الخبر: يحتفل العالم في 23 حزيران من كل عام، باليوم العالمي للأرامل، وذلك بناء على قرار أصدرته الجمعية العامة للأمم المتحدة في 21 كانون الأول/ديسمبر 2010، وقد جرى أول احتفال في عام 2011، وذلك "اعترافا وتقديرا وللفت الأنظار إلى واقع الأرامل وأطفالهن، وسعيا لتخفيف المعاناة التي تواجهها الأرملة فور وفاة زوجها، وحرصا على تقديم المعونة للنساء ليواجهن الفقر، ولكي يتمتعن بحقوقهن الاجتماعية الأساسية". وتشير إحصاءات المنظمات العالمية إلى أنه يوجد ما لا يقل عن 245 مليون أرملة في جميع أنحاء العالم يعيش ما يقرب من نصفهن في فقر مدقع. وبحسب الإحصائيات فإن ثمة أعداداً كبيرة من النساء اللواتي ترملن بسبب النزاع المسلح. على سبيل المثال، بعض بقاع شرق جمهورية الكونغو الديمقراطية أفادت التقارير بأن حوالي 50 % من النساء هن أرامل. وتضم أفغانستان إحدى أعلى النسب من الأرامل في العالم مقارنة بمجموع سكانها وذلك بسبب النزاعات المسلحة التي مزقت البلاد خلال أكثر من عقدين من الزمن، حيث يبلغ عدد الأرامل فيها حوالي 5.1 مليون أرملة، ويعيش ما بين 50 ألفا إلى 70 ألف أرملة في كابول وحدها، وأن عدد الأرامل من السوريات يقدر بالآلاف بسبب النزاع المستمر في سوريا وما زالت أعدادهن مرشحة للزيادة في ضوء ذلك. وتقول منظمات مدنية في العراق أن ما بين 90 إلى 100 امرأة تترمل يوميا نتيجة أعمال القتل والعنف الطائفي والجريمة في البلاد. (جريدة الدستور المصرية) التعليق: لقد دأبت الأمم المتحدة ومؤسساتها على الاحتفال بأيام عالمية كل عام، منها ما يتعلق بالمرأة كيوم المرأة العالمي، واليوم العالمي للقضاء على العنف ضد المرأة، ومنها ما يتعلق بالأطفال كيوم الطفل العالمي، واليوم العالمي لمكافحة عمل الأطفال وأيام أخرى للصحة والتعليم والعمل والرياضة...الخ، وما زالوا يخرجون علينا بين الفينة والأخرى بيوم عالمي جديد، كيوم الأرامل العالمي الذي بدأ الاحتفال به قبل أربع سنوات، والسؤال الذي يطرح، ماذا قدمت الأمم المتحدة والمحتفلون معها بأيامها العالمية لأصحاب القضايا المحتفل بها؟ فماذا تحقق للنساء بالاحتفال باليوم العالمي للمرأة؟؟ هل أنصفن؟؟ هل حصلن على حقوقهنّ؟؟ وهل نجحت الحملات التي تطلق بمناسبة اليوم العالمي للقضاء على العنف ضد المرأة في تحسين وضع المرأة في العالم، والقضاء على العنف الذي تتعرض له، أليس حالها يزداد سوءاً؟ وماذا قدمت الأمم المتحدة للأطفال في أيامهم العالمية؟ وكذلك الحال مع الأرامل فإن الاحتفال بيوم عالمي لهن لم ولن يغير من واقعهن ومعاناتهن شيئاً. فهذه الأيام والمناسبات العالمية لا تسمن ولا تغني من جوع، ولا تتعدى كونها مناسبات تلقى فيها الخطابات، وتسرد فيها الإحصائيات، ويوصف فيها الواقع المرير دون تقديم أي علاجات ناجحة. ثم إن الأمم المتحدة كمن يقتل القتيل ويمشي في جنازته، فهي تضم في عضويتها الدول الاستعمارية الكبرى وتدعمها وتساندها في حروبها، التي أشعلتها بسبب جشعها وطمعها في السيطرة على ثروات ومقدرات الشعوب، وسعيها للقضاء على الإسلام والمسلمين والحيلولة دون إقامة خلافتهم، فارتكبت في سبيل ذلك المجازر التي كان أغلب ضحاياها من النساء والأطفال، حيث خلفت وراءها ملايين الأرامل واليتامى، هذا عدا عن القتل والاعتقال والتهجير وانتهاك الأعراض...الخ، وهي أيضاً تدعم وتساند الأنظمة القمعية في بلاد المسلمين فيما ترتكبه من جرائم بحق شعوبها، كدعمها لنظام بشار المجرم الذي قام بإحالة حياة النساء في سوريا إلى شقاء وتعاسة، وتسبب في جعل عدد كبير منهن أرامل. ثم تأتي بعد هذا كله لتحتفل باليوم العالمي للأرامل!!! إن ما تحتاجه الأرملة لتحيا حياة كريمة ليس يوماً عالمياً تقام فيه الاحتفالات وتلقى الخطابات، بل تحتاج إلى من يزيل عنها الظلم والحرمان من الحقوق، وكذلك النظرة الدونية لها في بعض المجتمعات، إنها تحتاج لمن يمسح دمعتها ودمعة أطفالها الأيتام، ويزيل عن كاهلها عبء توفير احتياجاتهم، فكثير من الأرامل اضطررن للعمل في ظروف قاسية وبأجور زهيدة من أجل توفير لقمة العيش لهن ولأطفالهن، إنها بحاجة إلى من يوفر لها الرعاية والحماية، والإسلام وأحكامه هي الكفيلة بتوفير ذلك لها ولأطفالها. فقد أبطل الإسلام النظرة الدونية للأرملة الناشئة من الموروثات الاجتماعية البالية، والتي تحرمها من حقوقها كحقها في ميراث زوجها قال تعالى: ﴿لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيباً مَفْرُوضاً﴾. وكذلك فإن الإسلام لا ينهي حياة الزوجة عند وفاة زوجها، فلا يطالبها بحرق نفسها بعد وفاة زوجها، ولا يفرض عليها حياة الرهبنة بعده، فالإسلام لم يمنع الأرملة من الزواج بعد انتهاء العدة، وقد نهى الإسلام عن منعها من الزواج إذا رغبت في ذلك، قال تعالى: ﴿فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْاْ بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ﴾، فالامتناع عن الزواج بالأرامل والنظر نظرة سلبية لمن تتزوج بعد وفاة زوجها هو من الموروثات البالية، فقد تزوج النبي عليه الصلاة والسلام من نساء سبق لهن الزواج وتوفي أزواجهن كأم سلمة وسودة بنت زمعة، والصحابة رضوان الله عليهم كانوا يتزوجون من الأرامل، وإن تكرر الترمل، وسواء أكان لهن أطفال أم لم يكن، وكانوا يقومون على رعايتهن ورعاية أبنائهن. إن تطبيق أحكام الإسلام في واقع الحياة من خلال دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، كفيل بإنهاء معاناة الأرامل وباقي النساء في ظل هذه الأنظمة الوضعية الظالمة، حيث ستعمل على توفير الحماية والرعاية لهن ولأطفالهن، وستضمن توفير الحاجات الأساسية والكمالية لهن ولأطفالهن إن لم يكن لهنّ معيل أو عجز المعيل عن القيام بواجب النفقة، والخلافة فقط هي من ترفع من مكانتهن وتضمن لهن الحصول على حقوقهن، فإلى العمل لإقامتها ندعوكم أيها المسلمون، لتفوزوا بعز الدنيا والآخرة. ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾ كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرأختكم براءة مناصرة
خبر وتعليق وللأرامل يوم عالمي يحتفل به
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست