خبر وتعليق    ويبقى اللاجئون السوريون كالمستجير من الرمضاء بالنار
November 18, 2014

خبر وتعليق ويبقى اللاجئون السوريون كالمستجير من الرمضاء بالنار


الخبر:


"في تقرير أذاعته قناة العربية اليوم الجمعة 14/11، أعلنت منظمتا إغاثة دوليتان أن دول الجوار قلصت بشدة من أعداد السوريين المسموح بدخولهم إلى أراضيها لعدم قدرتها على استيعاب المزيد من اللاجئين، وقد انخفض عدد اللاجئين بنسبة 88% في شهر تشرين أول/ أكتوبر الماضي مقارنة بالمتوسط الشهري لعام 2013 حيث انخفض إلى 18453 لاجئا من 150 ألف لاجئ، فقدرة الدول المضيفة وصلت إلى أقصاها والمجتمع الدولي تخلى عن أبسط التزاماته اتجاه اللاجئين كما قال الأمين العام لمجلس اللاجئين النرويجي. وذكر التقرير أن ضخامة عدد اللاجئين تمنع تلك الدول من القيام بالخدمات الإنسانية تجاههم من تأمين المأكل والمسكن والمدارس للأطفال حيث لم تصل المساعدات المالية اللازمة لذلك مما وضعهم في عجز مالي وخصوصا لبنان.. وهذا أدى إلى كوارث عديدة في التعليم والغذاء وعلى المستوى الطبي والسكن خاصة مع حلول موسم الشتاء فمخيماتهم غير مجهزة لمواجهة البرد والمطر، مما خلق أزمات وصفها البعض بالعنصرية بين اللاجئين وأهل المنطقة".

التعليق:


أصبحت سوريا في الوقت الراهن - حسب وصف مفوضية اللاجئين التابعة للأمم المتحدة - أكبر حالة طوارئ إنسانية، حيث اضطر نحو نصف السكان للنزوح عن منازلهم، فقد فر واحد من بين ثمانية سوريين عبر الحدود، كما أن هناك 6.5 مليون نازح داخل سوريا، وتصل أعداد كبيرة من الأسر إلى مخيمات اللاجئين في الدول المجاورة وهي في حالة من الإرهاق والخوف، حيث أمضى بعضهم أكثر من عام في التنقل من قرية إلى أخرى داخل سوريا، بحسب الوكالة الأممية. وكما هو معلوم فإن معظم أولئك اللاجئين والنازحين من النساء والأطفال. وقد فرت غالبيتهم إلى دول مجاورة (لبنان والأردن وتركيا والعراق)، ويحتل لبنان الكثافة الأعلى بينهم (1.14 مليون شخص). وإن المأساة المستمرة في سوريا - في ظل التآمر والصمت الدولي والذي يحاول إجهاض هذه الثورة بكل الوسائل والسبل والحيل، وثبات أهل الشام وعدم خضوعهم لتلك المؤامرات - أطالت فترة الحرب وحمّلت هؤلاء الناس مزيدا من المصاعب والمآسي بمختلف أشكالها وصورها داخل سوريا وخارجها في هذه المخيمات.. وحتى الجهود والمساعدات الإنسانية التي يفترض من المجتمع الدولي ومنظمات الأمم المتحدة القيام بها إنسانيا على الأقل لم ترتق للمستوى المطلوب إنسانيا..


إن تضخيم تصوير الأعباء الاقتصادية بسبب هؤلاء اللاجئين على دول الجوار وكأنها هي السبب في تلك الأوضاع المتردية أصلا ما هو إلا وسيلة أخرى لإثارة الرأي العام ضدهم ورفع وتيرة العداء لهم وأنهم السبب في هذا، ناهيكم عن التضخيم الإعلامي لهذا ولتأثيرهم حتى على الأوضاع الاجتماعية والسلوكية لسكان تلك البلاد.. بحيث أصبح عدد منهم ينفرون ويخافون منهم بدل تعاطفهم واستضافتهم لهم. ويتضح هذا في أقوال وزراء خارجية بعض هذه الدول في المؤتمر الذي عقد قبل حوالي أسبوعين في برلين في ألمانيا أواخر تشرين الثاني الماضي والذي اجتمع فيه وزراء خارجية وممثلو 40 دولة لتنسيق الدعم الدولي للاجئي الحرب في سوريا، والذي قال فيه جبران باسيل وزير خارجية لبنان أن وجود اللاجئين السوريين في لبنان يشكل مأساة يومية ليس فقط عليهم بل على حياة اللبنانيين، فلبنان يحتاج لاقتسام تلك الأعباء مع الدول الأخرى، وكذلك صرح ناصر جودة وزير الخارجية الأردني أن بلاده استنزفت قدراتها على مساعدة اللاجئين السوريين.. وكما ورد في مقابلة مع فاليري أموس منسقة الأمم المتحدة لشؤون الإغاثة والتي قالت أن أوضاع اللاجئين السوريين تزداد تدهورا، فينبغي تقديم الدعم للدول المجاورة، وأن عمليات الإغاثة تواجه عراقيل كثيرة خاصة مع انتشار الجماعات المسلحة في العديد من مناطق سوريا حسب قولها، وتناقص تعاطف الناس المستضيفة لهم مما يتطلب حلا سياسيا عاجلا خاصة مع قدوم فصل الشتاء وما يعنيه هذا من أوضاع مأساوية للأطفال والنساء..


إن كل هذا استغلال من الأنظمة لمأساة هؤلاء السوريين والتسول على حسابهم.. وكذلك محاولة لتمرير المؤامرة ضد الثورة ومطالبها باستغلال مأساتهم وأوضاعهم كورقة ضغط عليهم لقبول الحلول التآمرية والرضوخ للإملاءات الغربية في إبقاء النظام نفسه مع تغيير الوجوه والتي رفضها أهل الشام طوال الأعوام الثلاثة الماضية ولا زالوا صابرين صامدين رغم كل التضحيات.. وإننا نسأل الله لهم الثبات في وجه كل مؤامرات الغرب وأعوانه وأدواته، ليتحرروا من دول الكفر وينهوا نفوذهم ولا يسمحوا لهم بالتدخل والتآمر على ثورتهم المباركة، وأن تستمر الثورة حتى يسقطوا النظام بكل رموزه وأشكاله وأركانه، وأن يثبتوا حتى يقيموا دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة إن شاء الله.. ليصدق فيهم حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم حيث قال: «أتدرون ما يقول الله عز وجل بالشام؟ يقول: أنتِ صَفْوَتِي مِنْ بِلادِي، فِيكِ خَيْرَتِي مِنْ عِبَادِي، وإليكِ المحشر».

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أم صهيب الشامي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست