خبر وتعليق    روسيا تستعيد إرثها وحقدها في حربها على الإسلام وأهله
خبر وتعليق    روسيا تستعيد إرثها وحقدها في حربها على الإسلام وأهله

  الخبر: ذكرت الجزيرة نت بتاريخ 12 تموز/يوليو 2015 أن السلطات المحلية بمدينة نوفي أورينغوي هدمت مسجد نور الإسلام الذي تم تشييده عام 1996 في روسيا.. والذي لم يتمكن مسلمو المدينة من إيقاف قرار هدم مسجدهم والتصدي لإرادة السلطات المحلية التي كرست إمكاناتها على مدى سنوات طويلة لإزالته بذريعة أنه وكر للتطرف. وإزالة المسجد أثارت استياء مسلمي المدينة الواقعة في سيبيريا، وطرحت الكثير من التساؤلات عن حقيقة حرية العبادة، والوسائل التي يمكن للسلطات اللجوء إليها لفرض إرادتها. وقد أقدمت سلطات المدينة على هدم مسجد نور الإسلام بزعم أنه يشكل خطرا على الأمن، وأعلنت أنها تنوي أن تقيم مكانه مركزا ترفيهيا وفندقا للحيوانات. ويشكو مسلمو روسيا من قلة المساجد على الرغم من أن الإسلام هو الديانة الثانية في روسيا، حيث يفوق تعداد أتباعه عشرين مليونا يتركز معظمهم في جمهوريات تتارستان وشمال القوقاز والمدن الكبرى، مثل موسكو وبطرسبرغ ونيجني نوفغورد. وفي موسكو وحدها يعيش نحو مليوني مسلم، وفي المقابل لا يوجد في المدينة سوى أربعة مساجد... التعليق: إن حالة العداء للإسلام والمسلمين في بلاد الغرب والشرق عامة قد تجاوزت كل الخطوط، وانتهكت وتعدت الحدود والحقوق، فهناك تعبئة عامة ضد الإسلام، وعلى كافة المستويات.. فكيف أصبح دين الرحمة والإنسانية والذي ما دخل بلدا إلا وارتقى بأهلها ونهض بهم ورفع من شأنهم، دينا يقض المضاجع وإرهابا يخشاه البشر؟! فللشيوعية خاصة موقف من الإسلام يمثله قول مولوتوف (سياسي ودبلوماسي سوفييتي): "لن تنتشر الشيوعية في الشرق إلا إذا أبعدنا أهله عن تلك الحجارة التي يعبدونها في الحِجاز وفلسطين.. فالإساءة للإسلام وأهله أصبحت سياسة تنتهجها دول الشرق والغرب المعادية له، ومرضا تأصّل في خلاياها، وتجسد في واقعها فيما يُطلق عليه بــ "الإسلاموفوبيا" وهو العداء لكل ما هو إسلامي، أو يمت بصلة قريبة كانت أم بعيدة له، فأصبح مرادف الإسلام في قاموس العقل الغربي والأوروبي "الإرهاب". وقد تنامت هذه الظاهرة وتمادى مبتدعوها فتجسدت في أبشع صورها، إذ تخطت حدود الإساءة إلى إلصاق التهم وتحميل الأمور ما لا تحتمل، لتجعل من ذلك مسوغا للتضييق على المسلمين ومنعهم من أداء شعائرهم الدينية حتى وصل الأمر إلى إحراق وإغلاق المساجد وهدمها في أكثر من بلد ممن يدعون الديمقراطية واحترام الآخر، ومتخِذة من بعض الشعارات العارية عن الصحة سبيلاً لخداع الشعوب، كمحاربة الإرهاب والتصدي للمتطرفين وقطع دابر المتشددين.. فعن أي تطرف وإرهاب يتكلمون وهم أهله وبلادهم بيئته، وشيوعيتهم منتجته ومصدرته للعالم!! وقد شهد العالم مجازر تِلوَ المجازر بنفس السيناريو، طبقت على المسلمين في أمسهم وتطبق عليهم في حاضرهم؟! أنسيت روسيا تاريخها الدموي والمجازر الوحشية التي ارتكبتها ولا زالت في حق المسلمين؟! أغاب عن بالها أنَّ دخولها بشيوعيتها للبلاد التي حكمتها كان بقوَّة الحديد والنار، والتسلط الاستعماري، لدرجة أن جُلَّ شعوب تلك الدول أصبحت تتململ من قبضتها بعد أن استبانت لها الحقيقة الواضحة، بأن الشيوعية لم تكن هي الفردوس المنتظر!!! وإذا كانت المساجد والمسلمون في روسيا الشيوعية يشكلون بؤرة إرهاب وتطرف! فماذا عن مسلمي الإيغور المستضعفين الذين تضطهدهم الصين الشيوعية وتؤرق معاشهم؟!، والتي تلقن أبناءهم تربية إلحادية، ووصل حقدهها لدرجة أنها قامت بجمع الكتب الدينية وإتلافها، وأغلقت المدارس الإسلامية والمساجد، وحثت وطالبت بإقامة الولائم ظهرًا في رمضان، وأعلنت أن الدين أفيون الشعوب، وأن التعاليم الدينية تفسد الأنظمةَ الاقتصادية، وأن الحجاب والالتزام يفسد الحياة الاجتماعية.. لقد أدرك الشيوعيون أن للإسلام أثرًا عجيبًا في نفوس أهله؛ وأنه من الصعوبة بمكان أن يتخلوا عنه، أو أن يَرْضَوْا عنه بدلاً، كما أدركوا أن قوة الإسلام كامنة فيه، وفي مناسبته للفِطَرة القويمة، والعقول السليمة، فعمدوا إلى محاربته، وهدم أحكامه وتقويض أركانه، وهم يظنون أنهم بهدم المساجد وإحراقها سيتم لهم ذلك.. ولأن الإسلام أخطر الأديان على الشيوعية، كانت ولا زالت حرب الشيوعيين عليه شعواء، وأقسى وأعنف ما تكون، فأذاقوا المسلمين الهوان، وأصابوهم بمظالم تقشعر منها الأبدان، فجرَّدوهم من أملاكهم وما لديهم من ثروات، وشرعوا يهدمون المساجد والمعاهد الدينية، وحولوا المساجد إلى أندية ومقاهٍ ودور لهْوٍ، وإصطبلات وحظائر للماشية.. وبعد كل هذا يتهمون المسلمين ويصمونهم بالتطرف، وهم من عجزت الكلمات عن وصف تطرفهم وإرهابهم ومجازرهم التي قاموا بها إبان فترة حكم لم يشهد لها التاريخ مثيلاً. كالإبادة الجماعية في تركستان التي قتل الشيوعيون فيها وحدها سنة 1934م مائةَ ألف مسلم، من أعضاء الحكومة المحلية، والعلماء، والمثقفين، والتجار، والمزارعين، وقد هرب من تركستان منذ سنة 1919م حتى وقت ليس ببعيد ما يقارب مليونين ونصف مليون من المسلمين... هدموا المساجد وحولوها إلى دُور للهو، وأقفلوا المدارس الدينية حيث بلغ مجموع المساجد التي هدِمت أو حولت إلى غايات أخرى في تركستان وحدها 6682 جامعًا ومسجدًا، وفي القرم طمسوا معالم الإسلام بما فيها الجوامع الأثريَّة.. وأغلقوا في مدينة سراييفو الأكاديميةَ الإسلامية العليا للشريعة الإسلامية، وجميع المدارس الدينية، باستثناء واحدة فقط، أبقوها للدعاية!وغيره الكثير مما لا يتسع المجال لذكره.. إذن فروسيا الشيوعية بحقدها على دين الإسلام تسعى جادة لسحق المسلمين والقضاء على دينهم بحجة التطرف والإرهاب.. فهذا هو حال العالم تجاه الإسلام وأهله، حربا لا هوادة فيها، يصلون ليلهم بنهارهم يكيدون ويدبرون ويخططون للنيل من الأمة والعمل على إحباط مساعيها لإنهاض نفسها من كبوتها، واستعادة مكانتها، واقتعادها مركزا مرموقا لطالما اقتعدته.. فنسأل الله أن يحفظ أمة الإسلام من شرور وأحقاد المبغضين الملحدين، وأن يأخذ بأيدينا للمعالي التي تُعيد لنا مجدنا وسيادتنا، ويوفق المخلصين العاملين على تصفية كل ما يكدر صفوها من الشوائب الدخيلة.. وأن يمن علينا بنصره وتمكينه بدولة يُعز فيها المسلمون ويذل بها الملحدون.. ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ﴾     كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريررائدة محمد

0:00 0:00
Speed:
July 15, 2015

خبر وتعليق روسيا تستعيد إرثها وحقدها في حربها على الإسلام وأهله

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست