خبر وتعليق   منع وزيرة الثقافة للعباية يبرز أزمة الثقافة
September 06, 2014

خبر وتعليق منع وزيرة الثقافة للعباية يبرز أزمة الثقافة


الخبر:


أطلقت وزيرة الثقافة مي بنت محمد آل خليفة الخميس 2014/9/4م تعميما لجميع الموظفات العاملات في وزارة الثقافة البحرينية بتجنب لبس العباية أثناء ساعات العمل الرسمي. وطالب التعميم بالالتزام بالزي الرسمي الملائم، والاهتمام بالمظهر العام، الذي يعكس الواجهة الحضارية للوزارة وذكر التعميم أن الزي الرسمي للرجال: الثوب والغترة، أو الزي الغربي مع حسن الهندام من ربطة عنق وحذاء، ولا يسمح بأي زي يقلل من شأن الوظيفة التي يشتغلها .الزي الرسمي للنساء: للموظفات الحق بارتداء الزي المحتشم المناسب مع تجنب ارتداء العباية أثناء ساعات العمل الرسمي.


وقد أدت موجة الغضب عند الناس وإثارة القرار للرأي العام في البحرين إلى تدخل الأمير خليفة بن سلمان ال خليفة رئيس الوزراء وأمره بوقف فوري للعمل بالتعميم رقم 8 لسنة 2014 الصادر عن وزيرة الثقافة بشأن الزي الرسمي والسماح للموظفات بارتداء العباية أثناء ساعات العمل الرسمي. (الوسط 2014/9/4)


التعليق:


ارتبطت صورة وزارات الثقافة في بلاد المسلمين بإحياء الفنون الشعبية وتنسيق المهرجانات التراثية والاهتمام بالفلكلور والفنون والآداب. كما ارتبطت بنموذج الوزير "المثقف" الذي ارتوى من الثقافة الغربية وهضم المشروع الحضاري "العالمي". وزير متعدد اللغات يقدم "خدمات جليلة" لأمته بتنظيم ورش العمل حول حفظ التراث، والتنسيق مع اليونسكو لحفظ المعالم الأثرية وضمان الانفتاح الثقافي على العالم. وقد التزمت وزارات الثقافة بالإطار العالمي وجعلته مقياساً للثقافة، وحرصت على تعريف شعوبها بيوهان فولفجانج جوته وشكسبير ويوهان سباستيان باخ وبابلو بيكاسو والمدارس الفنية المختلفة بينما وضعت الإسلام في إطار احتفالي ضيق. وابتعدت هذه الوزارات عن الالتزام بإطار شرعي محدد بذريعة أن هذا الإطار يعتبر أدلجة للثقافة ويشكل خطورة على الإبداع وازدهار الثقافة! لقد تكثفت الجهود وبقي الإبداع عملة نادرة، فبالرغم من زخم النشاطات والمشاريع والبذخ في تنسيق الاحتفاليات والمهرجانات إلا أن التميز نادر والتقليد سيد الموقف وأزمة الهوية ظاهرة ولا تخفى على أحد.


وزارات الثقافة أصبحت مرادفة لضياع الهوية والتغريب ومذبذبة بين التفاني في إبراز الموروث للتأكيد على العراقة والتميز الشكلي وبين مواكبة الحداثة والتعددية الثقافية لتكون المحصلة تبعية فكرية تطمس معالم وثقافة الشعوب التي تدعي هذه الوزارات تمثيلها. إنها وزارات ثقافة بدون ثقافة خاصة ومتفردة، تجدها تائهة بين ما تسميه بالهوية الوطنية وحماية الموروث ومتطلبات العولمة وبين المبدأ الذي يعتنقه أهل البلاد. ولعل هذا التذبذب يجسد واقع الأمة اليوم والفصل العبثي بين فكرة الإسلام وطريقته (الفصل بين الإسلام والحياة)، فيعتنق الناس الإسلام كعقيدة بينما يستمدون الحلول لمشاكل المجتمع من غيره، ويعلنون الولاء والبراء للواحد القهار ويميلون ببوصلة الثقافة نحو قبلة المبادئ المنافية للإسلام. يحتفلون بالآثار الإسلامية ويتباهون بأنهم يرفضون أدلجة أو تسييس الثقافة فيتبعون بذلك ثقافة المتناقضات ثم يستغربون الرجعية وأزمة الثقافة التي تحاصرهم. وأي قيمة لثقافة لا تكون العقيدة الإسلامية أساسها ويكون الحكم الشرعي مقياسا لما يصح وما لا يصح ونواة لبناء الأفكار واتخاذ القرارات التنظيمية.


رفض الناس استهتار وزيرة الثقافة بالزي الشرعي واعتبروا هذا القرار إمعاناً في تغريب الأمة، ولعل هذا القرار يستدعي وقفة أكبر لمراجعة دور وزارة الثقافة وأهمية التزامها بثقافة الأمة الإسلامية قبل أن تتوسع لغيرها. كيف تحمي الوزارة ثقافة الأمة وهي تظهر جهلاً مطبقاً بأحكام الشريعة الغراء؟ تنظر الوزارة لحماية الموروث دون التمييز بين ما هو ملزم للأمة وما هو دخيل عليها، ولا تفرق بين المعارف التي تتبع وجهة نظر معينة والمعارف التي تؤخذ عن طريق التلقي والإخبار والاستنباط مثل العلوم التجريبية. ولكن ما الداعي للتميز وقد أدمنت على أن تستورد الغث والسمين دون تدقيق أو تمحيص أو قياس على أساس قاعدة فكرية تماما كما أدمنت الركود في القاع والتباكي على أزمة الثقافة في الوطن العربي. لقد بلغت أزمة الثقافة حدا حتى إن أمة إقرأ عزفت عن القراءة واعتلى المناصب القيادية فيها قوم لا يهمهم سوى المظهر العام وتقليد الثقافة المهيمنة! هذه الأمة هي ذاتها التي قال عنها المستشرق الألماني آدم متز: "لا يعرف التاريخ أمة اهتمت باقتناء الكتب والاعتزاز بها كما فعل المسلمون في عصور نهضتهم وازدهارهم، فقد كان في كل بيت مكتبة." لقد قاد المسلمون العالم حينما أعملوا فكرهم وتلبسوا بعقيدتهم حتى أشاد بحضارتهم العدو قبل الصديق، يقول المستعرب الصيني لي قوان أن "الحضارة الإسلامية من أقوى حضارات الأرض وهي قادرة على اجتياز أي عقبات تواجهها لأنها حضارة إنسانية عالمية الأداء".


لعل الإشكالية ليست في قانون تم اتخاذه على عجالة ثم تراجعوا عنه سريعاً بل في تسييد الثقافة الغربية سواء الأمريكية أو الأوروبية وجعلها النمط الثابت في الفكر واللباس والذوق العام بينما تركت تطبيقات الإسلام مبهمة ومقيدة. إن الإشكالية اليوم هي أن الثقافة السائدة والمدعومة من الأنظمة الحاكمة لم تستمد من فكر خاص يحفظ للأمة هويتها وينهض بها بل هي هجين من أفكار متعددة لا يمكن أن تؤدي إلى نهضة بل محكوم عليها بالفشل وستلاحقها أزمة الهوية إلا أن تتم مراجعة كلية لأسس النهضة.


﴿قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّ‌نَا وَنُرَ‌دُّ عَلَىٰ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّـهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْ‌ضِ حَيْرَ‌انَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّـهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۖ وَأُمِرْ‌نَا لِنُسْلِمَ لِرَ‌بِّ الْعَالَمِينَ﴾




كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أم يحيى بنت محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست