الخبر: أقسم نائب رئيس المؤتمر الوطني بروفيسور/ إبراهيم غندور، بأن المؤتمر الوطني أقوى حزب في أفريقيا والمنطقة العربية، وشدد غندور على أنه مطلوب منهم حماية أنفسهم، وقيادات الحزب والبلاد من فساد النفس، وشحها، وقال: "مطلوب أن نقيم العدل بين الناس، لا نظلم أحداً، ومطلوب أن نسعى لخدمتهم ولا نتقاعس، ومطلوب أن نحمي أنفسنا، ونحمي بلادنا وإخواننا من فساد النفس وشح النفس، ونحمي بلادنا من كل طامع"، كان هذا في مخاطبته احتفال النصر، الذي نظمه المؤتمر الوطني بولاية الخرطوم. (صحيفة آخر لحظة الأحد 2015/04/26م). وفي إطار الاحتفال نفسه قال الدكتور عبد الرحمن الخضر - والي الخرطوم: "إن المؤتمر الوطني حزب عملاق، ونحن عمالقة بأفكارنا وأعمالنا". التعليق: لقد ذكر البروفيسور/ إبراهيم غندور أن حزب المؤتمر الوطني أقوى حزب في أفريقيا والمنطقة العربية، وفي إشارة ضمنية حدد أسباب القوة (الحماية من الفساد)، و(نشر العدل )، و(خدمة الناس وحماية البلاد). وسنناقش في عجالة هذه النقاط على أرض الواقع، فقد ذكر مسألة الفساد في بداية حديثه، وذكرها مرة أخرى في نهاية الحديث، مما يؤكد أهميتها عنده، يقول تقرير لمنظمة الشفافية الدولية؛ إن السودان يسير نحو الانحدار في سلم الفساد. وفي العام 2012م احتل السودان المركز الرابع قبل الأخير، أما في العام 2014م، فقد صار السودان منافساً لأفغانستان والصومال على المركز الأخير.لقد صار الفساد في السودان هو حديث العامة والخاصة؛ مما دفع بنائب رئيس المؤتمر الوطني نفسه، في مخاطبته لندوة وثيقة الإصلاح؛ التي أقامتها أمانة المرأة، طالب غندور الذين يطأطئون رؤوسهم من عضوية حزبه بسبب الحديث عن الفساد برفع رؤوسهم، قائلاً: "ارفع رأسك، وقل أنا مؤتمر وطني في عين أي زول"، والجدير بالذكر أن البرلمان قد رفض إسقاط المادة (13) من قانون الثراء الحرام؛ والتي تتحدث عن التحلل، واستخدمت فيها ما يسمى بقضية مكتب الوالي، والتي بموجبها تمت تبرئة المتهمين، مقابل إرجاع ما تبقى مما أخذوه من المال العام. فهي مادة تشجع على الفساد، وتقول اختلس، وإذا تم القبض عليك فتحلل. وأيضاً ذكر غندور (العدل بين الناس)، بوصفه أحد ركائز القوة. إن العدل معروف عند المسلمين بأنه تطبيق أحكام الإسلام، فهل طبق الإسلام في السودان؟! تحدث رئيس الجمهورية في القضارف عقب انفصال الجنوب، عن الشريعة التي سوف يطبقها لن تكون (مدغمسة)، في إشارة واضحة إلى أنه لم يكن يطبقها بطريقة صحيحة. وفي الدعاية الانتخابية الأخيرة قال أيضاً إنه سوف يطبق شريعة نظيفة، بل إن الحكومة التي تستند على حزب المؤتمر الوطني، قد أقرت بأنها كانت تحابي في الخدمة المدنية، وكان معيار الاختيار للخدمة هو الولاء للحزب، حيث ذكر الرئيس "إن عهد التمكين والتسييس في الخدمة المدنية قد انتهى"، أفَبعد هذا تتحدث عن العدل؟!. أما حماية البلاد من الخارج، ففي عام 2009م شن سلاح جو كيان يهود ثلاث غارات على السودان في الحدود مع مصر، وفي 2011/06/04م استهدفت سيارة (برادو) في مدينة بورتسودان في ولاية البحر الأحمر، أدت إلى سقوط قتيلين، وفي تشرين الأول/أكتوبر 2012م وجُهت ضربة عنيفة لمصنع اليرموك جنوب الخرطوم، وهذه الأيام يدور الحديث عن جسم غريب أو طائرة بدون طيار أو نحو ذلك، تم استهدافها من القاعدة الجوية في أم درمان، فهل هذه هي حماية البلاد من العدوان الخارجي؟! أما داخلياً، فحدث ولا حرج، فقد تم فصل ثلث السودان الغني بالثروات، لا بل وضعت بقية أقاليم السودان على حافة الانفصال، وبدل أن كانت الحرب تدور في حدود السودان الجنوبية فقط، صارت الحروب تستعر في دارفور وجنوب كردفان والنيل الأزرق، وقد استهدفت مناطق في شمال كردفان، بل في 2008/05/10م وصلت قوات التمرد إلى قلب عاصمة البلاد، فأين حماية البلاد؟! إن الحزب لكي يكون قوياً، لا بد أن يكون قائماً على فكرة، وليس على شعارات، كما اتخذها المؤتمر الوطني في بداية عهد الإنقاذ، ثم ما لبث أن تخلى عنها، ففي الكلمة التي ألقاها علي عثمان محمد طه، النائب الأول السابق لرئيس الجمهورية، وأحد القيادات البارزة في حزب المؤتمر الوطني، في منتدى الإسلام الذي أقيم في كوالالمبور للحركات الإسلامية، قال طه: "إن شعار الإسلام هو الحل لم يحقق العدالة الاجتماعية، ولم يخلق برنامجاً للعدالة الاجتماعية، لأنه تعامل ببساطة مع قضايا المجتمع". أما الدكتور أمين حسن عمر، والذي يعتبر من مفكري المؤتمر الوطني، والعضو البارز فيه، فقال لبرنامج (الميدان الشرقي) الذي تبثه فضائية أم درمان: "إن حزبه لن يقاتل الناس في سبيل تطبيق الشريعة الإسلامية". إن قوة الحزب تقتضي ألا يقوم الحزب على أشخاص ليكون حزباً وراثياً، يتوارث قيادته الأبناء عن الآباء، فما يلبث أن يموت المؤسس، فيتشظى الحزب إلى مجموعة أحزاب صغيرة لا تحرك ساكناً. ولا يكون الحزب مجرد مسمى فينتهي بنهاية النظام الذي أوجده كالحزب الاشتراكي السوداني الذي انتهى بسقوط نميري، أو التجمع الدستوري الديمقراطي في تونس الذي انتهى بفرار ابن علي، أو الحزب الوطني الديمقراطي في مصر حيث سقط بسقوط مبارك.. وغيرها من الأحزاب. ولا يقوم الحزب على تقاسم المصالح والمنافع، فيتناحر أعضاؤه إذا تعارضت المصالح. يجب أن يقوم الحزب على فكرة شاملة لها حلول لكافة قضايا الحياة، على أساس عقيدة ثابتة، ويكون الحزب أكثر قوة إذا كانت العقيدة صحيحة من فوق سبع سماوات، والتي تحملها الأمة. هذا هو الحزب الذي أمر الله سبحانه المسلمين بإيجاده والانضمام تحت لوائه، قال تعالى: ﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾. كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرالمهندس/ حسب الله النور
خبر وتعليق قوة الحزب تكمن في قوة فكرته لا في كثرة أتباعه
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست