November 12, 2014

خبر وتعليق مسلمو الحبشة يُضطهدون لعشرات السنين ولا ناصر لهم ولا معين

الخبر:‏


أصدرت منظمة العفو الدولية‎ ‎‏(أمنستي) تقريراً جديداً لها في 2014/10/29 حول تعامل إثيوبيا مع ‏مسلمي الأورومو جاء فيه: "إن السلطات الإثيوبية تستهدف بلا رحمة وتمارس التعذيب بحق أكبر ‏قومياتها الأورومو الذين يمثل المسلمون أغلبيتهم الساحقة‎."‎


وتحدث التقرير الذي يستند إلى أكثر من مائتي شهادة عن أن: "آلافا من أفراد إثنية الأورومو ‏يتعرضون باستمرار لعمليات توقيف تعسفية، واعتقالات طويلة دون محاكمة، ويختفون، ويتعرضون ‏للتعذيب بشكل متكرر، وإعدامات خارج نطاق القضاء". وأضاف أن: "العشرات من المنشقين الحقيقيين ‏أو المفترضين قتلوا‎".‎


وأكدت منظمة العفو الدولية أن: "ما لا يقل عن خمسة آلاف من الأورومو اعتقلوا بين عامي 2011 ‏و2014 في أغلب الأحيان "بمبررات مبهمة كتهمة المعارضة‎."‎


واستنطقت المنظمة معتقلين سابقين فروا من البلاد في كينيا وأوغندا ومنطقة أرض الصومال ‏‏(صومالي لاند)، وتحدث المعتقلون عن حالات تعذيب، منها: "الضرب المبرح واستعمال التيار الكهربائي ‏والإيهام بالإعدام والحرق بمعادن ساخنة أو بالبلاستيك السائل وعمليات اغتصاب بعضها جماعية‎".‎

التعليق:‏


دأبت السلطات الإثيوبية وعلى مختلف توجهاتها وانتماءاتها على اضطهاد المسلمين والتنكيل بهم بكل ‏الوسائل في الحبشة، وذلك منذ عهد الإمبراطور الطاغية هيلا سيلاسي وحتى أيامنا هذه.‏


فكان الطاغية آنذاك يضطهد المسلمين باستمرار في الحبشة، ويرتكب ضدهم المجازر تلو المجازر، ‏وبتشجيع كامل من الدول الاستعمارية الأوروبية، لا سيما بريطانيا وإيطاليا المستعمرتين الرئيسيتين للبلاد.‏


ولم يتوقف الاضطهاد في حكم منغستو هيلا مريم الشيوعي الذي تلا حكم هيلاسيلاسي، بل استمر ‏وبكل وحشية مدعوماً هذه المرة من الاتحاد السوفياتي البائد، ولم يتغير شيء على حال المسلمين في ظل ‏الانقلاب الشيوعي، وبقي على ما هو عليه.‏


وتواصل الاضطهاد أيضاً ضد المسلمين في حكم ملس زيناوي الذي أطاح بحكم منغستو هيلا مريم ‏بإسناد أمريكي مكشوف، والذي أصبح فيما بعد رجل أمريكا القوي ليس في إثيوبيا وحسب وإنّما في جميع ‏مناطق شرق القارة الإفريقية.‏


وما زال الاضطهاد مستمراً ضد المسلمين في إثيوبيا وبنفس الوتيرة بعد وفاة زيناوي في العام 2012 ‏وتسلم الحكم من بعده الرئيس الحالي للبلاد هايلي مريم ديسيلين والذي يُعتبر امتداداً لحكم زيناوي التابع ‏لأمريكا.‏


إن ّ الأورومو المسلمين وحدهم يُشكلون أكبر مجموعة عرقية بإثيوبيا ويُقدر عددهم بحوالي 27 مليون ‏نسمة، ولديهم لغتهم الخاصة بهم والمختلفة عن الأمهرية التي تُعتبر اللغة الرسمية للبلاد.‏


ويفوق عدد المسلمين في إثيوبيا من جميع العرقيات عدد النصارى الذين يتحكمون في البلاد، لكن ‏الكافر الغربي المستعمر ما فتئ يدعم الأقليات النصرانية في التمسك بالحكم، ويُساعدها في تشتيت المسلمين ‏وإبعادهم عن مركز القرار بشتى الطرق.‏


فمسلمو إقليم أوغادين الصومالي على سبيل المثال يخضعون للاحتلال الإثيوبي الفعلي، ومسلمو ‏الأورومو يخضعون لحكم عسكري محكم، وأمّا سائر المسلمين الآخرين في مناطق إثيوبيا المختلفة فهم ‏مشتتون ومهمشون ومبعدون عن مراكز التأثير السياسي في البلاد.‏


وكل هذا التنكيل والاضطهاد والتهميش الذي يتعرض له المسلمون في الهضبة الحبشية إنّما يجري ‏بتوجيه مباشر من الاستعمار الكافر من أجل إقصاء المسلمين عن الحكم بطريقة منهجية متعمدة، وإبقاء ‏النصارى وحدهم في السلطة - مع أنّهم الأقلية في البلاد - وذلك خدمةً للنفوذ الغربي، وإضراراً بمصالح ‏المسلمين، ومنعاً لوحدتهم.‏


لقد تحولت الدولة الإثيوبية الآن إلى ما يُشبه دولة يهود في الشرق الأوسط، بعد تبدل النظام العنصري ‏في دولة جنوب إفريقيا، وتخليها عن ذلك الدور، فإثيوبيا اليوم تُعادي جميع البلدان العربية والمسلمة بكل ما ‏أوتيت من قوة، فتتدخل عسكرياً في الصومال، وتُنصب نفسها زعيمة لدول مجموعة الإيغاد التابعة ‏لأمريكا، والتي تقوم بدور شرطي المنطقة، إضافة إلى استمرارها في ممارسة سياسات التنكيل بالمسلمين ‏في داخل إثيوبيا نفسها غير عابئة بتقارير منظمات حقوق الإنسان، ولا آبهةً بمشاعر المسلمين في العالم ‏بسبب ضعف البلاد الإسلامية وهزال أنظمة الحكم فيها، ونتيجة لغياب الراعي الحقيقي للمسلمين المتمثل ‏في دولة الإسلام المبدئية، فالدولة الإثيوبية تعتمد في ارتكاب جرائمها تلك على غطاء استعماري أمريكي، ‏يمنحها شبكة أمان يحميها من المساءلة القانونية الدولية على انتهاكاتها الفظيعة المستمرة ضد أبناء ‏المسلمين.‏


لكن هذا الوضع الدولي الشاذ لن يطول، وإن شاء الله سيأتي قريباً اليوم الذي ستحاسب فيه الأقلية ‏النصرانية الحاكمة في الحبشة على جرائمها المتواصلة ضد المسلمين، ولن تنفعها وقتها أمريكا ولا غيرها ‏من الدول الاستعمارية، وسيحكم إثيوبيا المسلمون حتماً في ظل دولة الخلافة على منهاج النبوة، وستُطوى ‏هذه الحقبة السوداء من تاريخ الحبشة، وستُفتح صفحة جديدة في إفريقيا تُسطر مفرداتُها الجديدة بمداد حكم ‏الإسلام وعدله.‏

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أبو حمزة الخطواني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست