الخبر: من الإنصاف القول أنه، وفي الآونة الأخيرة، انزعج الماليزيون بشكل كبير بسبب جميع أنواع الأشياء التي كانت تحدث في البلاد، فقد تعرض رئيس الوزراء نجيب لهجوم مكثف حول مختلف القضايا، وخاصة فضيحتي صندوق ماليزيا للتنمية ومارا، وكان للدكتور مهاتير، رئيس الوزراء السابق، دور أساسي في هذا الهجوم، ولم يكن نجيب والحزب الحاكم، المنظمة الماليزية الوطنية، أبدا في مثل هذا الموقف غير المستقر حيث يقضون جل وقتهم في الدفاع عن أنفسهم لحفظ ماء الوجه، المعارضة، مع الاستفادة من الوضع، وأيضا أن يكون لها حصة عادلة من المشاكل، أما ائتلاف المعارضة الذي يتكون من الحزب الديمقراطي، والحزب الإسلامي وحزب العدالة الشعبي قد حُلّ مؤخرا، ويرجع ذلك أساسا إلى الأيديولوجيات المتعارضة تماما بين الحزب الديمقراطي، ذي التوجه العلماني الليبرالي والسيطرة الصينية والحزب الإسلامي الذي ينجرف بعيدا في الآونة الأخيرة، فجناح العلماء في الحزب الإسلامي حققوا فوزا ساحقا في الانتخابات الأخيرة مهمشين الليبراليين في الحزب، وهناك الآن أنباء أن "الليبراليين الإسلاميين" يخططون لإنشاء حزب إسلامي جديد "أكثر شمولا"، وفي خضم هذه المشاكل السياسية، فقد كان هناك دعم هائل لليبرالية وكراهية الإسلام في شتى وسائل الإعلام في ماليزيا، وقد استغل الليبراليون مختلف الأحداث التي وقعت في ماليزيا الشهر الماضي بإلقاء اللوم بشكل مباشر أو غير مباشر على \'التطرف الإسلامي\' بوصفه الجاني الرئيسي، وحيث إن بعض الانتقادات على ما حدث مقبولة، ولكن يبدو أن هناك اتجاها عاما لإلقاء اللوم على الإسلام بطريقة أو بأخرى. التعليق: ماليزيا في موقف لا تحسد عليه كونها دولة علمانية تدين بالإسلام كدين رسمي، هذا هو الحال خصوصا في عصر الإنترنت حيث المعلومات والأفكار تنتقل بحرية بين الجميع، وبناء على ذلك، فمن السهل جدا أن نفهم الخلافات في المشهد السياسي الماليزي، فأعضاء المنظمة الماليزية الوطنية، والذين يتمتعون بالسلطة في إطار علماني، اعتادوا على تلك الممارسات الرأسمالية الفاسدة، ففضائح صندوق ماليزيا للتنمية ومارا ليست سوى مجرد مظاهر من هذه الممارسات البغيضة، ومن ناحية أخرى، فإن المسلمين الذين يرغبون في تطبيق الإسلام اختاروا العمل في إطار النظام الديمقراطي العلماني محبطون بشكل مستمر بسبب فشلهم المتكرر وذلك بسبب استمرارهم بالثقة في الديمقراطية، ولم يكونوا أبدا في مأمن من النظام، وقد لدغوا مرارا وتكرارا من قبل نفس الثعبان ومن الحفرة نفسها، ولكن لم يشعروا بالألم، فالمشاكل التي واجهها مؤخرا ائتلاف المعارضة هي واحدة من العديد من الدروس التي فشل الحزب الإسلامي في أخذ العبر منها. عندما سُئل سياسي علماني حول رغبة الحزب الإسلامي بتنفيذ أحكام الحدود، أجاب وبكل ثقة أن الحزب الإسلامي لن يكون قادرا على تنفيذ أي جانب من جوانب الحكم في الإسلام ما دام الدستور الاتحادي هو السلطة العليا في البلاد، إنه الواقع والحقيقة التي يتمسك بها الليبراليون مرارا وتكرارا في حربهم ضد الإسلام من أجل خلق هاجس الخوف من الإسلام في ماليزيا، وللأسف، تستند ادعاءاتهم بشكل رئيسي إلى ممارسات مشكوك فيها في بعض الأحيان من قبل المسلمين في ماليزيا ولكنها تُنسب إلى الإسلام سواء بشكل مباشر أو غير مباشر، وفجأة تظهر المطالبات ضد السياسات العرقية والدينية والتعصب والتطرف، أما الإسلام فيُركن على الرف ويُقابل بالرفض بالرغم من كونه أسلوب حياة وحلاً لجميع المشاكل المعقدة، وأحد الأمثلة الأخيرة على ذلك فرح آن عبد الهادي، لاعبة الجمباز التي فازت بالميدالية الذهبية لماليزيا في دورة العاب SEA 2015، حيث ووجهت بانتقادات شديدة في وسائل التواصل لكشفها العورة علنا، وقد تصاعدت الانتقادات مما استدعى تدخل الوزير، أما الليبراليون، مع بعض المسلمين، فسارعوا إلى رفض الانتقادات بشأن قضية "العورة" ووصفوا المنتقدين بالمتعصبين دينيا، وطالبوا بعدم تقويض القضية وإزاحة الإسلام جانبا عن الموضوع. إن الحل الوحيد لجميع هذه القضايا هو في أن يكون الإسلام في سدة الحكم، ففي قضية فرح آن مثلا، فالمرجعية الإسلامية تُبعد المنتقدين وتضع الأمور في نصابها، فأولا، لن يسمح الإسلام للنساء بكشف عوراتهن في الألعاب الرياضية، علاوة على منع ألعاب الجمباز للنساء، وثانيا على المسلمين أن يعرفوا أن أحكام العورة هي من الأحكام المعلومة في الدين بالضرورة، فقد عاش المسلمون طويلا في كنف العلمانية والليبرالية مما أبعدهم كثيرا عن ملامسة الأيديولوجية الإسلامية، فعندما تكون الأولوية للميدالية الذهبية والمكاسب السياسية بدل نيل رضوان الله تعالى، فليس غريبا أن نرى المسلمين يقصون الإسلام من أجل مكاسب دنيوية. كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرد. محمد - ماليزيا
خبر وتعليق مشاكل ماليزيا وراءها الليبرالية المسمومة (مترجم)
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست