January 19, 2015

خبر وتعليق زعماء العالم يقفون صفا واحدا لاضطهاد المرأة المسلمة (مترجم)


الخبر:


يوم الأحد 2015/1/11 اجتمع زعماء العالم في مسيرة تضامن ضد قتل الرهائن في هجوم باريس على الصحيفة، سيئة السمعة، شارلي إيبدو.


التعليق:


لقد كان اصطفاف زعماء العالم رغبة منهم في الاستفادة من الصور الفوتوغرافية لتعزيز شهرتهم السياسية، ولم يكن سوى موقف سادي مثير للضحك يسخر من قدسية الحياة البشرية وحقوق الإنسان.


إن وقوف جميع الزعماء، يدا بيد، مثل صف المجرمين الذين يستغلون سلطتهم لممارسة الظلم، والتعذيب، والقتل وإسكات المعارضة السياسية في بلادهم، وفي بعض الحالات في دول أخرى. هذه المحاولة الخسيسة، لإقناع العالم بأن القيم العلمانية والليبرالية مبنية على أساس أخلاقي رفيع، وأنهم حماة الحضارة والسلام العالمي الأبطال، لا يمكن قبولها في الوقت الذي فيه حقوق التعبير عن الرأي والحق في الحياة بدون خوف من الاضطهاد أو الظلم يتم استغلالها من قِبل تلك النخبة للبقاء في مكاتبهم الدكتاتورية العفنة وحرمان الملايين من مواطنيهم المسالمين الذين يحترمون القانون ويواجهون الظلم يوميا في ظل قيمهم الزائفة.


مثال واحد لا يمكن تجاهله وهو، أنه بينما وقف هؤلاء الزعماء معاً في فرنسا، كان عليهم أن لا ينكروا أن موقفهم الموحد في سوء معاملة وانتهاك حقوق الملايين من النساء المسلمات اللواتي يعانين جراء حظر الحجاب والنقاب الذي حرمهن من حقهن في التعليم، أو من الحصول على الرعاية الصحية والخدمات الحكومية، هو أكثر شمولية وتنظيما ممن يسمونها بالمنظمات الإرهابية الإسلامية والتي يدعون محاربتها. الأمر الوحيد الذي بقي أن يفعلوه عمليا هو خطف الفتيات والنساء، على غرار جماعة بوكو حرام، وإعدامهن، ومع موافقة قادة أوروبا على اغتصاب وإعدام البوسنيات المسلمات، يجب أن نتوقع منهم الأسوأ.

إن خطاب الكراهية المسموم "إسلام فوبيا" من قبل الغرب وصمت زعماء العالم عن الاعتداءات على النساء المسلمات (في فلسطين، وأفغانستان، وسوريا، والعراق، وبورما، وتركيا، وألمانيا، ومصر، والأردن...) قد حدد نظرة سياسية مفادها بأن العنف وسوء معاملة المسلمين، ولا سيما النساء، هو أمر طبيعي ومقبول اجتماعيا.


لو كانت الصور سلاحا في الحرب السياسية ضد الإسلام، فإن مجموعة بريطانية ضد الإسلام فوبيا (MAMA UK)، نشرت تقريرا خاصا بالهجمات المضادة الذي أظهر مدى ازدياد العنف ضد المسلمين في جو مشحون من الهستيريا ضد الإسلام روّج لها سياسيون غير مسؤولين عازمون على معاقبة واستبعاد المسلمات.


من الواضح أن الديمقراطية الغربية هي أبعد ما تكون عن إيجاد مجتمعات آمنة ومتماسكة لجميع الناس للعيش والتعبير فيها عن آرائهم بحرية. والحقيقة هي أن الأعمال الإرهابية تُرعى من قِبل السياسيين الذين يأملون باستغلال هذه الحوادث لخلق حالة من الخوف يكون فيها المواطنون مذعنين لآراء الحكومة.


ذكرت أسوشيتد برس أنه "بين السادس والعاشر من كانون الثاني 2015، قبل مسيرة "حرية التعبير" المجيدة، قد فتحت فرنسا 54 "ملفا جنائيا". وأضافت بأن " فرنسا أمرت النيابة العامة في جميع أنحاء الدولة بالقضاء على خطاب الكراهية، ومعاداة السامية وتمجيد الإرهاب".


ولتسليط الضوء على نفاق قوانين حرية التعبير، فإن فرنسا حاليا عندها قيود على حرية التعبير أكثر صرامة من الولايات المتحدة. وهذه حقيقة سمحت باعتقال ديودون 48 ساعة، وهو ساخر على غرار شارلي إيبدو، بعد مسيرة "حرية التعبير"، على إثر منشور على الفيس بوك غير عنيف في طبيعته فُسّر على أنه معادٍ لليهود. وللاحتجاج على الظلم تم نشر هاشتاج "أنا ديودون".


مع كل هذا الخلط في السياسة، فإن شيئا واحدا واضح بشكل صارخ، وهو أن السياسة الغربية الليبرالية قد فشلت في خلق الأمن والأمان للبشرية. إنها تخدم فقط مصالح النخبة وتعاقب كل من يتحداها وتنظم إرهاباً دولياً لم يسبق له مثيل في التاريخ.


إن دولة الخلافة الإسلامية هي النموذج التاريخي الأوحد الذي لم يحمِ المرأة المسلمة فقط، لكنه حافظ على الناس من جميع الأديان ليعيشوا بسكينة وطمأنينة تحت حكم الإسلام طالما لم يخالفوا شروط العهد كرعايا للدولة.


إن النموذج الإسلامي السياسي لا يقبل بسياسات "كبش الفداء" الذي يستخدمه الغرب حاليا، بعد الحرب الباردة، وجعل من المسلمين العدو المستهدف لإخفاء جرائم الحكام. ولا يجوز للخليفة أن يستعدي رعايا الدولة الملتزمين بقوانين الدولة، كما بين القرآن الكريم ﴿لا يَنْهَاكُمْ اللَّهُ عَنْ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [الممتحنة: 8].


إن فرض رعاية غير المسلمين بشكل لائق هو أمر في غاية الأهمية كما ورد في الحديث الشريف عن النبي صلى الله عليه وسلم في كيفية معاملة أهل الذمة.


في ظل غياب هذا التوضيح المتميز للرعاية السياسية، فإن الخيانة والكذب والخداع من قبل حكام المسلمين ما هو إلا المثال السيئ الذي يراه العالم للأسف. فقط بعودة النظام السياسي الإسلامي الحقيقي سيرى العالم ونساؤه الحقوق الحقيقية بعدل وبدون تمييز. وفي الوقت نفسه يجب أن لا نتوقع من زعماء العالم إلا دعم عملائهم الدمى عالميا، وأن يضعوا كل العراقيل لمنع ظهور هذه المنارة المضيئة للحكم باعتبارها النظام الوحيد الذي سوف يزيل هذه النخب الخائنة التي تسيطر على مقدرات الشعوب.




كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
عمرانة محمد
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست