خبر وتعليق   نساء الروهينجا يُغتصبن في المخيمات فأيّ دبلوماسية ينتهجون وبم يبشرون؟؟
خبر وتعليق   نساء الروهينجا يُغتصبن في المخيمات فأيّ دبلوماسية ينتهجون وبم يبشرون؟؟

الخبر: ذكرت وكالة فرانس برس في 2015/6/2 نقلا عن وكالة الأنباء الماليزية "برناما" أن نساء الروهينجا تعرضن للاغتصاب في مخيمات اللجوء في تايلاند، وروت نورا خايدا (24 عاما) من اللاجئات الروهينجيات: أن حراس المخيم كانوا يختارون كل ليلة اثنتين أو ثلاثاً من الفتيات الجميلات من الروهينجا ويأخذونهن إلى مكان سري حيث يتناوب الحراس على اغتصابهن وقد حملت اثنتان من الفتيات نتيجة للاغتصاب. روت خايدا أيضاً أن الفتيات كن يتغيبن عن المخيم التايلندي لعدة أيام لأن الحراس كانوا يتاجرون بهن، وقالت نورا خايدا أن الحراس كانوا يستهدفون الفتيات وهي امرأة متزوجة ولديها طفل برفقتها ولكن بالرغم من ذلك فهي تدعو الله كل يوم أن لا تتعرض للاغتصاب.     التعليق: لا حول ولا قوة إلا بالله.. بينما تقع علينا هذه الأخبار كالنبال تأتي التصريحات الإعلامية لوزراء الخارجية في بلاد المسلمين ببرود ولا مبالاة ونمطية دبلوماسية جامدة لا تتجاوز عبارة "نراقب عن كثب تطورات أوضاع مسلمي الروهينجا". نعم إنهم يراقبون ثم يستمرون في البروتوكولات الدبلوماسية مع ميانمار وحكومتها التي ترعى الإرهاب البوذي، يراقبون ولا يفعلون ويتابعون المشهد منذ أن اغتصب أفراد جيش ميانمار المسلمات بشكل ممنهج عبر السنوات الماضية وبعد أن روع الرهبان البوذيون الأسر الآمنة وركب الناس القوارب البالية هربا بالدين والعرض والنفس. نعم حكام المسلمين وآلتهم الدبلوماسية يتابعون أوضاع المنكوبين في عرض البحر في صمت وبلادة بينما تتمادى الدولة الحاقدة في غيها ضد المستضعفين وتمكن العصابات من رقاب العباد.. يتابعون بينما تتنقل أخبار الروهينجا من مقابر جماعية لمتاجرة بالبشر لهتك للأعراض وقوارب مكتظة تبحث عن مرسى وتستغيث بأمة أفلت عنها شمس الخلافة وغُيّب عنها الإمام الجنّة. إنه صمت مدوّ لا تؤثّر فيه معاناة طال أمدها ولا صرخات الأيامى ودموع الرجال واستغاثة المستضعفين ولا حرقة دم من انتُهِك عرضُه. للأسف الروهينجا يناشدون من كبّلته قيود دبلوماسية رتيبة تقدّم المصلحة الوطنية والمنفعة الشخصية على إغاثة المسلم ونصرة من أمر الله بنصرته. الروهينجا يستغيثون بمن يتشبث بالحلول الدبلوماسية بينما ميانمار ترعى الرهبان البوذيين الحاقدين على الإسلام وتوفر لهم حماية الجيش. لقد أصبحت هذه الدبلوماسية العقيمة جزءاً من المؤامرة على الروهينجا ولا يعقل أن توضع في إطار الحلول والمعالجات. وأيّ دبلوماسية هذه مع نظام يمارس التطهير العرقي ويسعى لمحو أثر وهوية أهلنا الروهينجا، تارة يرفض أن تطرح قضية الروهينجا في "آسيان" أو أي محفل دولي وتارة أخرى يعلن القلق على الرهبان البوذيين من تمادي الروهينجا العزل المحاصرين في معسكرات أشبه بمعسكرات النازيين ثم يتباكى ويدّعي أنهم بنغال يسيئون لاسم ميانمار وسمعتها في المحافل الدولية!.؟ أيّ دبلوماسية هذه مع نظام يرفض الاعتراف بأكثر من مليون مسلم من الروهينجا بعد أن أصدرت ميانمار البيانات النهائية لأول إحصاء سكاني شامل منذ 30 عاما مستثنية منه أقلية الروهينجا.!؟ أيّ دبلوماسية هذه والنظام العسكري في ميانمار ينكر أي دور له في الأزمة الحالية في بحر أندامان ويزعم أنّ اضطهاد الروهينجا لم يؤدّ إلى أزمة المهاجرين العالقين في بحر أندامان وأنّ الأزمة خلقها التضخّم السكاني في بنغلادش حيث تمّ تزوير البيانات ويزعم أنّ من تمّ إنقاذهم هم من البنغال الفارّين من الأزمة الاقتصادية في بلادهم. (رويترز 2015/6/4)!؟. يمارس النظام العسكري البوذي في ميانمار التطهير العرقي بينما حكومات بلاد المسلمين تراقب وتتابع الوضع وتكتفي بالمعونات والتبرعات فإذا بحكومة ميانمار تستولي على المعونات التي تصل المسلمين وتسلمها إلى البوذيين كما ذكر د. عبد السلام بن منير أحمد، مفتي مسلمي ميانمار (الشرق الأوسط 2015/6/3). إنه نظام يجوِّع المسلمين ويحاصرهم ثمّ يشرّدهم ويضعهم عرضة للأذى ومكر الذئاب البشرية. يقتل فيمحو آثار الجريمة ويحاول أن يضيع حق الروهينجا عبر وضع إطار عام لقضية الهجرة غير الشرعية وأزمة المهاجرين وجشع المهربين ويطرحها كقضية آنية تؤثر على المنطقة بأسرها اقتصاديّا وأمنيّا. إنّ هذه الدبلوماسية الخرساء العقيمة في بلاد المسلمين وكلّ من بيده أن ينصر هؤلاء المستضعفين ولم يفعل ذلك هو مدان بجرم التّواطؤ.. تواطؤ على حرق المحلّات وتهجير الناس من بيوتهم واستعباد البشر في مخيمات لجوء في دول الجوار وتواطؤ على هتك أعراض المسلمات العفيفيات.. ولا يستثنى أحد من هذا التواطؤ فالجيوش تراقب وأهل الرأي والإعلاميون صامتون عن قضايا الأمّة مشاركون في ظلم الروهينجا وهضم حقوق المسلمين المستضعفين. يا أهل النصرة والمنعة، أين أنتم من قول الله تعالى ﴿وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾!! إن خذلانكم لإخوتكم وهم يحرقون أمام أعينكم لهو خزي الدنيا وعذاب الآخرة، ماذا أنتم قائلون لربكم حين يسألكم عن نساء المسلمين اللواتي يتاجر بهن في تايلاند أو تنتهك أعراضهن في ميانمار؟ إن الله حَييٌ كريمٌ غيورٌ ويُحبُ الغَيُورين وإن أعراضكم كأرواحكم أفلا تهبّوا لنصرة أخواتكم المستضعفات؟! وإن كان منكم من فسدت فطرته ولا غَيرة عِنده فباطنُ الأرضِ أولى بهِ من ظهرها ونياشين الكون لن ترفع شأن من استصغر نفسه وفرط في عرضه وإن الله لسائلكم ومحاسبكم. اللهم هل بلغنا، اللهم فاشهد اللهم فاشهد. إنّ حق المسلم على المسلم أن ينصره ويذود عنه وهذه أمانة نُسأل عنها يوم القيامة. ﴿فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِيْنَ * عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [الحجر: 92-93]     كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرهدى محمد (أم يحيى)    

0:00 0:00
Speed:
June 08, 2015

خبر وتعليق نساء الروهينجا يُغتصبن في المخيمات فأيّ دبلوماسية ينتهجون وبم يبشرون؟؟

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست