الخبر: دعت منظمة الأمم المتحدة للتربية والعلوم والثقافة (يونسكو)، إلى زيادة تمثيل النساء في مجال الصحافة، فضلًا عن حماية أكثر لحقوق الصحفيات ووقف "العنف" الممارس ضدهن. وذلك في المؤتمر الذي تنظمه اليونسكو في لاتفيا، تحت عنوان "دعوا الصحافة تزدهر"، للاحتفال باليوم العالمي لحرية الصحافة، الذي يوافق 3 من أيار/مايو كل عام. ويناقش المؤتمر الذي يستمر لثلاثة أيام، عدة مواضيع أهمها وضع المرأة في المجال الصحفي، سواء من حيث عملها كصحفية أو تناول الصحافة لقضاياها. وتطالب اليونسكو بتفعيل "منهاج عمل بكين" والذي يطالب بزيادة مشاركة المرأة في العمل الصحفي وتحسين فرصها للتعبيرعن آرائها، وتشجيع تقديم صور متوازنة للمرأة في وسائل الإعلام. وتقول المنظمة إنه "بعد عشرين عامًا على إعلان أهداف منهاج بكين، لا تزال صناعة الإعلام تواجه عقبات منها سوء تمثيل النساء والتغطية غير الكافية للمسائل المتعلقة بهن، والعنف الصريح الممارس ضد الصحفيات". )سكاي نيوز عربية) التعليق: إن للإعلام أهميةً كبرى في حياة الأفراد والدول، لما له من تأثير كبير على الرأي العام وتشكيل وتغيير الأفكار والمفاهيم والمشاعر لدى الناس، فهو الطريق الرئيس في نقل الأخبار، وبث المعلومات، وعرض الحقائق من قبل جهة معينة إلى جهة أخرى وفق سياسة ممنهجة، بقصد تحقيق أهداف وغايات مرسومة ومخططة بناءً على وجهة النظر التي تحملها الجهة التي يتبع لها الإعلام، أو بناءً على ما تمليه تلك الجهة على الإعلامي المتصل بالجمهور ليلتزم به أثناء تأديته لوظيفته الإعلامية، ولذلك فإن الإعلام يحظى باهتمام كبير من الحكومات والدول في العالم، بل إن بعض الدول تمتلك ما يطلق عليه "إمبراطوريات إعلامية"، ولو ألقينا نظرةً سريعةً على القوى المتحكمة في وسائل الإعلام في العالم اليوم لوجدناها لا تزيد عن خمس دول وهي: أمريكا وبريطانيا وفرنسا، وإلى حد أقل روسيا وألمانيا. فهذه الدول تمتلك وكالات أنباء عالمية تكاد تحتكر جمع المعلومات وصياغتها وتوزيعها على وسائل الإعلام فهي مصدر المعلومات والأنباء لغالبية الإذاعات والصحف والفضائيات في العالم، وهذه الوكالات هي: اليونايتدبرس والأسيوشيتدبرس وهما أمريكيتان ورويترز وهي بريطانية ووكالة الصحافة الفرنسية ووكالة تاس الروسية ووكالة الأنباء الألمانية. هذا من جهة، ومن جهة أخرى فإن كل إعلامي أو وسيلة إعلامية تحاول الخروج عن الخط العام لهذه الدول وسياساتها الإعلامية، وتسليط الضوء على قضايا من شأنها أن تكشف أجندتها ومخططاتها خاصةً في بلاد المسلمين، أو الحديث عن الأنظمة الحاكمة وتبعيتها لهذه الدول وتقصيرها في أداء واجبها تجاه شعوبها، فإن مصير هذه الوسيلة سيكون الإغلاق، كما أن الصحفيين سيعاقبون، فعن أي حرية للصحافة يتحدثون؟! وما الذي سيتغير من واقع الإعلام وسياساته ونظرته للمرأة وقضاياها إن زادت نسبة تمثيلها ومشاركتها في العمل الصحفي، ما دام الإعلام مسيسًا ويعمل وفق أجندة معينة تخدم مالكيه؟ فحتى ظهور المرأة في وسائل الإعلام (عربيةً كانت أو عالميةً) والحديث عن قضاياها ومشاكلها، هو أمر مسيس ويخدم أجندةً معينةً، فالإعلام يسير وفق مخططات الغرب وأعوانه، وهو أحد الأسلحة الفتاكة التي تستخدمها الدول الغربية في الحرب على المرأة المسلمة، فلو نظرنا إلى الصورة العامة التي يتم إظهار المرأة فيها على وسائل الإعلام لوجدنا أنها صورة تنبع من النظرة الرأسمالية للمرأة، والتي تقوم على اعتبارها جزءًا ماديًا نفعيًا، فلا يُنظر إليها إلا كسلعة تجارية، أو موضعٍ لإشباع شهوة، فنظرتهم للمرأة هي نظرة نفعية جنسية بحتة، حيث يتم استعمالها كمادة للإثارة والجذب وأداة لترويج السلع ومحور للإعلان عن كل شيء، كما أن المحطات الفضائية - وتحت مسمى الفن - قامت بتقديم جسد المرأة كمحل للاستمتاع، في الأغاني والكليبات والمسلسلات والأفلام والعروض الفنية، ولا نغفل الهجوم الشرس الذي تشنه وسائل الإعلام على أحكام النظام الاجتماعي في الإسلام، حيث ركزت في هجومها على أحكام شرعية معينة كاللباس الشرعي، وقد قامت وسائل الإعلام أيضًا بتسطيح قضايا المرأة وتقزيم اهتماماتها في الموضة والمكياج وبرامج الطبخ...إلخ، هذا عدا عن البرامج الإفسادية ومحاولات تضليل المرأة المسلمة وتغريبها عن دينها، بشعارات براقة كالمساواة والقضاء على العنف ضد المرأة وحقوق المرأة... إلخ، كما أنها عتمت على كل صوت مخلص يحمل حلولًا جذريةً لما تعانيه المرأة من ضنك وشقاء وتعاسة، ويسعى للنهوض بها نهضةً حقيقيةً، بينما فتحت الباب على مصراعيه لكل صاحب دعوة إفسادية، وغطت نشاطات المؤسسات النسوية أو الأخبار ذات الصلة بهذا الشأن، وأهملت قضايا كثيرةً تهم المرأة وتستأهل تغطيتها بصورة مكثفة.. إلا من خبر هزيل عابر. إن وسائل الإعلام والمنظمات الدولية والمؤسسات النسوية وحتى الحكومات، ينطبق عليهم قول الشاعر: وكل يدعي وصلًا بليلى *** وليلى لا تقرُّ لهم بذاكا فكلهم يدعون أنهم يعبرون عن قضايا واهتمامات المرأة، ويسعون لتحقيق تطلعاتها، وتوفير الحياة الكريمة لها، ولكن ما الذي حققوه لها على أرض الواقع؟! ألم يتخذوا من هذه القضايا والحقوق ذريعةً ينفذون بها مخططاتهم؟ وختامًا فإنه حتى تصبح وسائل الإعلام مرآةً صادقةً تعرض هموم المرأة وقضاياها بصدق، ويكون ظهورها فيها بصورة إيجابية مشرقة، كامرأة مسلمة فاعلة ومؤثرة في المجتمع، تعمل في وسائل الإعلام كما تعمل في باقي الميادين التي أباحها لها الشرع، ملتزمةً أحكامه وضوابطه، لا بد من تغيير السياسة التي يقوم عليها الإعلام في بلاد المسلمين، ولا بد له من التحرر من الأجندة الغربية في التعامل مع القضايا والأخبار، والانحياز إلى صف الأمة الإسلامية، والنظر للأمور من زاوية الإسلام. كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرأختكم براءة مناصرة
خبر وتعليق زيادة تمثيل المرأة في إعلام ينفذ الأجندة الغربية لن يحقق لها شيئًا
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست