خطة عمران خان في زيادة عبء الديون الباكستانية
خطة عمران خان في زيادة عبء الديون الباكستانية

عشية تنصيب عمران خان كرئيس للوزراء في باكستان، أشارت تقارير صحفية عدة إلى أن لاعب الكريكيت السابق الذي تحول إلى سياسي سيحصل على قروض لسد عجز ميزان المدفوعات في البلاد؛ فهل يمتلك عمران خان حقا سياسة اقتصادية ناجحة للتغلب على العجز التجاري بين الواردات والصادرات؟

0:00 0:00
Speed:
August 08, 2018

خطة عمران خان في زيادة عبء الديون الباكستانية

خطة عمران خان في زيادة عبء الديون الباكستانية

الخبر:

عشية تنصيب عمران خان كرئيس للوزراء في باكستان، أشارت تقارير صحفية عدة إلى أن لاعب الكريكيت السابق الذي تحول إلى سياسي سيحصل على قروض لسد عجز ميزان المدفوعات في البلاد؛ فهل يمتلك عمران خان حقا سياسة اقتصادية ناجحة للتغلب على العجز التجاري بين الواردات والصادرات؟

التعليق:

يعكس تنصيب رؤساء الوزراء والرؤساء والملوك في جميع أنحاء العالم التقاليد العميقة للاحتفال بهذا الحدث؛ في باكستان، من المعتاد أن يستقطب القادة الجدد الدول الغنية والمؤسسات الدولية للحصول على قروض لسد العجز التجاري في البلاد، من أجل دفع ثمن المواد الأساسية المستوردة مثل النفط وتسوية مدفوعات الدائنين بالعملات الأجنبية. وعلى الرغم من وعد عمران خان بالتغيير، فإن جميع المؤشرات تشير إلى أنه سوف يتبع سياسة أسلافه ويتوسل من أجل الحصول على قروض أجنبية.

عرضت السعودية مليار دولار على شكل قروض [1]، في حين قدمت الصين 2 مليار دولار كمساعدة [2]. ومعلوم أن القروض لا تعطى دون شروط، فرغبة السعودية في تقديم المساعدة هي أن يكتشف عمران خان أخيراً طريقة لإقناع الباكستانيين بتوفير المزيد من الجنود لخوض معارك الملك سلمان الكارثية في العالم الإسلامي، وفي الوقت نفسه، تهدف المساعدات الصينية إلى إقناع خان بدعم جهود بكين لتحل محل النفوذ الأمريكي في شبه القارة الهندية.

تشير الشائعات التي تحوم في إسلام آباد إلى أن خان سيتوجه إلى صندوق النقد الدولي للمطالبة بحزمة قروض بقيمة 12 مليار دولار [3] - وهي الأكبر لغاية الآن. وإذا كان هذا صحيحًا، فسيكون هذا الإنقاذ المالي الباكستاني الثالث عشر في إطار برنامج التعديل الهيكلي الذي تم تقديمه لأول مرة في عام 1980. يشير النقاد إلى أن صندوق النقد الدولي كان مدمراً للاقتصاد الباكستاني [4]، وتشير إحدى الدراسات إلى أن معدل البطالة وحده "ارتفع من متوسط ​​3.5 بالمائة في الثمانينات إلى 5.7 بالمائة في التسعينات إلى 6.7 في 2000-2001" [5]. ويعتقد العديد من الباكستانيين أن قروض صندوق النقد الدولي أثْرت النخبة وأفقرت عامة الناس وعززت من الهيمنة الأمريكية على المنطقة.

كما هو الحال دائما، فإن السبب الجذري وراء استمرار انهيار باكستان وعدم ازدهار اقتصادها هو عمليات الإنقاذ التي يقوم بها صندوق النقد الدولي، وتعاظم الدين بسبب السياسات التي لا تدعم السيادة الاقتصادية للبلد، وتقوض بشدة من الصناعات المحلية للبلد. لو اتبعت باكستان سياسة بناء قاعدتها الصناعية لتصبح مكتفية ذاتيا، فإن البلد لن يحتاج إلى قروض أجنبية، ومن الأمور الأساسية لهذه السياسة: (أ) توفير بنية تحتية حديثة للصناعات لتوسيعها بسرعة، (ب) تشجيع اعتماد الصناعة الثقيلة، (ج) تلبية الاستهلاك المحلي قبل تصدير السلع.

معنى غياب صناعة قوية في باكستان يعني أنها تعتمد بشكل مفرط على استيراد معظم السلع الأساسية، ناهيك عن المواد الصناعية الثقيلة مثل الآلات الثقيلة والمفاعلات النووية والطائرات والقطارات… وما إلى ذلك، التي يتطلب شراؤها صرف العملات الأجنبية. ومما زاد الطين بلة، أن برامج صندوق النقد الدولي المتعاقبة ضخمت من فاتورة الواردات من خلال التدهور السريع للقاعدة الصناعية الباكستانية وقدرتها على توفير السلع والخدمات للاستهلاك المحلي. بالإضافة إلى ذلك، زاد صندوق النقد الدولي اقتصاد باكستان ضعفا بإصراره على خصخصة الأصول الاستراتيجية للبلد وبيعها للأجانب.

من ثم، فإن السياسة الاقتصادية لباكستان تتلخص في: اقتراض الدولارات لشراء السلع الأساسية، وسداد مدفوعات الفائدة، وبيع كنوز البلاد للشركات متعددة الجنسيات. بالتالي تضخم الدين الخارجي لباكستان إلى 92 مليار دولار [6] من ديون خارجية بلغت 62 مليار دولار في عام 2013. وقد أضافت حكومة حزب نواز شريف 30 مليار دولار وسيضيف خان 12 مليار دولار عند بدء حكمه. فهل من المتوقع أن تكون سياسة خان الاقتصادية مختلفة عن سلفه؟!

يوفر الإسلام بديلاً بسيطًا للاقتراض من الأجانب من أجل تلبية الاحتياجات المحلية، وبما أن الخزانة الباكستانية لا تملك الأموال الكافية لتلبية الاحتياجات الأساسية مثل الغذاء والملبس والمأوى والتعليم والرعاية الصحية لـ 211 ​​مليون باكستاني، فإن الإسلام أباح جني ضريبة الطوارئ من أغنياء المسلمين. وفي حالة باكستان، فإنه يمكنها فرض هذه الضريبة على أغنى 40 مليارديرا، أو أغنى 1٪ من السكان، وبهذا تتوفر القدرة على توليد عشرات التريليونات من الروبية بمعدل ضريبي للطوارئ بنسبة 50٪، وهذا الحل سهل التطبيق، ويحظى بدعم شعبي واسع النطاق.

مع ذلك، هل يمتلك عمران خان الشجاعة لتبني الحل الشرعي للمرض الرأسمالي المتمثل في عبء الديون وعدم كفاية أموال الخزينة؟ إن أكبر المعارضين لضريبة الطوارئ الإسلامية هم نسور الرأسمالية ممن يحومون حول خان، من الطبقة السياسية وكبار الملاك ورجال الأعمال وبالطبع الجنرالات. ولا عجب أن يستمر الباكستانيون في العيش في الفقر المدقع والبؤس. قال الله تعالى: ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾.

إن لدى الباكستانيين خيارين بسيطين: العيش في ظل حكومة خان الباكستانية في البؤس نفسه الذي يرزحون تحته، أو العمل لإقامة الخلافة على منهاج النبوة، ليعيشوا تحت السيادة الاقتصادية الدائمة، حيث لا سيطرة أو سيادة للأجانب على السياسة الاقتصادية. وإن كان هناك حل بسيط في الإسلام مثل فرض ضريبة طوارئ يمكن أن يقضي على عبء الديون في لمح البصر، فكيف سيكون الحال عند التطبيق الكامل للنظام الاقتصادي في الإسلام في باكستان؟!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد المجيد بهاتي

المراجع:

[1] https://en.dailypakistan.com.pk/headline/saudi-arabia-comes-to-pakistans-rescue-with-1billion-assistance

[2] https://tribune.com.pk/story/1767965/1-china-agrees-give-2b-loan-pakistan/

[3] https://www.dawn.com/news/1424807

[4] https://www.dawn.com/news/1425319

[5] Ibid

[6] https://tribune.com.pk/story/1711866/2-pakistans-external-debt-soars-record-91-8b/

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست