خبر وتعليق   قصص نجاح حصول النساء على حقوقهن في ظل الرأسمالية هي قصص مزيفة   (مترجم)
خبر وتعليق   قصص نجاح حصول النساء على حقوقهن في ظل الرأسمالية هي قصص مزيفة   (مترجم)

الخبر: ذُكر أنه في 25 نيسان/أبريل عام 2015 قامت هيلاري كلينتون، المرشحة للرئاسة الأمريكية، بالاستشهاد بسيدات الأعمال الهنديات اللواتي انضممن للقوى الداعمة لقروض المشاريع الصغيرة بينما كانت تدعو بشكل واضح لتحقيق المساواة في الأجور، ووضع حد للعنف الجنسي، وتوفير فرص للنساء أسوة بالرجال حول العالم. وقد قالت لجمع من النساء في مؤتمر القمة العالمي السنوي السادس "النساء في العالم" الذي يُعقد في مدينة نيويورك إن الرجال والنساء على حد سواء يجب أن يكونوا "عناصر للتغيير" ويساهموا في التقدم المطلوب لضمان وجود عالم متساو للجميع. وقالت إن الأمل يتضح في أن العالم اليوم أقرب من أي وقت مضى لتحقيق هذا التغيير، واستشهدت كلينتون بواقع المرأة في الهند وبنغلاديش وليبيريا وكيف أنها تعمل بكل جد لتحسين حياتها وتأمين حقوقها. فقد قالت كلينتون أمام حشد من المشاهير ورجال الأعمال والناشطين والطلاب: "لقد رأينا أن المرأة في جميع أنحاء العالم تصبح عنصرًا من عناصر التغيير، ومن العاملين لتحقيق التقدم، ومن صُنّاع السلام. ولقد رأيت نساء فقيرات جدًا في الهند وبنغلاديش يتكاتفن معًا للحصول على قروض صغيرة ليبدأن مشاريعهن التجارية الصغيرة". وأضافت: "لا يزال الكثير من النساء يتلقين أجورًا أقل من الرجال عن نفس العمل، ويتسع هذا الفارق بشكل أكبر بالنسبة للنساء من ذوات البشرة غير البيضاء". [المصدر: تربيون إنديا]   التعليق: لقد استغلت أمريكا والدول الغربية الأخرى فكرة حقوق النساء كذريعة لاحتلال واستعمار ونهب ثروات دول العالم الثالث وبلاد المسلمين منذ القرن الماضي. ولقد قام هؤلاء السياسيون الرأسماليون بتقديم وعود وردية - كالمساواة في الأجور، ووضع حد للعنف الجنسي وتوفير فرص متكافئة - ملايين المرات للنساء حول العالم، ولكن تلك الوعود لم تجلب للنساء شيئًا سوى مزيد من العنف والتحرش الجنسي والإذلال. إن أمريكا تستخف بعقول رعاياها وكذلك تستخف بعقول الناس في جميع أنحاء العالم بادعائها أنها حققت قصص نجاح من خلال توفير مزيد من فرص العمل للنساء في دول العالم الثالث والبلدان النامية، بينما في الواقع تقوم أمريكا مع الدول الغربية بدفع المرأة في دول مثل الهند وبنغلاديش وباكستان للعمل في وظائف ذات ظروف مهينة، وبساعات عمل طويلة جدًا، وبأجور منخفضة لا تكاد تكفيها قوت يومها. إن الدول الرأسمالية هذه بما تحمله من منظومة فكر استعماري، تريد أن تحقق أقصى قدر من الأرباح من خلال استغلال القوى العاملة الرخيصة الموجودة في هذه الدول الفقيرة في مجالات مثل صناعة الملابس، والمنسوجات، والمشاريع الزراعية الصغيرة وغيرها من مجالات الصناعة الصغيرة. والظروف المعيشية لغالبية سكان هذه الدول هي ظروف فقر مدقع، وذلك بسبب القروض الربوية التي يوفرها لهم صندوق النقد الدولي والبنك الدولي، فيعانون بسبب ذلك من ظروف شاقة وضرائب ثقيلة، وارتفاع أسعار السلع والخدمات؛ فتترك النساء بيوتهن للقيام بأعمال من أجل إطعام أنفسهن وأسرهن. وعلاوةً على ذلك، فإن كلينتون تصف نظام التمويل الصغير هذا بأنه يساعد النساء، إلا أن قصص النجاح الموجودة تكاد لا تذكر بينما تجبر الغالبية العظمى من النساء اللواتي أخذن القروض، في دول مثل الهند وبنغلاديش، على دفع مبالغ ضخمة من الربا لبقية حياتهن. ولم يستطعن تحسين مستوى معيشتهن كما وعدتهن هذه المؤسسات التمويلية التي توفر هذه القروض الصغيرة. فعلى سبيل المثال، في قرية جوربا في بنغلادش، حيث يعيش يونس الذي أخذ قرضًا صغيرًا من بنك جرامين، إلا أنه ما زال فقيرًا كما كان في سنوات السبعينات من القرن الفائت. وفي الوقت نفسه يزداد عدد الرجال في قرية جوربا الذين يضطرون للقيام بأعمال يومية متعددة في مدينتي دكا وشيتاغونغ المجاورتين ليتمكنوا من سداد أقساط قروضهم الصغيرة والتي في جميع الحالات تقريبًا لم تساعد على إيجاد أعمال تعود عليهم بالأرباح. أما بالنسبة لقضايا التحرش الجنسي واستغلال النساء كأداة لمتعة الرجال، فقد تضاعفت في ظل تطبيق نظام الحريات الرأسمالية. فالمرأة في الهند وباكستان وبنغلادش ودول أخرى، تتعرض للاغتصاب والتعذيب والإذلال في ظل الوعود البراقة للمرأة بإعطائها حقوقها وتمكينها وتوفير فرص متكافئة لها. وما زالت المرأة الآن تتعرض لخداع النظام الرأسمالي العلماني الغربي لأكثر من قرن من الزمان. لقد فشل النظام الغربي الرأسمالي فشلًا ذريعًا، ومهما حاول جاهدًا حماية المرأة تحت شعار المساواة والتمكين، فقد أصبح عارًا ومحط سخرية لأصحاب لحملة العقيدة الصادقة. ولقد حان الوقت الآن للنظر إلى نموذج بديل، نظام قد تم التحقق من صدقه وقدرته، وطُبّق بنجاح باهر لأكثر من 1300 عام، والسبب في قدرته على علاج كافة المشاكل والقضايا أنه جاء من الله سبحانه وتعالى الخالق المدبر للكون والإنسان والحياة وليس من عقل الإنسان القاصر. ولقد استطاع نظام الحكم في الإسلام الذي يطبق في دولة الخلافة الإسلامية أن يرفع من مكانة المرأة من مجرد متاع إلى أعلى المراتب كأم وزوجة وأخت وابنة، ويجب حمايتها ورعايتها وتوفير كل حاجاتها وأن تعامل كإنسان لا تختلف عن الرجل في الإنسانية. وهو نظام يضمن لها حقوقها الأساسية كالمأكل والمسكن والتطبيب والتعليم في جميع الظروف، ويضمن لها قدرتها على الالتحاق بأي مهنة تختارها دون الخوف من أن تُستغَل أو تتعرض للأذى. إن دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة هي وحدها القادرة على ضمان حقوق المرأة وتحريرها تحريرًا حقيقيًا من ظلم الأنظمة الوضعية. وهي وحدها القادرة على القضاء على الفقر كما فعلت من قبل. يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيهِم مِّن رَّبِّهِمْ لأكَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ سَاء مَا يَعْمَلُونَ﴾ [المائدة: 66]       كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرعمارة طاهرعضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

0:00 0:00
Speed:
April 28, 2015

خبر وتعليق قصص نجاح حصول النساء على حقوقهن في ظل الرأسمالية هي قصص مزيفة (مترجم)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست