خبر وتعليق   نداء... نداء... نداء  إلى الأمة الإسلامية جمعاء
خبر وتعليق   نداء... نداء... نداء  إلى الأمة الإسلامية جمعاء

الخبر: توجه حزب التحرير بندائه قبل الأخير إلى الأمة الإسلامية بعامة وإلى أهل القوة والمنعة فيها بخاصة، الذي تلاه ناطقو الخير في معظم عواصم البلاد الإسلامية؛ وذلك بعد صلاة الجمعة الثاني من رمــضان 1436هـ، الموافق 2015/06/19م.   التعليق: ابتدأ الحزب نداءه قبل الأخير مذكرا الأمة أنه يتوجه بندائه هذا إليها في شهر رمضان شهر العبادات والقربات والطاعات، الذي يكون فيه المسلم قريبا من الله، صادقا مخلصا في التوجه إليه سبحانه وتعالى، فقال الحزب مخاطبا أمته "وإنا لنسأل اللهَ سبحانهُ العليَ القدير أن تكون قلوبُكم مفتوحةً إلينا، وآذانكم تسمع لنا، فتستجيبوا لما نقول، ومن ثم تكونون من الذين قال الله فيهم ﴿الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُولَئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَاب﴾." ثم ذكّر الحزبُ الأمةَ بما حل ويحل بنا من أحداث ومن تكالب دول الغرب الكافر المستعمر علينا، مذكرا باحتلال يهود للأرض المباركة فلسطين، واحتلال أمريكا للعراق وأفغانستان، وفصلها لجنوب السودان عن شماله، وتيمور الشرقية عن إندونيسيا، وتمكينها لليونان من حكم غالب قبرص، كما تحدث عن إفساد بريطانيا في بلاد المسلمين منفردة كانت أم بمشاركة أمريكا، كذلك فرنسا وروسيا والصين، حتى صغار الدول مثل بورما لم يسلم من أذاها المسلمون. كما نبه الحزب أن دماءنا لم تعد تسفك على أيدي الكفار المستعمرين فحسب، بل لقد أضحت دماؤنا تسفك وتهرق بأيدينا، حيث قال: "وليست هذه الدماء تُسفك بأيدي الكفار المستعمرين فحسب، بل إن عملاءَهم وأدواتِهم من بني جلدتنا يقتتلون فيما بينهم، وتسيل دماؤهم، ويشاركهم في ذلك غيرُ الواعين من المسلمين وهم يظنون أنهم يحسنون صنعاً، فيقتتلون في سوريا قتالَ ألدِّ الأعداء مع بعضهم، ويقتتلون في العراق كأنهم في الجاهلية الأولى... ويقتتلون في ليبيا قتالاً شرساً، وفي اليمن قتالاً عنيفاً... ثم في شيءٍ من قتال في مصر وفي تونس، كل ذلك بجرائِمَ لم يحدث مثلُها من قبل بأيدي المسلمين في قتل بعضهم بعضاً". ثم أوضح أن هناك سفكا وقتلا لا يُسيل جُرح الأجساد، بل يفتك بالعقل والفؤاد، منوها لما يقوم به بعض أبناء المسلمين من أعمال لصرف المسلمين عن الخلافة أو تشويهها في أنظارهم، لمّا فشل الغرب الكافر في ذلك، فقال: "... قام نفرٌ من المسلمين فصنعوا ما لم يستطعه الكفار المستعمرون، فعقدوا مؤتمراتٍ ومؤتمرات يحرِّفون فيها الكَلِم عن مواضعه، ويقولون إن الخلافةَ حدثٌ تاريخي وليس حكماً شرعياً واجباً في الإسلام... وقام غيرهم فصنعوا أكثر من ذلك في حرب الخلافة، فشوَّهوها باسمها، وارتكبوا المجازر والجرائم تحت عنوانها، فزعموا خلافةً على غير وجهها، وقاموا باسمها بما لا يخطرُ من مساوئَ على ذهن بشر، فهيأوا الطريق للكفار المستعمرين ولكل أعداء الإسلام، ومهَّدوها لتُستغلَّ تلك الجرائمُ، ويتمَّ إبرازُها للناس على أن الخلافةَ هي جرائمُ بعضُها فوق بعض، ومن ثم يكرهُ الناسُ الخلافةَ، ويبتعدون عنها فتكون على غير ما هي في أذهانهم مشرقةً عظيمةً، بل مظلمةً قميئةً! وهكذا... فحالُ المسلمين اليوم ظلماتٌ بعضها فوق بعض، وليست هذه الظلمات بأيدي الكفار المستعمرين فحسب، بل يشاركهم فيها، أو يفوقهم فيها، منتسبون إلى الإسلام، فيسيئون إليه رافعين شعاراً ضده، أو يسيئون إليه رافعين شعاراً باسمه!!" وبعد أن استعرض الحزب ما كان عليه حال العرب في الجاهلية من فساد واقتتال فيما بينهم وسفك دماء بعضهم بعضا لأتفه الأسباب، ومن عمالة للدول الكبرى آنذاك، وكيف أن الرسول عليه الصلاة والسلام أنهضهم من تلك الجاهلية المظلمة، وأصبحوا يجاهدون في سبيل الله، حاملين الخير والعدل في العالم حيث حلّوا، بعد ذلك بيَن أن هذا الأمر لا يصلح إلا بما صلحَ به أوله، حكمٌ بالإسلام في دولةِ خلافة راشدة، تُظلُّها رايةُ العقاب، رايةُ رسول الله عليه الصلاة والسلام، بالطريقة نفسها التي بلّغ الرسول عليه الصلاة والسلام رسالة الإسلام بها. ثم كان لا بد من تذكير الأمة بماضيها التليد في ظل دولة الخلافة وقادتها العظام، فقال الحزب في ندائه قبل الأخير هذا: ".. أنتم أحفادُ الراشدين، أحفادُ فاتحي الأندلس وناشري الحضارة الإسلامية فيها... أحفادُ المعتصم الذي قاد جيشاً لجباً لإغاثة امرأة ظلمها رومي فقالت وامعتصماه... أحفادُ الرشيد الذي أجاب ملك الروم لنقض عهده مع المسلمين بجيش يراه قبل أن يسمعه... أحفادُ الناصر صلاحِ الدين قاهرِ الصليبيين... أحفادُ قطز وبيبرس قاهرَيِ التتار... أحفادُ محمد الفاتح الأميرِ الشاب الذي شرَّفه الله بفتح القسطنطينية «... فَلَنِعْمَ الْأَمِيرُ أَمِيرُهَا، وَلَنِعْمَ الْجَيْشُ ذَلِكَ الْجَيْشُ» كما قال عليه الصلاة والسلام.. أحفادُ الخليفةِ سليمانَ القانوني الذي استغاثت به فرنسا لفك أسر ملكها... أحفادُ الخليفة سليم الثالث، الذي في عهده دفعت الولايات المتحدة الأمريكية ضريبةً سنويةً لواليه في الجزائر للسماح للسفن الأمريكية أن تمرَّ بأمانٍ في البحر المتوسط... أحفادُ الخليفة عبد الحميد الذي لَم تُغره الملايينُ الذهبية التي عرضها اليهود لخزينة الدولة، ولَم تُخِفْه الضغوط الدولية التي استقطبوها ضده للسماح لهم بالاستيطان في فلسطين وقال قولته المشهورة "إن عمل المبضع في بدني لأهونُ علي من أن أرى فلسطين قد بُترت من دولة الخلافة... فليحتفظ اليهود بملايينهم... وإذا مُزِّقت دولةُ الخلافة يوماً فإنهم يستطيعون آنذاك أن يأخذوا فلسطين بلا ثمن"." ثم عقب بعد هذا السرد السريع لبطولات أولئك القادة الأفذاذ في ظل الخلافة، بقوله: "هكذا هي الخلافةُ، وهكذا هم المسلمون في ظل الخلافة... وأولئك هم أجدادُكم أيها المسلمون وتلك فعالُهم، وأنتم أحفادُهم، فهلمَّ إلى الحق الذي اتبعوا فاتبعوه، وإلى العز الذي صنعوا فاصنعوه." أخيرا اختتم الحزب نداءه قبل الأخير إلى الأمة الإسلامية بعامة، وإلى أهل القوة والمنعة فيها بخاصة بقوله: "هذا النداء قبل الأخير نتوجه به إليكم: نستنصركم فانضموا لمن سبقوكم بنصرتنا، ونمدُّ إليكم أيديَنا فشدوا عليها والحقوا بأهل مَنَعتِنا، فقد أوشك الركبُ أن يسير فشاركونا المسير ﴿وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَرِيبًا﴾ ونحن مطمئنون بنصر الله ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾." اللهم لا تجعل نداءنا هذا صرخة في واد، ولا نفخة في رماد، اللهم هيئ لندائنا هذا قلوبا واعية وآذانا صاغية، اللهم واجعل أفئدة من المسلمين من أهل القوة والمنعة تهوي إليه، فتأخذه على محمل الجد، فيهبوا لنصرة دينك، وإعزاز عبادك، ويعطوا النصرة لحزب التحرير لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، ومبايعة العالم الجليل عطاء بن خليل أبو الرشتة أمير حزب التحرير خليفة للمسلمين، فينالوا بذلك شرف الأنصار الأوائل، ويكونوا كسعد وسعد.. وما ذلك على الله بعزيز.. اللهم آمين     كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرمحمد عبد الملك

0:00 0:00
Speed:
June 25, 2015

خبر وتعليق نداء... نداء... نداء إلى الأمة الإسلامية جمعاء

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست