خلية تفكير أمريكية تحذر من أن الجيش الأمريكي يتخلف عن روسيا والصين (مترجم)
خلية تفكير أمريكية تحذر من أن الجيش الأمريكي يتخلف عن روسيا والصين (مترجم)

الخبر:   وفقا لـ "سي إن بي سي": جاء في تقرير جديد صادر عن مركز راند الفكري بأن جهود تحديث الدفاعات الأمريكية "تفشل في المواكبة" عندما تقارن مع خصميها الكبيرين، وأن القوات الأمريكية "تتخذ وضعية ضعيفة في مواجهة التحديات الرئيسية في أوروبا وشرق آسيا". ومع تصاعد التوتر مع كوريا الشمالية، ناقش تقرير راند المؤلف من 190 صفحة بعنوان "القدرات العسكرية الأمريكية وقوى العالم الخطير" سيناريوهات الحرب مع الناتو وروسيا التي تضم دول البلطيق. كما أن التقرير حلل إمكانية وقوع اشتباك محتمل بين أمريكا والصين حول تايوان وفجوات في القدرات الأمريكية الحالية.

0:00 0:00
Speed:
December 13, 2017

خلية تفكير أمريكية تحذر من أن الجيش الأمريكي يتخلف عن روسيا والصين (مترجم)

خلية تفكير أمريكية تحذر من أن الجيش الأمريكي يتخلف عن روسيا والصين

(مترجم)

الخبر:

وفقا لـ "سي إن بي سي": جاء في تقرير جديد صادر عن مركز راند الفكري بأن جهود تحديث الدفاعات الأمريكية "تفشل في المواكبة" عندما تقارن مع خصميها الكبيرين، وأن القوات الأمريكية "تتخذ وضعية ضعيفة في مواجهة التحديات الرئيسية في أوروبا وشرق آسيا".

ومع تصاعد التوتر مع كوريا الشمالية، ناقش تقرير راند المؤلف من 190 صفحة بعنوان "القدرات العسكرية الأمريكية وقوى العالم الخطير" سيناريوهات الحرب مع الناتو وروسيا التي تضم دول البلطيق. كما أن التقرير حلل إمكانية وقوع اشتباك محتمل بين أمريكا والصين حول تايوان وفجوات في القدرات الأمريكية الحالية.

ومع وضع هذه العوامل في الاعتبار، قال كاتبو تقرير راند بأن القوات المسلحة في البلاد "غير مدربة أو جاهزة بشكل كاف" عند النظر إلى مكونات الخدمة الفاعلة. ويأتي هذا التقييم على الرغم من الوجود العسكري الأمريكي في مناطق عدة من العالم، والإرساليات الجارية لمكافحة (الإرهاب) والحرب في أفغانستان، والتي تقترب من عامها العشرين.

وجاء في التقرير "باختصار، فإن توفير القوة العسكرية التي دعت إليها استراتيجية الأمن القومي الطموحة للولايات المتحدة، والتي لم تكن سهلة أبدا، أصبحت مؤخرا أكثر تحديا".

وقال الكاتبون بأن "مصادفة هذا الواقع الجديد مع فترة محدودية ميزانيات الدفاع أدت إلى وضع بعيد عن الوضوح يفيد بأن قواتنا العسكرية كافية للمهام التي ستعرض عليها".

والأكثر من ذلك فقد أشار تحليل راند أيضا إلى أن قدرات الصين وروسيا قد تقدمت حتى الآن ومن المحتمل أن تتمكن من هزيمة القوات الأمريكية في حالات معينة.

"وبعبارة أكثر وضوحا، فإن التقييمات في هذا التقرير تظهر بأن من الممكن، في ظل افتراضات معقولة، أن تخسر القوات الأمريكية الحرب المقبلة التي يتطلب منها القتال فيها، على الرغم من أن الولايات المتحدة تنفق أكثر من القوات العسكرية الصينية بنسبة 2.7: 1 ومن روسيا بنسبة 6: 1"، في قراءة لتقرير "على الدولة أن تقدم ما هو أفضل من ذلك".

وقد تواصلت سي إن بي سي يوم السبت مع وزارة الدفاع للتعليق على ما ذُكر ولكنها لم تتلق أي رد فوري. ومع ذلك، فقد تم تمويل دراسة راند جزئيا من قبل الإدارة، ما يشير إلى أنهم على بينة من محتوياته.

التعليق:

منظمة راند هي الركيزة الأساسية للمجمع العسكري الصناعي الأمريكي وهذا التحذير يأتي في وقت الانشغال التشريعي الأمريكي مع التخفيضات الضريبية التي فرضتها النخبة الأمريكية بسبب الإنفاق الحكومي الخارج عن نطاق السيطرة. وتشعر مؤسسة الدفاع الأمريكية بالقلق لقناعتها بأن الأصل عدم تأثر الإنفاق العسكري.

تواجه أمريكا والغرب بشكل عام كارثة مالية طويلة الأمد حيث إن الإنفاق على الرعاية الاجتماعية لا يزال يأخذ الجزء الأكبر من ميزانيات الحكومة بسبب انهيار الدعم الأسري والمجتمعي الناجم عن المفاهيم الغربية للحرية والفردية. في حين إن الحال في السابق كان يشرف فيه الرجل للإنفاق من دخله الشخصي على من يعولهم مباشرة - والديه الكبيرين في السن، وزوجته وأولاده، وأقاربه القريبين، وجيرانه، والفقراء والمحتاجين - تشجع القيم الغربية الحالية الرجال على إنفاق ثروتهم على أنفسهم فقط، ما يُحمل الحكومة عبئا مستحيلا. في الواقع، فقد تبنى الغرب حلا اشتراكيا لمشكلة رأسمالية. إن حكومات أمريكا أنفقت ولا تزال على "الرفاه" تريليونات الدولارات، ومع ذلك فإن الضعفاء والفقراء والمحتاجين لا يزالون يعانون معاناة كبيرة لأن الحكومات الغربية لا تملك القدرة الإدارية على رعاية الأفراد بالطريقة التي يمكن لأسرهم ومجتمعاتهم فعلها. وفي الوقت نفسه، تواصل النخبة الضغط على الحكومة من أجل تخفيض الضرائب وتخفيض الإنفاق، لا سيما وأن التغير السكاني يعني أن نسبا أكبر بكثير من السكان ستكون أكبر سنا من ذي قبل. وفي نهاية المطاف فإن هذا التناقض الكبير سوف يكسر الغرب، تماما كما ساهم الإسراف الحكومي في تفكك الاتحاد السوفياتي الشيوعي.

ومع ذلك، فإن هناك نقطة حاسمة أخرى لا بد من الوقوف عندها هنا. فعلى الرغم من القيود المالية الأمريكية، فإن الميزانية العسكرية الأمريكية الحالية ليست أكبر ميزانية في العالم فقط، بل هي في الواقع مساوية تقريبا للإنفاق العسكري لباقي دول العالم مشتركة. كيف يمكن أن يكون مثل هذا الإنفاق الهائل غير كاف؟

وللإجابة على ذلك، من الضروري أن ندرك أن أمريكا تقع على الجانب الآخر من الأرض من معظم بقاع العالم، ومن ثم تحتاج إلى إنفاق مبالغ هائلة لإبراز سلطتها للحفاظ على مكانتها كقوة عظمى عالمية. وهذا على النقيض من أوروبا وروسيا والصين التي عادة ما تكون مخاوفها العسكرية الرئيسية مع جيرانها المباشرين. ولكن الأهم من ذلك، أنه من الضروري أن نلاحظ بأن أكبر مشاركة عسكرية أمريكية طويلة الأمد كانت ولا تزال في العالم الإسلامي، حيث يشارك الجيش الأمريكي في العديد من الصراعات والعمليات والحروب الجارية. في الواقع هذا هو ما كسر ظهر أمريكا، تماما كما كان للجهاد في أفغانستان دور أساسي في كسر ظهر الاتحاد السوفياتي في الثمانينيات. إن الأمة الإسلامية تتفجر غضبا وسخطا، وترفض الأجنبي الكافر وتدخلاته الاستعمارية. وسيشهد العالم قريبا، بإذن الله، عودة القوة العظمى الحقيقية والعادلة، دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة والتي من شأنها إحلال السلام في العالم بأسره وحماية البشرية جمعاء من ظلم الظالمين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست