January 17, 2010

خبر وتعليق- تركيا العزة بالاسلام لا بالقومية التركية ولا بالكمالية العلمانية

في 12/1/2010 نشرت وسائل الاعلام التركية خبر استدعاء نائب وزير خارجية الكيان اليهودي للسفير التركي لدى هذا الكيان الى مكتبه ليُظهِر احتجاج هذا الكيان على مسلسل نشر في تلفزيونات تركية عديدة يَظهَر فيه وحشية موساد يهود، وكذلك ليُظهِر احتجاج يهود على تصريحات رئيس وزراء تركيا اردوغان التي قال فيها بان دول العالم تنتقد ايران بسبب برنامجها النووي ولكن لا احد يسأل "إسرائيل" أي كيان يهود عن ما تملكه من أسلحة نووية. وعند الاستدعاء تُرِك السفيرُ التركي ينتظر طويلا امام مكتب نائب وزير الخارجية، ووسائل الاعلام تلتقط الصور له وهو يتأفف من طول الانتظار ويتلفت يمنة ويسرة ويرفع رأسه الى اعلى ويخفضه الى اسفل. وبعد طول انتظار أُدخِل هذا السفير الى مكتب نائب وزير حارجية يهود وأُجلِس على مقعد منخفض وجلس نائب وزير خارجية اليهود ومن معه على مقاعد عالية. ولم يقدموا له اي مشروب اكراما له حسب ما هو متعارف عليه. ومن ثم أُدخِل الصحافيون ليصوروا المنظر المخزي ويقول لهم نائب وزير خارجية اليهود بالعبرية:" انتبهوا هو في مكان منخفض ونحن نجلس على مقاعد عالية وعلى الطاولة علم اسرائيل فقط ولا نبتسم له". ونشرت الصور في وسائل اعلام يهود، ونقلتها وسائل الاعلام التركية. وكان رد تركيا بان استَدْعَى مستشارُ وزير الخارجية التركيُّ السفيرَ اليهودي في انقرة لاظهار الاحتجاج على تصرفات خارجية اليهود، ولكن المسؤولين الاتراك لم يعاملوا السفير اليهودي نفس المعاملة، بل ان سفير الكيان اليهودي في انقرة كان يتكلم بلهجة توبيخية للمسؤولين الاتراك. فقال هذا السفير وهو يُظهِر احتجاجاته على تصريحات اردوغان قال:" ليس لأحد الحق في ان يقوم ويقدم المواعظ لنا". بهذه الصلافة والوقاحة يقابل اليهودُ الاتراكَ في عاصمتهم وامام ممثل وزير خارجيتهم، كما اهانوا سفيرهم لديهم اي لدى الكيان اليهودي. واما السفير التركي لدى الكيان اليهودي اغوز تشليك كول فقد قال ردا على اهانته من قبل يهود:" عملت 35 عاما في الديبلوماسية ولكن لم اشهد منظرا مخزيا مثل هذا المنظر". ومع كل ذلك يُقدِّمُ رئيس الجمهورية التركي عبدالله غول دعوة رسمية لوزير دفاع العدو ايهود باراك لزيارة تركيا التي من المنتظر ان تتم الاحد القادم 17/1/2010.
ان وزير دفاع العدو الحالي ايهود باراك كان وزير دفاع في الحكومة السابقة عندما قام العدو اليهودي قبل سنة بغزو غزة واحداث دمار كبير فيها وقتل اكثر من 1400 من اهالي غزة وجرح الالوف منهم. ان ذلك يُظهِر ان حكام تركيا يظهرون النفاق؛ فهم غير صادقين في تعاملهم مع قضية غزة وانما يقومون بذلك خدمة لاهداف سياسية داخلية وخارجية. والا فكيف يُدْعَى هذا المجرمُ وزيرُ دفاع العدو بدعوة رسمية من رئيس الجمهورية التركي وهو المسؤول عن تلك الجرائم في غزة التي يُظهِر النظام السياسي في تركيا انه يتبنى قضيتها او يضرب على وترها. ولو كان حكام تركيا أعزاء مخلصين غير منافقين لما دَعَوْا هذا الوزيرَ المجرمَ ولما ابقوا على سفارة للعدو في انقرة ولا سفيراً له يهينهم ويوبخهم في عقر دارهم، ولما كان لهم سفارة وسفير لدى هذا العدو يُهان ويَرى الخزي الذي لم يره قط في حياته الديبلوماسية كما صرح. فلو كانوا صادقين لقطعوا العلاقات الديبلوماسية وكافة العلاقات الاخرى مع هذا العدو، وذلك اضعف الايمان. اي لاتخذوا الاجراء الذي يُتَطَلَّبُ اتخاذُه تجاه اي عدو. وكيف وان هذا العدو وكيانه مغتصب لارض اسلامية، كان اجدادهم العثمانيون يحمونها ويذودون عنها لمئات السنين باعتبارها احدى بلادهم، بل من اقدس بلادهم لكونهم مسلمين، ولم يفرطوا فيها حتى وهم في اضعف الحالات وفي اضيق الاوضاع الاقتصادية، فقد رفض خليفة المسلمين يومئذ عبدالحميد الثاني رحمه الله ان يعطي اليهود شبرا واحدا من فلسطين مقابل تسديد ديون الدولة العثمانية التي كانت تئن تحت وطأتها، وزيادة على ذلك خمسة ملايين من الليرات الذهبية التي استعد رئيس جمعية اليهود يومئذ ثيودر هرتزل تقديمها للدولة العثمانية مقابل ان يكون لليهود كيان في فلسطين.
فجمهورية تركيا القومية الكمالية العلمانية حاليا تقوم باعمال دعائية خادعة تجاه المسلمين في الداخل والخارج، ولا تقوم باعمال حقيقية مؤثرة مثل قطع العلاقات الديبلوماسية والسياسية والامنية والمخابراتية والاقتصادية والعسكرية وغير ذلك من العلاقات الموجودة بين العدو وتركيا وهذا اقل ما يمكن ان تفعله حاليا ان لم تقم بالواجب عليها؛ الا وهو تحريك جيوشها لتقوم وتنقذ غزة التي تُظهِر انها تتبنى قضيتها، وليس بارسال مساعدات تحت اسم قافلة شريان الحياة وذهاب اعضاء برلمان تابعين للحزب الحاكم لكسب الدعاية للحزب وتقوية موقفه داخليا، بل لانقاذ فلسطين كلها كما فعل اجدادهم الابطال من أمثال آل زنكي رحمهم الله الذين اوقدوا الشعلة وحركوا الجيوش لتحرير فلسطين من دنس الصليبيين.
فكل ما يفعله النظام السياسي الحالي في تركيا تجاه العدو اليهودي المغتصب لفلسطين ما هو الا عبارة عن اثارة مشاعر وعواطف، واستغلالها داخليا لاغراض دعائية لحزب اردوغان الحاكم، واستغلالها خارجيا لاغراض سياسية للضغط على حكومة العدو لتقبل بمشاريع السلام الامريكية والتي تتبناها الحكومة التركية مثل استئناف المحادثات بين العدو وبين النظام السوري ومثل استئناف المحادثات بين هذا العدو والسلطة الفلسطينية حسبما تمليه امريكا، ويغطي على كل ذلك بمواقف او تصريحات معينة لرئيس وزرائه تنطلي على العامة من المسلمين فتَظهَر كأنها بطولات. ولو كانت بطولات لما طلب من اليهود ان يكون وسيطا او سمسارا بينهم وبين النظام السوري ولما أبقى على اية علاقة معهم! ومن ناحية أخرى فان سفيرها اي سفير تركيا لدى العدو يتعرض للاهانات والتي وصفها السفير نفسه بانها منظر مخزٍ لم يشهد مثله في تاريخه الديبلوماسي، رغم ذلك لم يعاملوا سفير العدو في انقرة نفس المعاملة ولم يجعلوه يتعرض لنفس الاهانة! بل ان سفير العدو في انقرة يرفع رأسه ويوبخ رئيس وزراء تركيا في عقر داره عندما يقول "ليس لاحد الحق في تقديم مواعظ لنا" كما نشرت ذلك وسائل الاعلام التركية ووصفتها بانها انتقادات موجهة لرئيس الوزراء اردوغان من قبل سفير "إسرائيل"! فهل بقي عزة وكرامة للنظام التركي وسفيرهم يهان امام الاعداء، وسفير العدو في عقر دارهم يهينهم مرة ثانية بتوبيخ رئيس وزرائهم! فقد صدق الله العظيم عندما قال:{ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ }.

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست