September 28, 2014

خبر وتعليق وحده التطبيق الصارم للشريعة في ظل دولة الخلافة هو ما سيحمي النساء حقا


الخبر:


في 25 من أيلول ذكرت وسائل الإعلام الباكستانية أن قاضي جلسات سيبي، بلوشستان، قد أصدر حكما يوم الأربعاء على مغتصب بالشنق ثلاث مرات لاعتدائه على فتاة تبلغ من العمر خمس سنوات توفيت لاحقا بسبب الإصابة. هذا وقد فرضت المحكمة غرامة قدرها 600 ألف روبية يدفعها الجاني. وقد أعلن القاضي محمود راشد الحكم بعد أن أثبتت النيابة التهمة الموجهة للجاني ساني مِسيا. أما الطفلة الدارجة والتي تعرضت للهجوم في 22 من كانون الثاني فقد توفيت أثناء تلقيها العلاج في مستشفى كويتا.


التعليق:


لقد أصبح الاغتصاب والاعتداءات على النساء وحتى الأطفال القاصرين ظاهرة متكررة في باكستان على الرغم مما يسمى بالقوانين "الإسلامية" و"الحدود" المُعلن تطبيقها في البلاد. لقد أصبح لدى النساء شعورٌ بالتهديد الدائم في الأماكن العامة ومجالات عملهن وفي المصانع والأسواق، كما أن لديهن قناعة بأنهن لن يتمكن أبدا من الحصول على من ينصفهن في حال اعتُدي على عرضهن أو حياتهن أو ممتلكاتهن. وعلى الرغم من أن حكما صادرا كهذا تطبل له وسائل الإعلام الباكستانية وتعتبره إنجازا عظيما ونجاحا كبيرا في تحقيق العدالة إلا أننا نعرف تماما أن هذا المغتصب اللئيم لن يتم إعدامه في ظل هذا النظام القضائي الذي بُتَّ فيه بالحكم في المحاكم الدنيا ولا زال الحكم ليس نهائيا كونه سينتقل للمحاكم العليا في إجراءات طويلة معقدة قد تستمر لعشرات السنين. وحتى يتم البت في القضية من قبل المحكمة العليا، لا يزال لدى الرئيس الحق في أن يعفو عن المغتصب بموجب القانون الباكستاني.


لذا فمن نافلة القول أن هذا الحكم الصادر لا يعني شيئا حقيقة لا للضحية ولا لكثير غيرها من ضحايا الاغتصاب اللاتي لم نسمع بهن ولم تسجل الشرطة الحوادث التي تعرضن لها وذلك نتيجة لضغوطات يتعرض لها الجميع من قبل النخبة المجرمة وأصحاب القوة والبطش في المجتمع. وفي الخامس والعشرين من أيلول 2014 ذكرت صحيفة الفجر بأن أما وابنتها حاولتا التضحية بنفسيهما في مولتان كتعبير احتجاجي على فشل الشرطة في إلقائها القبض على المشتبه به. وفي 19 من حزيران 2014 في حادثة الاغتصاب والقتل في منطقة اليَّة الواقعة في مقاطعة البنجاب تم اغتصاب وقتل فتاة تبلغ من العمر 21 عاما. وفي أيلول من العام ذاته تم اعتقال ثلاثة من أبناء ميان فاروق، عضو برلماني من الحزب الحاكم في فيصل أباد، اتهموا باختطاف واغتصاب جماعي لفتاة في سن المراهقة. وقد أطلق سراح المغتصبين بقرار من المحكمة في وقت لاحق. ومن الجدير ذكره بأنه ومنذ عام 2008 لم يجر تنفيذ عقوبة الإعدام بحق أحد إلا جندي واحد، ما يعني أن فرصة إعدام القتلة والمغتصبين ضئيلة جدا.


وفي قضية أخرى تتعرض النساء لمحاولات تجريد دائمة لإنسانيتهن ومعاملتهن كسلعة في ظل النظام الرأسمالي الليبرالي العلماني الغربي، والذي يستغل النساء ويستخدمهن لتسويق سلعه ومنتجاته مستغلا أنوثتهن في الدعاية وصناعة الدراما في باكستان. في بلد جُعل فيه الزواج المبكر جريمة في ظل قوانين تفرضها الدولة تجعل منه أمرا صعبا جدا إضافة لغلاء وارتفاع في أسعار الحاجات الأساسية اليومية ما يجعل فكرة تزويج الأهل لأبنائهم شبه مستحيلة ثم وعلى الجانب الآخر تشجيع من قبل الدولة للتعليم المختلط على كل المستويات مع نظام قضائي مخادع لا عدالة فيه، فكيف نتوقع والحالة هذه أن تُحمى وتُحفظ أعراض النساء والفتيات؟


وبالتالي فقد فشل النظام الرأسمالي الديمقراطي في حماية نساء باكستان كما فشلت في ذلك الهند وبنغلادش والعالم بأسره. وإن هذا الحال يتطلب اقتلاعا فوريا كاملا للنظام الحالي بأنظمته وقوانينه المزيفة الوضعية المليئة بالعيوب واستبدال نظام عادل به، نظام لا تشوبه شائبة رباني من خالق عظيم. نظام يوفر عدالة حرة نزيهة سريعة للضحايا توفرها قوانين وأحكام من الشريعة الإسلامية مستنبطة من القرآن والسنة. نظام فيه أحكام اجتماعية إسلامية تضمن حماية للمرأة من قبل أسرتها والدولة، نظام تُضمن فيه سياسة تعليمية آمنة للمرأة وتشجيع للزواج المبكر تضمنه الدولة.


إنه النظام الذي لا تُجعل فيه المرأة كالسلعة تباع وتشترى بل تكون فيه حرة ليست عبدة إلا لله تعيش عيشة كريمة مرموقة راقية في المجتمع. فيه يُنظر إليها على أنها الأم والبنت والأخت والزوجة. هذا النظام العظيم هو نظام الخلافة على منهاج النبوة، التي ظل حكمها قائما مطبقا على شبه القارة الهندية قرابة الألف سنة تحت حكم سلاطين مسلمين دانوا بالولاء والطاعة للخلفاء العباسيين والعثمانيين فعاشت في ظلها النساء المسلمات وغير المسلمات على حد سواء عيشة شرف وعزة مع ضمان كامل لحقوقهن وحياتهن وكرامتهن. وقد شهد التاريخ على أن النظام القضائي الإسلامي كان حرا نزيها لا تمييز فيه ولا تفرقة.


ولذلك كله فإننا في هذا الوقت العصيب بحاجة لإعادة إقامة ذات النظام العظيم السابق، نظام الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي من شأنها حماية النساء من جديد في أنحاء العالم أجمع وذلك بما ستطبقه من قوانين وأحكام من خالق عظيم قال في كتابه: ﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاء وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلاَ يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إَلاَّ خَسَارًا﴾ [الإسراء: 82]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أم مصعب
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست