خطة إدلب الأمريكية هي اختيار أهون الشرين (مترجم)
خطة إدلب الأمريكية هي اختيار أهون الشرين (مترجم)

الخبر:   "رئيس الأركان محمد باقري الذي جاء إلى تركيا في زيارة استغرقت ثلاثة أيام، بعد أن قام بزيارة لرئيس الأركان العامة خلوصي أكار، اجتمع مع الرئيس رجب طيب أردوغان في القصر الرئاسي". [وكالات 2017/08/17م]

0:00 0:00
Speed:
August 21, 2017

خطة إدلب الأمريكية هي اختيار أهون الشرين (مترجم)

خطة إدلب الأمريكية هي اختيار أهون الشرين

(مترجم)

الخبر:

"رئيس الأركان محمد باقري الذي جاء إلى تركيا في زيارة استغرقت ثلاثة أيام، بعد أن قام بزيارة لرئيس الأركان العامة خلوصي أكار، اجتمع مع الرئيس رجب طيب أردوغان في القصر الرئاسي". [وكالات 2017/08/17م]

التعليق:

بعد أن صرح مايكل راتني، المبعوث الأمريكي الخاص إلى سوريا، بقوله: "أصبح من الصعب على الولايات المتحدة إقناع اللاعبين الدوليين في إدلب بعدم اللجوء إلى التدخلات العسكرية اللازمة"، بعد ذلك بوقت قصير صرح رئيس الوزراء يلدريم بقوله: "إذا كانت الولايات المتحدة ستضرب إدلب فسنغلق الحدود كإجراء وقائي". وقد صرح الرئيس أردوغان، تعليقًا على نفس الموضوع، بقوله: "إننا نجتمع مع إيران وروسيا وهذه الاجتماعات تجري بشكل جيد، وسنقوم بحل قضية إدلب بالتعاون مع روسيا". وبعد هذه التصريحات في 8 - 9 آب/أغسطس، قام الخبراء الأتراك والروس والإيرانيون بتجهيز الاستعدادات لاجتماعات أستانة السادسة في طهران.

غير أنه يبدو أن هذه الاجتماعات لم تكن كافية، لذلك جاء رئيس هيئة الأركان الإيرانية محمد باقري إلى تركيا في زيارة لمدة ثلاثة أيام مع عدد من الموظفين العسكريين رفيعي المستوى. باقري الذي اصطحب نائب وزير الخارجية، وقائد الحرس الثوري، ووكلاء المخابرات والأمن ومكتب رئيس الأركان والعديد من الممثلين العسكريين رفيعي المستوى؛ سيعقد اجتماعات رسمية مع رئيس الأركان خلوصي أكار والرئيس أردوغان ووزير الدفاع الوطني ووكالة المخابرات الوطنية. وبعد ذلك سيقوم رئيس أركان روسيا بزيارة تركيا...

ومما لا شك فيه أن التعاون بين تركيا وروسيا وإيران حول سوريا الذي ما زال مستمرًا منذ فترة طويلة، لا يقصد به الخير بل الشر. وبينما تتحرك تركيا بالتعاون مع أمريكا، فهي من ناحية أخرى تتحرك أيضًا مع روسيا وإيران اللتين تخدمان أيضًا السياسة الأمريكية.

وقد دعا مايكل راتني المبعوث الأمريكي الخاص إلى سوريا المعارضة في المنطقة وقال إن هيئة تحرير الشام ستكون مسؤولة عما سيحدث وأنها ينبغي أن تغادر المنطقة. وقد كانت هذه الذرائع، في الواقع، هي الذرائع نفسها التي يستخدمها الذئب لافتراس الأغنام. فقد استُخدمت نفس الذرائع عندما أصيب الملايين من إخوتنا في حماة وحمص ودرعا وحلب والموصل والرقة. وقد احتُلت العراق وأفغانستان والكثير من البلاد الأخرى باستخدام نفس الأسباب. لأن المسلمين هناك يشكلون تهديدًا لزعمية الكفر أمريكا. وقد كان على أهل تلك البلاد إما الخضوع أو القتل. والآن نفس الخطة يجري تنفيذها على الملايين من إخواننا في إدلب. فهم يحاولون الآن سوقهم للخضوع لتهديداتهم؛ أهون الشرين!

والهدف من التحركات التي بدأت مع التهديد الأمريكي هو إنهاء الثورة السورية من خلال الانضمام والانخراط في اجتماعات أستانة التي يديرها التحالف الأمريكي والتركي والروسي والإيراني الشرير. وإذا تمكنوا من تنفيذ ذلك، فإنهم سيقومون بتفريغ المدينة مثلما فعلوا مع مدينة حلب أو يضطرونهم إلى حياة أسوأ من الموت في ظل نظام "أسد"! وإذا لم يقبلوا بذلك ولم يخضعوا لهم، فسيحولون المدينة إلى أنقاض كما حصل في الموصل! وبطبيعة الحال فإن هذه خطة الكفار الأشرار، ويمكرون ويمكر الله، والله خير الماكرين.

والآن، هل ستقف تركيا، بعد كل هذا، بجانب الدول الإرهابية الحقيقية أمريكا وروسيا وإيران، تمامًا مثلما حدث عند احتلال حلب والموصل والرقة؟ وهل ستنظر إلى جميع السكان وإخواننا الذين كانوا أبرياء في الماضي، هل ستنظر إليهم "كإرهابيين" لمجرد أن أمريكا تريد ذلك؟ وهل ستواصل دعمهم عندما ترتكب أمريكا وحلفاؤها المذابح؟ وهل ستحل قضية سوريا مع القاتل الذي ذبح ملايين المسلمين؟

نحن لم ولن ننسى ما ارتكبته أمريكا وروسيا أو ما فعلته إيران! إنها دول تعادي الإسلام والمسلمين وهم في حرب مع دين الله. وبالتأكيد، فإن الله سينصر من ينصره. واليوم يجب على تركيا أن تقف بجانب المسلمين، لحماية إدلب بكل ما في وسعها، وألا تصطف مع الكفار الذين يقومون بهذه الفظائع. وكل الحكومات التي لا تفعل ذلك ستشارك في كل جرائم الكفار والطغاة الذين يرتكبون ذلك معًا. وإننا ندعو الله سبحانه وتعالى أن ينعم علينا بإقامة دولة الخلافة الراشدة الحقة على منهاج النبوة التي ستحرك جيوشها فتلقن الكفار دروسا لن ينسوها، وستفتح حدودها أمام المسلمين، وستساعد كل الضحايا الذين يلجؤون إليها؛ بخلاف كل هذه الحكومات التي تغلق حدودها خدمة لأسيادهم وتعامل المسلمين على أنهم "إرهابيون".

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

موسى باي أوغلو

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست