خبر وتعليق   وتتواصل سياسة التضليل والتلبيس من قبل حسن نصر الله سقط القناع وتبقى القلاع
خبر وتعليق   وتتواصل سياسة التضليل والتلبيس من قبل حسن نصر الله سقط القناع وتبقى القلاع

  الخبر: أكّد الأمين العام لحزب الله حسن نصر الله في كلمة له عبر شاشة المنار يوم الاثنين 2015/05/05 تطرّق فيها إلى عدد من التطورات المحلية والإقليمية، أبرزها اليمن، والعراق، وسوريا ولبنان وملف القلمون. الأمين العام لحزب الله حسن نصر الله تحدث في الشأن السوري، وقال أنّه "في الآونة الأخيرة وبعد سقوط جسر الشغور شهد العالم موجة من الشائعات والضخ الإعلامي التي تهدف لإحداث حرب نفسية"، مؤكدا أنّ العالم اليوم "أمام حرب نفسية تريد أن تنال من إرادة السوريين ومن عزيمتهم وصمودهم وتريد أن تحقق ما لم تستطع تحقيقه عسكريا". وقال السيد نصر الله أنّه "لا يجب أن يصغي أحد إلى هذه الأكاذيب وهذه الحرب النفسية ليست بجديدة بل بدأت منذ بدء الأزمة السورية"، معتبرا أن الشائعات حول تخلّي إيران عن سوريا كلام فارغ ولا صحة له إطلاقا. كما قال أنّه "في أي حرب هناك جولات من يربح الجولة لا يعني أنه ربح الحرب ومن خسر جولة لا يعني أنه خسر الحرب". وتوجه بالقول إلى الشعب السوري "لأهلنا وشعبنا في سوريا أقول كنا وسنبقى معكم وحيثما يجب أن نكون كنّا سنكون"، وقال "نحن دخلنا إلى سوريا بناء على تشخيص واضح وهو أنّ الدفاع هو عن سوريا ولبنان وكل المنطقة". وقال نصر الله أنّ "الذهاب لمعالجة الوضع في القلمون محسوم لكن التوقيت والطريقة والمكان والأهداف لم نعلنها رسميا"، وأضاف أنّه "لو انتظرنا الإجماع اللبناني لكانت الجماعات المسلحة في الكثير من المناطق اللبنانية". وأضاف نصر الله في كلمته "لمن يقول لنا من كلّفكم بهذا الأمر نقول إنّ هذا تكليف إنساني وأخلاقي وديني"، وأضاف "حتى المعتدون الذين أتوا بالمسلحين لإسقاط أنظمة أدركوا اليوم خطرهم والسحر سينقلب على الساحر". وقال: "نحن ندفع ضريبة الدم ليحيا الناس بعزة وكرامة وأمان وما النصر إلا من عند الله".     التعليق: من المعلوم أنّ ثورة الشام المباركة كانت وما زالت كاشفة وفاضحة للعديد من الوجوه و"القيادات" التي كثيرا ما تغنّت بالمقاومة والممانعة، فأظهرت للأمّة صورتها الحقيقية الماكرة والمخادعة، وبان زيف شعاراتها وانكشف انخراطها في مشروع أعدائها. ومن هذه الوجوه التي كشفت ثورة أهل الشام عورتها وتجلّى خداعها ونفاقها أمين عام حزب إيران في لبنان حسن نصر الله، فلم يجد بدّا من سترها سوى ورقة تلبيس الباطل لبوس الحقّ من أجل تلميع صورته القاتمة الشديدة السواد لوقوفه بجانب طاغية الشام - نيرون العصر - وتبرير جرائمه في حق شعبه. وأمام تسارع الأحداث الميدانية في سوريا والهزائم الكبرى لقوات طاغية الشام في الشمال والجنوب من خلال تضييق المجاهدين الخناق على جسر الشغور وتوجّههم للقلمون، ممّا أقضّ مضجع نصر الله الخادم المطيع لبشار - كما أقرّ هو بنفسه - ودفعه لاعتبار هذه الإنجازات البطولية للثوّار مجرّد "ربح جولة وأنّ الحرب كرّ وفرّ". وقد جدّد أمين حزب إيران ولاءه للدولة الصفوية والمجرم بشار معربا عن وقوف إيران بجانبه وعدم تخلّيها عن حليفها. وواصل نصر الله تضليله وأكاذيبه بادّعاء وقوفه بجانب الشعب السوري والدفاع عنه وعن كل المنطقة. فهل خفي على خادم إيران أنّ الجميع شاهدوا بأمّ أعينهم "بسالة" جنوده في القلمون ودير الزور وجرائمهم الفظيعة في حق أهلها وتدميرهم لمساجدها وسفك دماء أبنائها شبابا وشيبا وولدانا. وقد بدا الارتباك واضحا في خطابه حين حديثه عن القلمون - أمام ما سمع من إنجازات للثوار وتوحيد جهودهم من أجل تحريرها - موضّحا أنّ جنود حزبه سيكونون هناك دون بيان الكيفية والتوقيت، وهو ما يبرز حالة التخبّط الكبير والارتباك التي تشهدها قوات الطاغية بشار وحلفائه من حزب إيران. كما لم يتخلّ أمين عام حزب إيران - كعادته - عن التلبيس على البعض بقصد إقناعهم واستمالتهم بخطاب عاطفي مبيّنا أنّ وقوفه بجانب الطاغية بشار هو "تكليف إنساني وأخلاقي وديني". فعن أيّ إنسانية يتحدث وجنوده وجنود الطاغية يقتلون ويفجّرون وبراميلهم تدكّ المنازل والمساجد والمخابز والمستشفيات؟ وعن أيّ أخلاق يتحدث وقد رضي بالوقوف لجانب سفّاح قاتل؟ فعلا لقد انقلب السّحر على السّاحر، وسقط قناعك وبإذن الله ستبقى قلاع بلاد الشام الأبيّة صامدة في وجه الخونة والعملاء الذين باعوا دينهم بدنيا غيرهم، وما دام فيها رجال مخلصون معتصمون بحبل الله يتبرّؤون من حبل الناس، عاهدوا الله على أن تكون الشام عقر دار الإسلام. قال تعالى: ﴿وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَى لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُمْ بِهِ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ﴾.     كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرالأستاذ محمد علي بن سالم - تونس  

0:00 0:00
Speed:
May 08, 2015

خبر وتعليق وتتواصل سياسة التضليل والتلبيس من قبل حسن نصر الله سقط القناع وتبقى القلاع

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست