما كان هناك أيضًا حملة على المدافعين عن حقوق الإنسان والناشطين السياسيين، والصحفيين المستقلين في البلاد، لمنع أي تحقيق أو إبلاغ عن هذه الجريمة الوحشية. التعليق: في الأسبوع الماضي، نشرت منظمة هيومن رايتس ووتش شريط فيديو جديد بعنوان "أوزبيكستان: عقد من الإفلات من العقاب على المذبحة" نشر فيه كيف أنه على مدى السنوات العشر الماضية، لم يواجه كريموف أو أي من أعوانه العدالة من أجل الجريمة التي اقترفوها في أنديجان، ولا من أجل مواصلتهم للقمع الوحشي والمتواصل لمسلمي أوزبيكستان. وناقش الفيديو كيف أن الحكومات الغربية قد فشلت لأكثر من عقد من الزمن في استخدام نفوذها السياسي لمحاسبة النظام الأوزبيكي، مرددًا الكلمات الواردة في تقرير المنظمة لعام 2005، "لدفن الحقيقة: أوزبيكستان تعيد كتابة قصة مذبحة أنديجان" حيث ذكر ".. أصبح من المرجح بشكل متزايد أن القوات الحكومية لن تخضع للمساءلة أبدًا عن أحداث 13 أيار/مايو.. في الواقع في وجه التحدّي القائم من الحكومة الأوزبيكية، فإن كلًا من الولايات المتحدة ودول أوروبا قد تراجعوا تمامًا عن تنفيذ أي إجراءات أكثر قوة لمحاسبة الحكومة الأوزبيكية على مسؤوليتها في خسائر الأرواح". كيف يمكن أن يدوم ذلك لمدة عشرة أعوام كاملة، وأولئك الذين تقطر أيديهم دمًا بما اقترفوه في حق الأبرياء من المسلمين رجالًا ونساءً وأطفالًا، بدون حساب ولا عقاب؟ كيف يمكن أن يؤدي هذا القاتل كريموف اليمين الدستورية مرة أخرى الشهر الفائت ليواصل بلا هوادة ولا عقاب حملته الحاقدة لاضطهاد وتعذيب ما تبقى من الناجين من هذه المجزرة وأسر الضحايا الذين قتلوا، وغيرهم ممن يعارضون حكمه القمعي؟ في الواقع، في ظل النظام العالمي اليوم، حيث تخضع العدالة في كثير من الأحيان لمصالح سياسية واقتصادية راسخة من الدول الرأسمالية الغربية والشرقية المهيمنة وهذا ليس مستغربًا. وعلى الرغم من وجود معرفة كاملة بجرائم كريموف، عمقت كل من الولايات المتحدة والاتحاد الأوروبي علاقتها مع هذا السفاح من أجل منافع مادية، ولأن النظام لعب دورًا حاسمًا كشريك استراتيجي في الحرب على الإرهاب "ضد الإسلام والمسلمين" عام 2007 تراجع الاتحاد الأوروبي عن دعوته إلى إجراء تحقيق دولي في مجزرة أنديجان ودعا إلى خفض العقوبات على البلاد، وفي عام 2009 رفع العقوبات جميعًا، بما في ذلك إزالة الحظر المفروض على ترسانة أسلحتها. في شهر آذار/مارس من هذا العام، وقّعت ألمانيا اتفاقية للتجارة مع النظام الأوزبيكي بقيمة 8,2 مليار يورو. كما وفر الكرملين المليارات من المساعدات العسكرية لكريموف وغيره من دول آسيا الوسطى لسنوات. وفي كانون الثاني/يناير، أعلنت الولايات المتحدة أن أوزبيكستان ستحصل على أكثر من 300 مركبة مدرعة مضادة للألغام و20 مركبة إسعاف مدرعة. في الواقع، في ظل الرأسمالية المهيمنة على العالم حاليًا، فإن "العدل" هو مصطلح وإن ملأ خطب السياسيين فإنه صعب المنال خاصةً بالنسبة إلى المسلمين ضحايا جرائم ثابتة ومجازر عديدة في سربرنيتشا، وغزة، وميدان رابعة العدوية، وبورما، وسوريا والعراق، وأفغانستان، وأفريقيا الوسطى، والتي لم يواجه فيها الجناة سواء أكانوا أفرادًا أم حكومات، أي عقوبة على جرائمهم. إن الاعتماد على الحكومات الغربية والمجتمع الدولي (الذي يصل ضميره إلى ما يصل الدولار) من أجل ضمان المساءلة عن مثل هذه الجرائم، لن يجدي نفعًا. في الواقع، أصبحت المحكمة الجنائية الدولية مقبرة لمن ينشدون تحقيق العدالة فيما يتعلق بجرائم الحرب التي ارتكبت ضدهم وضد أُسرهم. وبالتالي، في ظل النظام الرأسمالي العالمي الحالي، حيث تغيب المواقف المبدئية والعدالة، حيث يقع تداول النفس البشرية بين الدول مثل السلعة مقابل خدمات ومنافع، لا يمكن لهؤلاء الحكام والأنظمة الذين ارتكبوا جرائم قتل وقمع أن يحاسبوا وستبقى مساءلتهم حلمًا بعيد المنال لضحايا هذه الجرائم. هذا بغض النظر عن بعض الجهود من قبل منظمات حقوق الإنسان. لن تتحقق العدالة ولن تتم محاسبة مرتكبي مذبحة أنديجان وغيرها من المذابح التي ارتكبت بحق المسلمين، إلا من خلال إقامة خلافة على منهاج النبوة. فهذه هي الدولة القادرة على تحقيق العدل وحفظ النفس البشرية. وعلاوةً على ذلك، لا يمكن أن تتنازل عن مبدئها وقيمها ولو بأموال الدنيا. هذا لأنه نظام قائم على قوانين ربانية، وبالتالي فهي ترعى كرامة الإنسان ورفاهيته واحتياجاته البشرية، فضلًا عن مصالح الإسلام والمسلمين. فبإنشاء هذه الدولة فقط ستتم محاسبة كريموف وجميع الحكام الطغاة أمثاله الذين ظلموا وسفكوا دماء المؤمنين الزكية الطاهرة، وسيواجهون أشد العقاب لقاء جرائمهم الوحشية. ﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ ۥۤ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ فِى ٱلۡأَذَلِّينَ * ڪَتَبَ ٱللَّهُ لَأَغۡلِبَنَّ أَنَا۟ وَرُسُلِىٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ۬﴾ [المجادلة: 20-21] كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرالدكتورة نسرين نوازمديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
خبر وتعليق مجزرة أنديجان وغياب العدل! (مترجم)
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست