الخبر: فايننشال تايمز تنتقد تقارب الغرب مع السيسي علقت افتتاحية صحيفة فايننشال تايمز على ما وصفته بانفتاح الغرب على الرئيس المصري عبد الفتاح السيسي منتقدة هذا التوجه بعد عامين من تقلده السلطة بانقلاب عسكري بينما ينتقد نشطاء الديمقراطية وزير الدفاع السابق على استبداده وانتهاكه حقوق الإنسان. وأشارت الصحيفة إلى الدفء الذي طرأ على وجهة نظر العواصم الغربية تجاه السيسي الذي بدأ باستضافة المستشارة الألمانية أنجيلا ميركل له والآن الدعوة التي وجهها له رئيس الوزراء البريطاني ديفيد كاميرون. وذكرت الصحيفة أن الاحتفاء بالرئيس السيسي بهذه الطريقة لا يعتبر مفاجأة كبيرة في جانب منه لأنه في الوقت الذي تجتاح فيه الاضطرابات سوريا والعراق وليبيا تبدو مصر مستقرة تحت قيادة السيسي حيث إنه يسوق نفسه كزعيم عربي يتصدر الحرب ضد تنظيم الدولة الإسلامية في المنطقة إرضاء للنخبة العسكرية الغربية. ونبهت الصحيفة أن على قادة الغرب أن يفكروا مليا قبل المزيد من التقارب مع السيسي خاصة وأنه يحاول بلا هوادة القضاء على خصومه، وأبرزهم جماعة الإخوان المسلمين، ويملأ السجون المصرية بطريقة غير مسبوقة، ومما يثير القلق بشكل خاص حكم الإعدام الأخير الذي صدر ضد الرئيس السابق المنتخب محمد مرسي الذي أُطيح به عام 2013. وأضافت أن ما ينبغي أن يزعج الغرب أيضا هو أن حملة السيسي المتشددة تزيد تطرف خصومه السياسيين وتجبرهم على مفارقة طريق السلمية واللجوء إلى العنف. واعتبرت هذا التوجه من قبل الولايات المتحدة وحلفائها دلالة على قدر كبير من التركيز على الأرباح القصيرة الأجل والتضارب وأن عليها بدلا من ذلك أن توضح للسيسي استحالة التعامل معه إذا نُفذت أحكام الإعدام ضد مرسي ورفقائه، كما يجب عليها أن تضغط عليه للتوصل إلى تسوية مع المعارضة وخلق فرصة للمجتمع المدني، لأن حكم السيسي بهذه الطريقة سيحرض على الفوضى التي تسعى مصر لاحتوائها. التعليق: الحقيقة أننا اعتدنا على الكذب والخداع والتضليل من وسائل الإعلام في الدول الغربية المسموعة والمرئية والمقروءة رغم أن الغرب يحاول جاهدا تسويق مجلاته وجرائده ومحطاته وقنواته التلفزيونية على أنها الأكثر مصداقية والأكثر حيادية في العالم. وها هي الفايننشل تايمز تستمر في ترويج التضليل الإعلامي وتحاول أن تسوق أخبارها بأسلوب مخادع ومجانب للصواب والحقيقة. فالفايننشل تايمز تدرك تماما أن السيسي هو صنيعة أمريكا وعبدها المطيع وأنه ما كان ليأتي للحكم في مصر وما كان ليقوى على القيام بجرائمه التي ارتكبها ويرتكبها في مصر دون دعم ومساندة أمريكا له سياسيا وعسكريا. فالجميع يعلم أن نظام السيسي هو امتداد لنظام مبارك والسادات وعبد الناصر، وهذه الأنظمة جميعها صنعت على عين أمريكا. وهذا الأمر بات أمرا واضحا وجليا ولا يحتاج إلى بيان ولا تحليل. ولذا فإن الفايننشل تايمز تكذب وتضلل في رابعة النهار. لقد دأب الغرب بعد حروب أو قل مسرحيات التحرير في منتصف القرن المنصرم على أن يخفي علاقته بالحكام الذين أبقاهم على حكم البلاد التي كان يستعمرها فعليا، وقد دأب على إظهار هذه الدول على أنها دول تحررت من الاستعمار وأصبحت دولاً مستقلة. وخير مثال على ذلك الأردن والمغرب، فقد حاول الاستعمار الإنجليزي أن يظهر للعالم ولشعوب المنطقة أن النظام الأردني والنظام المغربي نظامان مستقلان عن بريطانيا مع أن الحقيقة هي أن الإنجليز يسيرون الأردن والمغرب بالريموت كنترول كما يقال. وهكذا في كل الدول العربية والدول التي كانت ترزح تحت الاستعمار. وهكذا تسير الفايننشل تايمز بهذه السياسة المخادعة وهي سياسة إظهار العلاقة بين السيسي وأمريكا على أنها علاقة دول مستقلة ببعضها مع أنها تعلم أن السيسي صنيعة أمريكا وأن العلاقة بينه وبين أمريكا هي علاقة العبد بسيده. لذا قد يبدو الخبر على أن الفايننشل تايمز تحاول الصدع بالحق مع أنها تضلل في إخفاء علاقة السيسي الحقيقية بأمريكا. إن واقع الأمر أن الدول الغربية المستعمرة لم تترك بلدان العالم الإسلامي بعد رحيلها عنها في منتصف القرن الماضي، بل إنها هي الدول الآمرة الناهية المتحكمة في مصائر هذه البلدان. ويتم التحكم المباشر بهذه البلدان عن طريق العائلات الحاكمة التي خلفها أو أوجدها الاستعمار وعن طريق أمثال السيسي الذي أتى بانقلاب. فلذلك كلما ثار الشعب في بلد ما على حاكم صنعه الغرب سرعان ما هب الغرب إلى نجدته أو الإتيان ببديل عنه إن لم يسعهم إبقاءه. وهذا الأمر ليس بحاجة لدليل وإن ثورات الربيع العربي لخير شاهد على ما تقوم به دول الاستعمار من مساندة أو الإتيان بحاكم بدل ذاك الذي لم تستطع إبقاءه. ولذا يجب الحذر الشديد حين مطالعة ومتابعة وسائل الإعلام الغربي، لان أحسنها حالا هي تلك التي تخلط السم في الدسم وتضلل المسلمين وتخدعهم. وصدق الله تعالى القائل: ﴿وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ﴾ كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرالدكتور فرج ممدوح
خبر وتعليق تبا للإعلام الغربي كم يضل ويكذب ويخدع
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست