خبر وتعليق   مشارق الأرض ومغاربها ملك لأمة محمد صلى الله عليه وسلم
خبر وتعليق   مشارق الأرض ومغاربها ملك لأمة محمد صلى الله عليه وسلم

الخبر: أورد موقع مفكرة الإسلام خبرا يوم الأحد 2015/5/10م بعنوان "مصر تخير لاجئين فلسطينيين بين ترحيلهم إلى سوريا أو السجن"، جاء فيه: (أعلنت «مجموعة العمل من أجل فلسطينيي سوريا» أن السلطات المصرية تستمر "باحتجاز عدد من اللاجئين الفلسطينيين السوريين وذلك بالرغم من تحويل التهمة التي وجهتها النيابة العامة لهم من دخول البلاد بطريقة غير شرعية إلى لاجئي حرب". وأوضحت المجموعة المعنية بمتابعة الانتهاكات التي يتعرض لها فلسطينيو سوريا وتوثيقها أنه لا يزال "56" لاجئاً فلسطينياً معتقلين لدى السلطات المصرية، وذلك بعد أن احتجزتهم أثناء محاولتهم الوصول إلى إيطاليا انطلاقاً من الشواطئ التركية في 25 من الشهر الماضي، حيث وقعوا ضحية لعملية نصب من قبل المهرِّبين الذين تركوهم على أحد الجزر قبالة الشواطئ المصرية، والتي قامت السلطات المصرية باعتقالهم منها. وأشارت المجموعة إلى أن الأمن المصري كان قد أفرج عن جميع المحتجزين السوريين في حين استمر باعتقال "56" فلسطينياً، وذلك لرفض جميع البلدان المحيطة في سوريا استقبالهم، حيث تم تخيير اللاجئين بين ترحيلهم إلى سوريا أو بقائهم في السجن، بحسب قول "المجموعة".)   التعليق: لكل أمة دولة، ودولة الأمة الإسلامية هي دولة واحدة توحدهم، هي دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة الغائبة منذ أربع وتسعين سنة، والتي هدمت في 28 رجب 1342هـ، وتمر ذكراها في هذه الأيام الصعبة التي يعيشها المسلمون في ضنك وعذاب. إن الخبر أعلاه مستفز لأبعد درجة للمسلم الغيور على عقيدته ودولته وأمته.. حين يستحضر ما فعله الأنصار مع المهاجرين من مكة المكرمة إلى المدينة المنورة عندما أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم الدولة الإسلامية الأولى.. نتساءل!؟ كيف يصبح المسلم "لاجئًا" يُطرد أو يسجن أو يلقى به في مخيم أوضاعه مزرية في بلد إسلامي منذ مئات السنين؟! فلا يُقال "فلسطينيون" أو "سوريون" أو "مصريون" بل يُقال مسلم من فلسطين ومسلم من سوريا ومسلم من مصر ومسلم من لبنان ومسلم من تركيا ومسلم من باكستان ومسلم من السودان وهكذا.. الأصل أن تكون الرابطة بين المسلمين هي رابطة العقيدة الإسلامية فقط، والأصل أن كل هذه الدويلات تنضوي تحت دولة واحدة، لا يوجد حدود ولا سدود تُمزق جسد الأمة؛ حيث سخَر الله تعالى جميع الأرض وهيأها حتى تحكم بشرع الله، واستخلف الذين آمنوا عليها حتى يُعز فيها الإنسان وتُرعى شؤون الناس جميعًا بالعدل الرباني بأنظمة الإسلام العظيم. شأن المسلم شأن كل المسلمين. إن للمسلم على المسلم حق الأخوة الإسلامية، ونصرة المسلمين لإخوانهم أمر واجب شرعًا وليس تطوعًا وتبرعًا أو إحسانًا، بل هو حق يأثم تاركه. عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا؟ قَالَ: «تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ». (أخرجه البخاري). وعَنْ جابر بن عَبْدِ اللَّهِ وأبي طَلْحَةَ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّ رضي الله عنهم جميعاً، قالا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «مَا مِنْ امْرِئٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ، وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ، إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ. وَمَا مِنْ امْرِئٍ يَنْصُرُ مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ، وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ، إِلَّا نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ نُصْرَتَهُ» (أحمد وأبو داود). إن مشاكل المسلمين في يومنا هذا مشتركة وحلها واحد. مشكلتهم؛ أنهم فرطوا في دولتهم الواحدة التي لا تعترف بالحدود بين المسلمين فضاعت هويتهم وعزّتهم. أما الحل؛ فيكمن في نبذ الأنظمة الحاكمة الفاجرة وأجهزتها العلمانية من وزارات ومخابرات وأمن، هذه الأجهزة القمعية التي تطرد المسلمين الوافدين من مناطق أخرى من الأراضي الإسلامية التي هي أساسًا ملك للأمة، أو تملأ السجون بالمستضعفين ومخيمات اللجوء - وكلٌّ سواء - بدلًا عن تحرير فلسطين المباركة من اليهود وبدلًا عن تحريك جيش مصر القوي ليسقط نظام بشار الأسد المجرم! أو على الأقل بناء مساكن تستوعب من فرَّ من الموت في سوريا ومن هجَّره اليهود من فلسطين فلا يكون حشرهم في الملاجئ والسجون، وهذا ليس بغريب على نظام السيسي المجرم فهو يبيد أهل مصر أنفسهم لصالح الأعداء كما يحصل في سيناء! فالحرب هي حرب على المسلمين جميعًا والمشكلة واحدة والحل واحد، إنما تُنقل هذه الأخبار المفجعة بأسلوب ضعيف لا يرتقي لمستوى الحدث والمصاب. لقد ضاع نظام الإسلام وضاعت الأمة الإسلامية والسبب في ذلك غياب دولة الخلافة الراشدة من على الخارطة السياسية العالمية. فهل سمعنا عن مصطلح "مخيم للاجئين" إلا في زمن ساد فيه من عبدوا المصلحة والمنفعة من دون الله. نظام رأسمالي علماني فشل في توفير أدنى مقومات العيش الآمن لجميع البشر ونجح في تمزيق المجتمعات وإبعادها عن حكم الله تعالى في الأرض وشنّ حربًا ضروساً على الأمة الإسلامية، وبات ما يحصل للمسلمين لا يُحتمل ولا يستوعبه عقل. وحقيقة الأمر أن كل المسلمين اليوم متغربون ومهجّرون من بلادهم وأراضيهم، وإن عاشوا فيها، بسبب هذه الأنظمة الجبرية المعادية لهم والتي أرهقتهم بطغيانها وجبروتها. هذه الحقيقة مخالفة لما يجب أن يكون عليه واقع أمة محمد صلى الله عليه وسلم حيث جاء في الحديث الشريف: عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ الله عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إنَّ اللهَ زَوَى لِيَ الأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْك أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا..» (أخرجه أحمد). لن يكون للأمة مُلك ولن تنعم مشارق الأرض ومغاربها بحكم الإسلام وسيادة الشرع إلا بإقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، فإعادة الدولة الإسلامية بعد طول غياب إلى الوجود هو سبيل الخلاص الوحيد. يا أيها الناس! لنجعل من يوم ذكرى هدم الخلافة يوم عزمنا على إقامتها من جديد، خلافة راشدة على منهاج النبوة؛ بها يُحكم العالم ويقوده منهج رب العالمين، دولة يُعز فيها وبها المسلم يتنقل في أرض الله الواسعة كما يريد ويعيش في ظل الإسلام أينما يرتاح، وتعود للأمة الإسلامية قوتها ومجدها ببيعة خليفة واحد في دولة واحدة لأمة واحدة تربطها عقيدة واحدة فنرجع كما يجب علينا أن نكون حيث يحب الله ويرضى سبحانه أن نكون.       كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرغادة محمد حمدي - ولاية السودان

0:00 0:00
Speed:
May 12, 2015

خبر وتعليق مشارق الأرض ومغاربها ملك لأمة محمد صلى الله عليه وسلم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست