الخبر: ذكرت وكالة الأناضول للأنباء في 2015/05/09 أن شوارع العاصمة الفرنسية باريس شهدت توزيع أزهار للمارة في إطار حملة بعنوان "أنا مسلم"، نظمها فرع جمعية "التيار الوطني للمجتمع الإسلامي"؛ بهدف القضاء على الأحكام المسبقة التي تكونت لدى الشارع الفرنسي بحق المسلمين، بعد الهجوم الذي تعرضت له صحيفة "شارلي إيبدو" الساخرة في كانون الثاني/ يناير الماضي. وقامت الجمعية بتوزيع أزهار للمواطنين في ميادين: "الجمهورية"، و"الأمة"، و"باستيل"، في باريس، إضافة إلى كتيبات حملت عنوان "تفضل، أنا مسلم"، تحتوي على معلومات حول معنى ورسالة الإسلام. وقام المسؤولون عن توزيع الأزهار بالتعريف عن محبة الرسول محمّد عليه الصلاة والسلام، ومعنى السلام الاجتماعي في الإسلام لمن يسأل عن المعنى الذي تحمله تلك الأزهار. تجدر الإشارة إلى أن الاعتداءات في فرنسا ضد أماكن العبادة ومقابر المسلمين؛ ارتفعت بشكل غير مسبوق في عام 2015، منذ حادثة "شارلي إيبدو". الجدير بالذكر أن 17 شخصًا لقوا مصرعهم في هجمات مختلفة، بدأت في 7 كانون الثاني/ يناير بهجوم على مجلة "شارلي إيبدو"، واستمرت ثلاثة أيام، وتمكنت الشرطة الفرنسية من القضاء على منفّذيها، ورفعت السلطات الفرنسية عقب الهجمات؛ التدابير الأمنية إلى أعلى مستوى، وبدأ الحديث عن إجراء تعديلات قانونية إضافية. التعليق: ألا يرى العالم في الاعتداء على دور العبادة وعلى النساء ومنعهن من ارتداء ما فرضه الشرع عليهن انتهاكًا واعتداءً في حق المسلمين وحقدًا دفينًا على الإسلام، في ظل تبجح النظام الفرنسي بديمقراطيته الزائفة وحرياته المزعومة. حيث يشهد الإسلام بأحكامه وأفكاره ورموزه أن وصل الأمر إلى التعدي على المبعوث رحمةً للعالمين النبي المصطفى محمد عليه الصلاة والسلام هجمةً شرسةً وممنهجةً غير مسبوقة من قبل المعربدين الغربيين والحاقدين المبغضين وأعوانهم من حكام الضرار ومن مثقفين ومفكرين مضبوعين ومجبولين على كره الإسلام والمسلمين.. فقد تعرض المسلمون لسلسلة اعتداءات وتجرؤ على دين الله وعلى حملته في أعمال إجرامية وانتهاكات صارخة لحقوقهم وأدائهم لشعائرهم الدينية في بلاد تطلق على نفسها زورًا وبهتانًا أنها عراب الديمقراطية وبيتها، ولكن أفعالهم المشينة وتستر قوانينهم القاصرة عن محاسبة من يعتدي وينكل بالمسلمين قد فضحت عوارهم وزيف قوانينهم وفساد ديمقراطيتهم. هذا حال المسلمين في بلاد الغرب الحاقد حيث يعانون ولا يأمنون على أنفسهم ولا يخلى بينهم وبين ما يعتقدون فلا يهنأون بعيش ولا يطمئنون في عبادة.. فأتت ردة فعل حكام بلاد الإسلام تجاه هذه الحرب الشعواء ردًا فاضحًا مخزيًا تجاه ما يعانيه المسلمون! فلم تكن سوى عار وشنار يضاف لتاريخهم الأسود الحافل بتخليهم وخذلانهم لأمة الإسلام، فكانت ردة فعلهم بأن قاموا بمشاركة دول الكفر حربهم على الإسلام والمسلمين بوقفة اعتصامية جابت شوارع فرنسا تنديدًا بالعمل الإرهابي ضد من أساء لرسول الله، ووصف من قاموا به بأنهم إرهابيون معتدون ويجب معاقبتهم وعدم التساهل معهم.. ولا يصح اتخاذ هذه الرسومات والتي لا تعبر إلا عن رأي أصحابها ذريعةً لتأجيج الكره والبغض بين الغرب والمسلمين، وكأن العلاقة بينهما أخوية لا تستوجب العداء واتخاذ موقف حازم تجاه هكذا انتهاكات.. فلولا موقف حكام المسلمين المخزي والمشين لما كان لفرنسا وأمريكا وغيرهما من الدول الغربية أن تتجرأ بالاعتداءِ على الإسلام والمسلمين أو أن تسمح لأفرادها بالتطاول والإساءةِ للرسول عليه الصلاة والسلام والقرآن المجيد، ولو أنها وجدت ردًا يزلزل أركانها ويهدم بنيانها ويؤدب سفهاءها، ولكن أنى لحكام الضرار الذين ألِفوا الذلة والمهانة والاستخذاء أمام الأعداء أن يتخذوا موقفًا يرضي الله ورسوله ويعيد للأمة عزتها وكرامتها، فهؤلاء الأقنان آخرهم الشجب والاستنكار اتقاءً لغضب الشعوب... أنى لهم ذلك وهم أشد عداءً للإسلام والمسلمين بأن يردوا اعتداءً ويذودوا عن الأمة ويحموا بيضتها وهم العدو. أنى لهم بموقف حزم للمسيئين والمتجرئين على مقام النبوة، كما فعل السلطان عبد الحميد الثاني عندما سمع بمسرحية تُعدُّ لتعرض في مسارح فرنسا فيها إساءة لرسول الإسلام، فما كان منه إلا أن استدعى قنصل فرنسا وأبلغه رسالة شديدة اللهجة والتهديد مفادها بأن عرض هذه المسرحية هو بمنزلة إعلان الحرب ضد دولة الإسلام، فارتجفت فرائص فرنسا وأوقفت على الفور هذه الحماقة وانتهت الإساءة وردت هيبة المسلمين، فهكذا يكون رد الأذى.. هكذا يتم الأمر وعلى هذا الصعيد، واليوم عندما علم أعداء هذه الأمة بأن المسلمين لا معتصم ولا عبد الحميد لهم يهدد بإعلان الجهاد ضدهم، عندما علموا بأنهم بلا خليفة يحمي الحِمى ويرد الهيبة، تطاولوا وتمادَوا في غيهم غير آبهين بأعمال فردية هنا وهناك، عندما اطمأن الغرب بأن للمسلمين حكامًا يغلقون الحدود، ويقفون سدًا منيعًا دون حراك الأمة وهبتها للذود عن نبيها وعن دينها.. هكذا يكون الرد بدول تتصدى وجيوش تزمجر وأنظمة تدفع العدوان، لا أن يترك الأمر للأفراد والجماعات والمنظمات تجتهد في طريقة ردها للعدوان فتبتدع طرقًا هزيلةً ذليلةً تدافع فيها عن دينها فتستجدي دول الغرب طالبة العفو والرضا، فمن توزيع للورود، للخروج في مظاهرات، فتقف هذه الجمعيات موقفًا مستكينًا ذليلًا لا يمت لحملة الإسلام وقوته بصلة.. فمنذ أن هدمت الخلافة التي تقيم الأحكام وترد الأذى وتنشر الخير والأمة ضعيفة مهانة، ليس لها من يرد ويدفع الظلم عنها، ومنذ ذلك اليوم الأسود وديننا في إساءة مستمرة، لا تتوقف إلا بإعادة ما فقد، فمن أحب نصرة النبي وشرعه ووحيه فليعمل بكل جد واجتهاد مع العاملين لإقامة الخلافة الحقيقية الراشدة التي على منهاج النبوة التي تميط أذى الأعداء وتعيد للأمة هيبتها المفقودة وعزها الغابر، وعندها نستحق بإذن الله رضوانه وشفاعة نبيه عليه الصلاة والسلام.. كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريررائدة محمد
خبر وتعليق نصرة الأمة لا تكون إلا بدولة تعيد لها الكرامة والعزة
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست