خبر وتعليق   شعب أفغانستان المجاهد يجب ألا يكون وقودًا للصراع بين القوى الاستعمارية   (مترجم)
September 07, 2014

خبر وتعليق شعب أفغانستان المجاهد يجب ألا يكون وقودًا للصراع بين القوى الاستعمارية (مترجم)


الخبر:


حذر عطا محمد نور، حاكم بلخ وزعيم الميليشيا السابق الذي هدد باحتجاجات واسعة في أعقاب إعادة الانتخابات الرئاسية المتنازع عليها في حزيران/يونيو، حذر في يوم الأربعاء من "انتفاضة مدنية" إذا كان إعادة فرز أصوات الاقتراع المستمر يثبت أنها منحازة وأن مرشحه، عبد الله عبد الله، لا يُعلن أنه الفائز.


فقد قال في مقابلة له: "إذا كان إعادة فرز الأصوات هو من جانب واحد أو كان احتيالًا، فنحن لن نسكت ونقبل بالنتائج". وأضاف: "نحن لا نريد أزمة، لكننا سندافع عن حقوق شعبنا. ستكون هناك انتفاضة مدنية كبيرة... سوف نحتل المباني والمؤسسات الحكومية... سنقوم بمقاطعة العملية، ونحن لن نعترف بالحكومة المقبلة لأنه لن يكون لها شرعية". [المصدر: http://www.tolonews.com/en]

التعليق:


لقد جاءت الأزمات نتيجة لانتخابات 2014 المخزية، والتحالف القوي بين فريق عبد الله عبد الله حاكم بلخ والرئيس التنفيذي لمجلس شورى الجماعات الإسلامية، ودعوة عطا محمد نور أنصاره للاستعداد لثورات خضراء وبرتقالية.


من ناحية أخرى، فقد صرح المتحدث باسم فريق أشرف غاني، فيض الله زكي، بقوله: "إنها ليست مهمة صعبة وربما يمكن لأي شخص أن يفعل هذا، ولكن السياسي الجدي يجب أن يعتقد أن هذه الثورة الخضراء يجب ألا تتحول إلى اللون الأسود وأن البرتقالي يجب ألا يصبح أحمر ودموياً".


وبالإضافة إلى ذلك، فقد حذر أيضًا "المجلس الاستشاري للحزب الإسلامي"، وهي مجموعة صغيرة انفصلت عن الحزب الإسلامي بقيادة قلب الدين حكمتيار، عبد الله وجماعته أنهم إذا رفضوا قبول نتائج الانتخابات بعد إشراك المجتمع الدولي ومراجعة الأصوات، فإنهم لن يقفوا صامتين.


ونحن نعتبر أن هذه التصريحات هي نتيجة مخزية أخرى لانتخابات 2014 الديمقراطية، لأنه على الرغم من الأموال الضخمة والحملات الدعائية التي دعمت الانتخابات إلا أنها كانت مخيبة للآمال، وبالكاد شارك ثلاثة ملايين شخص في التصويت. وبالنظر إلى واقع المجتمع الأفغاني، فإنه حتى هؤلاء الناخبون لم يصوتوا للديمقراطية ولكنهم صوتوا على أسس انتماءاتهم القبلية واللغوية. وأما الأصوات الأخرى، فقد تم تزويرها ووضعها في صناديق الاقتراع لتجنب العار، بمساعدة الحكومة ولجنة الانتخابات وممثلي المرشحين. وقد أدت هذه الأصوات المزورة إلى هذا التوتر كله بين الحملتين، وقد أدان ذلك بشدة كل من المراقبين الأوروبيين وعبد الله.


وقد أدت عملية الانتخابات هذه وكذلك التزوير في الانتخابات إلى ظهور الصراع والخلاف بين بريطانيا وأوروبا والولايات المتحدة. وذلك لأن بريطانيا وأوروبا، اللتين تدعمان وتستعملان عبد الله، قد خلقتا عقبات شديدة لأشرف غاني ومواقفه المؤيدة للولايات المتحدة. إن تراجع مجموعة عبد الله، والتدخل المباشر لأوباما من خلال المكالمات الهاتفية، وزيارات أعضاء مجلس الشيوخ الأمريكي ووزير الخارجية جون كيري، وتدخل النائب جون كاري، وكذلك الاهتمام الشديد والضغط الذي تمارسه الأمم المتحدة، كل ذلك قد أجبر كلا المرشحين على قبول إعادة الفرز وإعادة فحص الأصوات وإقامة حكومة ائتلاف وطني. ويقال إنه في آب/أغسطس سيتم حل قضايا الانتخابات والتصويت وغيرها، وسيتم تسليم المسؤولية للرئيس الجديد.


إن العدد الكبير للأصوات غير المتحسبة، وعدم التوافق على عملية التدقيق والمراجعة، وكذلك التفسيرات المختلفة لتصريحات جون كيري، قد أدى ذلك كله إلى إيجاد حالة من الفوضى، وهو ما ساعد روسيا على الاستفادة من الأوضاع. وبالتالي، إن لم تقم أمريكا بإشراك اللاعبين الآخرين في أفغانستان، فإنه من الواضح أن أفغانستان ستتحول إلى ساحة حرب بين هذه القوى، وقد تتحول الأمور فيها إلى حرب أهلية.


فنحن في حزب التحرير، وفي ضوء السياسة في الإسلام، ندعو شعب أفغانستان المجاهد ونقول له: إنكم في الحقيقة قد صفعتم الكفر وأعوانه برفضكم للديمقراطية وبرفضكم المشاركة في الانتخابات الديمقراطية، وبالمثل، ارفضوا كافة مؤامراتهم ومخططاتهم الاستعمارية التي من خلالها سيدفعون المسلمين الأفغان لقتال بعضهم البعض بحجج وذرائع مختلفة. إن رفض الديمقراطية العلمانية والمؤامرات الغربية هو نصف العمل، والنصف الآخر هو العمل لإقامة دولة الخلافة التي يمكنها إحداث التغيير الحقيقي والتي سوف تضم البلاد الإسلامية وهو ما سيحرر بلاد المسلمين، ودولة الخلافة هي من سيتصدى لاحتلال الكفار عن طريق تحرير الأمة من استعمارهم ونفوذهم. إن دولة الخلافة هي وحدها القادرة على إيجاد التطور والرخاء والطمأنينة التي يتوق لها كل المسلمين. وهي وحدها التي ستقضي على معاول الهدم والتشرذم التي أوجدوها في الأمة من مثل القومية والوطنية والديمقراطية والرأسمالية وغيرها. وهي التي ستوحد المسلمين فعليًا في كيان واحد حقيقي تحت ظل نظام الخلافة الإسلامي.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
سيف الله مستنير
كابل - ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست