خبر وتعليق   شطب غرفة موك في الأردن دليل عجز أمريكا عن السيطرة على ثوار الشام
خبر وتعليق   شطب غرفة موك في الأردن دليل عجز أمريكا عن السيطرة على ثوار الشام

الخبر: أمريكا والسعودية تطلبان بشطب "غرفة الموك" علمت "المجد" أن "غرفة الموك" التي تشترك فيها المخابرات الأمريكية والأردنية والسعودية والإماراتية واليهودية، وتقوم بالإشراف على أعمال الفصائل المسلحة السورية "المعتدلة"، قد قررت الأسبوع الماضي تجميد أعمالها بعد فشلها في تحقيق أهدافها في إسقاط النظام السوري لحساب هذه الفصائل التي لا تنتمي للجماعات التكفيرية المتشددة. وقال مصدر موثوق "للمجد" أن تجميد أعمال غرفة الموك التي أنشئت في الأردن قبل أربع سنوات، قد جاء بناء على رغبة مندوب الاستخبارات الأمريكية فيها الذي أبلغ زملاءه أن واشنطن لم تعد ترى أية فائدة في استمرار أعمال هذه الغرفة. وقد اعترف المتحدث باسم إدارة الرئيس الأمريكي باراك أوباما أن برنامج البنتاغون لتدريب "المعارضة السورية المعتدلة" التي من المفترض أن تقاتل النظام السوري والجماعات الإرهابية قد "فشلت فشلا ذريعا". وقالت قناة "سي بي إس" الأمريكية التي نقلت كلام هذا المتحدث "أنه تم القضاء أو اختفاء نصف فرقة المقاتلين حتى قبل أن يحتكوا بتنظيم داعش، وأضافت أن هذه الخسائر لحقت بهم نتيجة المعارك مع "جبهة النصرة"، ونوهت أن البنتاغون أنفق على تدريب 60 مقاتلا خلال شهرين أكثر من 42 مليون دولار، فيما تدقق الاستخبارات الأمريكية في صلاحية سبعة آلاف متطوع آخرين، للتأكد من مدى توافقهم مع المعايير الأمريكية لقبولهم. وعلى هذا الصعيد ذكرت صحيفة "الأخبار" اللبنانية المقربة من حزب الله، أن محمد بن سلمان، ولي ولي العهد، وزير الدفاع السعودي، الذي زار الأردن يوم الثلاثاء الماضي قد أبلغ الجانب الأردني برغبة بلاده في تجميد غرفة "الموك" التي تشرف بشكل جماعي على أعمال الجماعات السورية المسلحة في المناطق المحاذية للأردن.   التعليق: أمريكا ليست قدرا مقدورا لا يمكن للمسلمين التخلف عنه أو تجنبه، إن أمريكا صنم صنعه أصحاب النفوس الضعيفة عباد الدنيا، الذين أشربوا في قلوبهم الوهن وانطبق عليهم وصف الرسول عليه الصلاة والسلام: «ولينزعن الله من قلوب عدوكم المهابة منكم وليقذفن في قلوبكم الوهن». قالوا: وما الوهن يا رسول الله؟ قال: «حب الدنيا وكراهية الموت». لقد كانت الفصائل الثورية السورية قاب قوس أو أدنى من النصر، ولم تستطع أمريكا أو دول الغرب أن تسيطر عليهم، ولكن ما أن أدخلت عليهم المال السياسي حتى سال لعاب البعض له ووضعوا أنفسهم تحت تصرفها، فصارت تتحكم في سير المعارك، وفي كمية المال المرسلة لهم وكمية العتاد والغذاء، وقد جعلت لكل فصيل تعاون معها مندوبا عنه في غرفة الموك، وفصلت بين القادة وبين المقاتلين، ووقعتهم على ميثاق الغرفة وهو مقاتلة المجاهدين المسلمين الذي يسعون لإقامة الخلافة تحت مسمى "محاربة الإرهاب"، وإقامة دولة مدنية في سوريا والمحافظة على بقاء النظام سواء بقي الأسد أم ذهب، والدفاع عن الأقليات. ودربتهم وأنفقت عليهم الأموال والأسلحة والغذاء، وأطلقتهم في سوريا لمحاربة أصحاب مشروع الخلافة، وكانت آخر معركة أرسلتهم لها (عاصفة الجنوب) واشترطت عليهم أن لا يسمحوا للمقاتلين الإسلاميين بالمشاركة فيها، لأنها تريد لهم أن يحققوا نصرا على الأرض لتقوية القوة العسكرية التابعة للائتلاف، وظنت أن النصر سيكون حليفها، ولكن نسيت أمريكا وحلفاؤها أن السلاح والمال لا يكفي لتحقيق النصر في القتال بل لا بد من عقيدة قتالية لدى المقاتل تجعل من سلاحه ذا فائدة، شتان بين من يقاتل في سبيل المال والسلطة وبين من يقاتل طاعة لله؛ الأول يهرب من أول صدمة يتعرض لها في المعركة، بينما الثاني يبقى ثابتا ثبات الجبال الرواسي حتى آخر نَفَس منه، لذا فشل جنود غرفة الموك فشلا ذريعا. أمر آخر أدى إلى فشل غرفة موك الاستخبارية، أنها تضم مخابرات دول مختلفة المشارب والأهداف، وهي دول رأسمالية، مفهوم الصراع متأصل فيها، الرغيف إما لك وإما لي، لا نشترك فيه حتى لو توافقنا ظاهرا على المشاركة، أو أرغمتنا الظروف الدولية والإقليمية على ذلك. هذا المفهوم ظهر في غرفة موك، حيث الصراع بين الدول، فقد فقدت أمريكا نصف من دربتهم، بانشقاقهم أو قتلهم من أو خطفهم أو انضمامهم إلى الحركات الإسلامية. وهذا يدل على عجز أمريكا في سوريا وعدم سيطرتها على المقاتلين، وأن بإمكان الثوار أن يفشلوا كل مخططات الكفار إذا وحدوا صفوفهم، والتزموا بأمر الله في إقامة مشروع الخلافة لأنه المشروع الوحيد الذي يرضي الله، وترك بقية المشاريع التي تغضب الله وتستوجب سخطه وعذابه، ألا يكفي عذابا وقتلا وتعذيبا لأكثر من أربع سنوات والدخول في السنة الخامسة حتى نفهم سنن الله في الكون، قال تعالى: ﴿وَلاَ تَرْكَنُواْ إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاء ثُمَّ لاَ تُنصَرُونَ﴾ [سورة هود: 113]. من استند إلى أمريكا وبريطانيا وروسيا وإيران وحزبها في لبنان لن ينال خيرا ولا نصرا، بل الهزيمة نصيبه في الدنيا ﴿ثُمَّ لاَ تُنْصَرُونَ﴾ والعذاب الأليم في الآخرة. ومن توكل على الله والتزم أمره ولم يغير ولم يبدل مهما كان حجم التآمر عليه كبيراً كان النصر حليفه والعاقبة للمتقين، قال تعالى: ﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ * فَانقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُواْ رِضْوَانَ اللّهِ وَاللّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ﴾ [آل عمران: 173-174].       كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرنجاح السباتين - الأردن

0:00 0:00
Speed:
August 13, 2015

خبر وتعليق شطب غرفة موك في الأردن دليل عجز أمريكا عن السيطرة على ثوار الشام

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست