خبر وتعليق   توغل يهودي يستهدف أمن باكستان
October 29, 2010

خبر وتعليق توغل يهودي يستهدف أمن باكستان

الخبر :

في 21/10/2010 نشرت صفحة روسيا اليوم تصريحات رئيس لجنة الشؤون الداخلية لمجلس الشيوخ الباكستاني طلحة هاشمي كشف فيها عن وجود تعاون بين شركات نفط اسرائيلية مع شركة النفط الباكستانية الوطنية (الحكومية) عبر وساطة شركات تركية. وأشار في تصريحاته الى وجود توغل اسرائيلي يستهدف الأمن القومي الباكستاني. وذكر هاشمي ان المدراء التنفيذيين لشركات النفط الاسرائيلية هم ضباط كبار متقاعدون من الجيش الاسرائيلي وبينهم خبراء في أنظمة الدفاع الصاروخية". ونشرت الصفحة تأكيدات بعض المصادر الأمريكية بان حكومة تل أبيب وإسلام اباد توصلتا بوساطة امريكية تركية الى اتفاق غير معلن قبل اكثر من خمس سنوات بحيث تضمن تطمينات عدم حدوث سوء تفاهم بينهما قد يؤدي الى مواجهة استراتيجية مباشرة.
ويجدر بالذكرانه قد حصل اجتماع بين وزير خارجية العدو ووزير خارجية الباكستان في عهد برويز مشرف في اسطنبول بوساطة الحكومة االتركية. حيث أدار رئيس الوزراء التركي اردوغان اجتماعا سريا في 31/8/2005 وفي اليوم التالي اي في 1/9/2005 أدار اردوغان اجتماعا علنيا بين الوزيرين. وقد اعلن وزير الخارجية الباكستاني يومئذ خورشيد قصوري ان "باكستان سترتبط باسرائيل ديبلوماسيا". وكانت هناك اتصالات سرية منذ عشرات السنيين عبر حكومات تعاقبت على حكم باكستان تجري مع كيان يهود.

وتعليقا على ذلك نريد أن نبين الحقائق التالية:

1.إنه من المدرك سياسيا انه اذا لم يتغير النظام فلن تتغير سياسة الدولة في أي بلد ما، فعندما اقام نظام باكستان على عهد برويز مشرف علاقات شبه رسمية مع العدو اليهودي لم تلغى هذه السياسة في عهد زرداري وجيلاني. وفي مصر عندما وقع انور السادات معاهدة كامب ديفيد الاستسلامية الخيانية التي اخرجت مصر من المجابهة مع العدو استمرت هذه السياسة في ظل خلفه حسني مبارك، بل تمادى هذا الخلف فيها الى ان اصبح سمسارا لهذا العدو، بل متحالفا معه احيانا كما حصل في موضوع غزة والهجوم عليها وحصارها. وهكذا يجري في كل دولة.


2. ان اي تعاون مهما كان شكله مع العدو؛ عدا انه خيانة كبرى وجريمة لا تغتفر للمتعاون إلا اذا تاب وتخلى عن الحكم وسلمه لأهله المسلمين، فان هذا التعاون يؤمن للعدو اختراق امن البلاد وكشف المستور فيها، بل يمكنه من العمل على تخريبها من الداخل. وهذا ما يعمل عليه العدو في باكستان حيث يكون العاملون في شركات يهود من المتخصصين في المجالات التي يريد العدو ان يرتكب جرائمه في البلد. فباكستان فيها صناعة صواريخ فيرسل العدو متخصصين في هذا المجال لينفذ خططه. وفي تركيا كان عضو برلماني قد كشف مؤخرا عن وجود "غرفة اسرائيل" في رئاسة الاركان التركية منذ 18 سنة حتى اليوم عبر عدة حكومات تعاقبت على تسيير النظام التركي وفيها عملاء للموساد متخصصين في عمليات التجسس والتخريب في كافة المجالات تحت شعار مخادع وهو "محاربة الإرهاب". عدا ذلك فان شركات يهود التي تعمل في تركيا كلها تقوم بادوار التجسس وغير ذلك من الادوار، حتى ان شركات وبنوك يهود تأتي من داخل كيان يهود ومن خارجه تحت اسماء مختلفة الى تركيا وتشتري أراض خصبة في سهل حرَّان. هذا مع العلم ان يهود يعتبرون هذه المنطقة موطنهم الأصلي. وفي مصر والاردن وتونس والمغرب وفي الخليج يتكشف بين الحين والحين عن دور يهود في اعمال التجسس والتخريب عبر سفاراتهم ومكاتبهم وشركاتهم وحتى عبر ما يسمون بالصحفيين او التجار او السائحين؛ فكلهم جنود للعدو تحت اسماء متعددة.


3. دولة يهود في يقظة تامة تجاه المسلمين وهي تعمل على محاربتهم في ارجاء الارض، وتعمل على اختراق الحكومات والأنظمة المستبدة بهم وعلى إختراق مؤسساتهم وكافة المجالات في بلادهم لتتجسس عليهم ولتعمل على تدمير قوتهم وتمنع نهضتهم وقيام خلافتهم التي يعتبرها يهود انها ستنهي وجودهم، وتقوم عصبات يهود بتصفية من تريد تصفيته كما فعلت في العراق حيث صفت الكثير من العلماء في كافة المجالات، وكما قامت باغتيالات في لبنان، ومسألة إغتيال يهود للمبحوح في الامارات ما زالت حية. وهي تقوم بزرع جواسيسها في كل بلد كما كشف عن كثير منهم في لبنان.


4. لعبت حكومة اردوغان دور السمسار للعدو فقد جلبت العدو الى باكستان عبر عقدها اجتماعا بين وزير خارجية العدو مع وزير خارجية باكستان. وعملت على مصالحة سوريا مع العدو، وعملت على اقناع حركة حماس للتخلى عن الجهاد والمصالحة مع العدو كما ذكر الرئيس التركي عبد الله غول في تاريخ سابق. فالنظام التركي برئاسة حزب العدالة والتنمية سواء باسم رئيس الجمهورية غول او رئيس الوزراء اردوغان يقدم خدمات كبيرة للعدو وهو يخدع الناس ببعض الكلمات الرنانة وببعض الحركات الاصطناعية.


5. ان العمل على التغيير والكفاح السياسي لا يجوز ان يقتصرا على الاشخاص الذين يتولون الحكم فحسب، بل يجب ان يعمل على ضرب النظام وعلى تغييره، لأن رأس البلاء هو وجود النظام الفاسد الذي هو مبني على اساس فاسد، ويتبع سياسة فاسدة ولا يسمح الا بمجيئ الفاسدين ليرتكبوا الخيانات ويتهاونوا في مقدرات البلد ويسمحوا للعدو ان يخترق البلد ويتجسس عليها ويقوم باعمال اجرامية بل يتنازلوا له. واذا سمح هذا النظام لرجل يظهر انه صالح لدخول الحكم لا يمكن ان يبقى صالحا وسيجبروه على اتباع سياسة الفساد فيطبق قوانيين الكفر التي ينتج عنها الفساد. وكل تهاون مع انظمة الحكم ومع الحكام او اي سكوت عليهم او مشاركة لهم كما تفعل بعض ما يسمى بالجماعات الاسلامية او من يسمون بالعلماء فان في ذلك ادامة واستمرارية بل واعطاء مشروعية لهذه الانظمة الفاسدة ولهؤلاء الفاسدين ولخياناتهم التي تسبب وبالا كبيرا على الأمة وتمكينا للأعداء من البلاد والعباد. 27/10/2010

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست