May 29, 2010

خبر وتعليق - تصريحات خالد مشعل في ميزان الإسلام

نقلت جريدة القدس العربي بتاريخ 25/5/2010 تصريحات لخالد مشعل رئيس المكتب السياسي لحركة حماس امام الصحفيين جاء فيها:
- أن الحركة لا تسعى إلى الحرب لكنها ستقاوم إذا فرضت الحرب عليها وقال: نحن لا نريد أن نرهق الناس في غزة إلا أننا سنقاتل لأن مبررات الحرب لدى إسرائيل موجودة ومتوفرة إلى حد بعيد.
- وقال إن حماس ضد أي دولة فلسطينية منقوصة السيادة وان أي مسئول فلسطيني لن يجرؤ على الموافقة على ما رفضه ياسر عرفات في كامب ديفيد.
- وأضاف إن حماس ترى أن أي مفاوضات ستكون محكومة بالفشل ونحن في حماس سنبقي أيدينا على الزناد لأن المقاومة هي الحل في ظل أفق مسدود للتسوية.
- أن حدود العام 1967 لن تأتي بسهولة حيث تحتاج إلى مقاومة وإن حماس مع حل الدولتين وحدود 67 دون الاعتراف بإسرائيل.
- وحذر مشعل من أن المفاوضات في ظل اختلال موازين القوى تعتبر استسلاما وأن من يذهب إلى المفاوضات بدون أوراق قوة هو انتحار، مؤكدا أن السلام كما الحرب يلزمه موازين قوى.
ان الله عزوجل أمر المؤمنين حملة رسالة الخير ان يميزوا أنفسهم وفكرهم عن غيرهم من اصحاب الافكار المنحرفة والدعوات الضالة.
قال تعالى {قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللّهِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ }يوسف108
وقال تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبيّ ولا تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض أن تحبط أعمالكم وأنتم لا تشعرون}.

قال ابن القيم: "فإذا كان رفع أصواتهم فوق صوته سبباً لحبوط أعمالهم فكيف تقديم آرائهم وعقولهم وأذواقهم وسياستهم ومعارفهم على ما جاء به ورفعها عليه، أليس هذا أولى أن يكون مُحبطاً لأعمالهم " اعلام الموقعين
إذا كانت فلسطين هي قضية الامة الاسلامية وليست قضية اهل فلسطين ومن باب أولى ليست قاصرة على أهل غزة، واذا كان حكم الله تعالى واضحا فيما يتطلبه الامر من وجوب خلع هذا الكيان المغتصب وتطهير بلاد المسلمين منه، فهل يجوز لمن يؤمن بالله واليوم الأخر ان يقول انه لا يطلب القتال مع هذا الكيان؟ وهل يتـأتى تحرير بلاد المسلمين ومنها فلسطين الا بجيوش تزحف وتطهر وتزيل ادران الكفر واثار الاغتصاب؟
لعل لقائل ان يقول وهل يملك أهل غزة القدرة على تحرير فلسطين؟ وهو سؤال يحمل في طياته علامات المسخ لقضية ارض هي في صميم عقيدة المسلم، فقد كانت فلسطين قضيةاسلامية ثم مسخت الى عربية ثم الى فلسطينية ثم الى قضية بين فرقاء من يهود وفلسطينيين ،ثم الى قضية مستوطنات وجدار فاصل، ثم الى قضية غزةومعابرها ، وحبل المسخ على الجرار.
جاء في صحيفة المدينة المنورة:
" وأن سلم المؤمنين واحدة لا يسالم مؤمن دون مؤمن في قتال في سبيل الله إلا على سواء وعدل بينهم"
ولما كان المسلم لا يضع السلاح عن عاتقه وأخوة يقاتل فبالتالي لا يتأتى جعل قضية تحرير فلسطين من براثن يهود قضية فلسطينية او عربية ومن باب اولى عدم جعلها قضية غزية.
ثم نأتي الى كلام خالد مشعل والحديث عن دويلة مسخ في ارض 67 ، والعجيب انه في الدنيا كلها لا يمكن ان تجد عاقلا يقول إن دول الغرب وأمريكا ستقبل بكيان مسخ فلسطيني بجانب كيان الاغتصاب دون اعتراف واقرار بحق ما يسمى بدولة اسرائيل في الوجود ، فكيف سينشأ كيان المسخ الفلسطيني دون اعتراف واقرار؟ بغض النظر عمن يتولى الامر حماس او فتح أو كلاهما. ولكن المهم ان كيان المسخ لا يقوم دون اعتراف. والأهم من ذلك كله ان فكرة الدولة الفلسطينية ولو كانت على كامل تراب فلسطين هي فكرة محرمة تخالف الاسلام وتضرب باحكامه عرض الحائط.
فالاسلام يحرم تعدد الدول في امة الاسلام ولو كانت دولا تحكم بالاسلام. ومما جاء في الفقه على المذاهب الاربعة للجزيرى رحمه الله تعالى:
"اتفق الأئمة رحمهم الله تعالى على أن الإمامة فرض و أنه لابد للمسلمين من إمام يقيم شعائر الدين وينصف المظلومين من الظالمين وعلى أنه لا يجوز أن يكون على المسلمين في وقت واحد في جميع الدنيا إمامان لا متفقان ولا مفترقان"
ثم بجانب كون تقسيم المسلمين الى دويلات حرام شرعا كذلك فإن ايجاد روابط بين الناس على غير أساس العقيدة الاسلامية كرابطة الوطنية أو القومية هي دعوات جاهلية وهي سير في مخططات المستعمرالكافر الذي استعمل معول الوطنية والقومية لتمزيق الأمة الاسلامية وجعلها امما.
ثم لماذا التعريض بجعل التفاوض مع يهود فكرة مقبولة ان صحت الظروف واعتدلت الموازين؟
وكيف نفهم النصوص" لأن المقاومة هي الحل في ظل أفق مسدود للتسوية"و " أن المفاوضات في ظل اختلال موازين القوى تعتبر استسلاما " و "وأن من يذهب إلى المفاوضات بدون أوراق قوة هو انتحار"و " مؤكدا أن السلام كما الحرب يلزمه موازين قوى" ؟.

أليست كل هذه الجمل تؤكد ان الخيانة يعمل على تخريجها بثوب يجعلها إنجازا، وعودا على درب منظمة الخيانة الفلسطينية وفتح ؟
إنها دعوة لمن وثق بهذا الرجل ووثق بالغطاء الذي يجلس تحته في دمشق لمحاسبته ومحاسبة غيره من الحكام المجرمين على مسخهم لقضية هي في صميم عقيدة الامة،
وهي دعوة لكشف المخططات التي تعدت مرحلة السرية الى الدعوة العلنية حتى اصبح عرفات الخائن لله ولرسوله وللمؤمنين أسوة وقدوة يحتذى بها ويستشهد بها للدلالة على الصمود ورفع التنازل.
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَخُونُواْ اللّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُواْ أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ }

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست