January 07, 2015

خبروتعليق ثوراتنا بين الربيع والخريف


الخبر:


ذكرت صحيفة الجارديان البريطانية أن الربيع العربي أدى لأضخم موجات هجرة منذ الحرب العالمية الثانية والمهاجرون الهاربون من الشرق الأوسط وشمال أفريقيا يخاطرون بكل شيء من أجل الهروب من الحروب في بلادهم. ونقلت الصحيفة عن ليونارد دويل، المتحدث باسم منظمة الهجرة الدولية قوله إن: "هذه الأعداد لم يسبق لها مثيل فيما يتعلق باللاجئين والمهاجرين، حيث لم نشهد شيئا مماثلا منذ الحرب العالمية الثانية، وحتى وقتها كان تدفق الهجرة في الاتجاه المعاكس". وأشارت الصحيفة إلى أن أكثر من 45 ألف مهاجرا خاطروا بأرواحهم بعبور البحر المتوسط للوصول إلى إيطاليا ومالطا في عام 2013، كما توفي 700 وهم يحاولون العبور، وارتفع عدد القتلى بمقدار أربعة أضعاف في عام 2014 ليصل إلى 3224 شخص. (الجارديان 2015/03/03 والترجمة العربية للخبر عبر إرم نيوز 2015/01/05)


التعليق:


هكذا يتلون الإعلام الغربي مع ثورات الأمة! بداية سماها بالربيع العربي وتوجّها بأكاليل الزهور، ورفع الثوار اليافعين لمصاف الزعماء والقادة وجعل منهم نجوما ومشاهير. ثم طاف بهم مع القادة الغربيين ميادين الحريّة التي ارتوت بدماء الشهداء وذرف مع هؤلاء القادة دموع التماسيح، مجّد بطولات الثوار ونشر ملفات الحكام المخلوعين من باب إذلال المخلوعين ومناصرة المنتصرين. تابع الغرب سير الثورات ولم يغب عن أعينهم للحظة تأثير فكرة التغيير على الأمة بأسرها بل وراقب سعي الشعوب الدؤوب نحو التغيير. فتظاهر ساسته بمساندة الثوار وما ذاك إلا لحاجة في أنفسهم قضَوها، فهم أظهروا حرصاً على الثورات وابتهاجاً بها؛ حتى إذا ما استبدلوا العملاء بغيرهم وحصروا موجات التغيير في بلاد الربيع العربي بتغيير الأقنعة القبيحة بأخرى مُجمَّلة تنصلوا من فكرة التغيير ووصفوها بالفوضى التي تزعزع أمن المنطقة وتلقي بالناس إلى التهلكة. وانتهى دور الربيع مع عودة الأنظمة على حالها من الحفاظ على المصالح الغربية وتأمين بقاء سَدَنتها.


تغزلوا بفكرة التغيير وحق الشعوب في تحديد مصيرها في بداية الثورات أما الآن فقد تغيرت اللغة وظهرت محاولات شيطنة الثورات المباركة (وثورة الشام الكاشفة الفاضحة بشكل خاص) وتشويه الربيع الذي بات يوصف بخريف ترك البلاد قاحلة خاوية كئيبة. يهاجمون ربيعاً هجّر أهل البلاد وروع الآمنين المطمئنين وأيقظهم من سبات عميق "آمن" تحت ظل الأنظمة المستبدة حتى بات البعض يترحم على أيام ما قبل الثورات. تعالت أجراس الخطر وكأن العالم اكتشف فجأة أن عدم الاستقرار هجّر الناس بعد أن وصل الرقم لحوالي 16.7 مليون لاجئ حول العالم.. وكأن العالم انتقل فجأة من حكم الديناصورات المستبدة في مصر واليمن وليبيا وتونس إلى واقع مؤلم يتباكى عليه الجميع بعد أن فر أكثر من 33,3 مليون شخص وأصبحوا بين عشية وضحاها نازحين مهجرين يتنقلون بين ذل الخيام وضيافة اللئام.. غرباء داخل بلدانهم التي تمزقها الحروب. وكأنهم تفاجأوا بالأوضاع التي دفعت المهاجرين السوريين لعبور البحر المتوسط للهروب من الربيع ومآلات ثوراته بعد أربع سنوات من حماية حكم السفاح بشار الأسد ونشر الفوضى في أرجاء الشام الأبية.


بل وكأنهم يلومون الثورات ويلقون عليها وزر الملايين ليستنتج الجميع أن بقاء المستبد أخف الضررين وأهون الشرين وأفضل من الموت والدمار والخراب.

وأن بقاء المستبد المعروف خير من المجهول ومغبات المخاطرة بزعزعة الأمن والأمان. إنه منطق وقح يسترجع كلمات حسني مبارك "إما أنا أو الفوضى".

يخير الناس بين القهر والاستبداد وبين تقسيم البلاد والفقر وانعدام الأمن، منطق يروج لسياسة "الأمن والأمان" في ظل أنظمة القمع والاستبداد باستخفاف واضح لعقول الشعوب وحصر همومها وطموحاتها بلقمة العيش ورغيف الخبز.. إنه منطق فرعون الذي ظن أنه يملك مفاتيح الغيب!!


صحيح أن الثورات لم تؤتِ أكلها ولكنها فتحت الطريق أمام الأمة وجعلتها تتلمس طريق الخروج من نفق الاستعمار وأذنابه ووضعت الأمة بأسرها أمام حقيقةٍ لطالما حاولوا تغييبها وهي أن السلطان بيد الأمة تهبه لمن تشاء. إن إخفاقات الثورات لا تعالج بتشويه فكرة التغيير بل بتغيير المسار ومراجعة الفكرة التي قامت الثورة من أجلها. وحتى نقلل من الخسائر ونحافظ على الأرواح والثروات ونصل للمنشود من استقرار وتغيير حقيقي لا بد وأن يقوم الرأي العام في بلاد المسلمين على وعي وتبصر وأن تكون الأهداف غير مبهمة والمعالجات واضحة ومنسجمة مع عقيدة المسلم ومنهجه في الحياة.


إن اختزال الثورات في صورة المهجّرين أو أهل المخيمات هو جزء من المؤامرة على الأمة وترسيخ لأنظمة لا يمكن وصفها بأنها حكم المستبد المغتصب لأنها تجاوزت ذلك وباتت امتداداً للاستعمار وترسيخاً لجذوره. الثورات التي ألهمت الأمة بأسرها وحررتها من قيد الخوف والإحباط يتم شيطنتها اليوم لكي يضمن المستبدون ومن يقف وراءهم أن لا يتحقق الربيع المنشود الذي تريده الأمة وتعمل منذ عقود من أجله، لا يريدون الربيع بل يريدونه أن يكون خريفاً دائما يقتل فيه الإحباطُ وحبُ البقاء طموحَ الأمة. إن هذه الحملات الإعلامية المشبوهة هي ترسيخ لمنطق الخوف، وخطاب غريزي يراد منه تكبيل الأمة في القاع وإبقاء الحال على ما هو عليه ولكن بقاء الحال من المحال. والخريف الذي يريدون للأمة الانحباس في ظلاله والاستسلام له ينذر بشتاءٍ تستقبل فيه الأمة أمطار الخير وقد شدَّت رحالها نحو تغيير حقيقي جذري تخلع فيه أنظمة الاستبداد من جذورها لتعيد لأرض الإسلام نقاءها وطهرها بتطبيق شريعة الرحمن وتتحرر من كل القيود ولا يتم هذا إلا بفكر مبدئي يتغلغل في الأمة على وعيٍ وبصيرة ويسير بثبات مستنيرا بسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم ومنهجه في التغيير.


﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾




كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أم يحيى بنت محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست