خوف بلغاريا التاريخي وكراهيتها للإسلام والمسلمين يتجلى في تصديق البرلمان على قانون "حظر النقاب" (مترجم)
خوف بلغاريا التاريخي وكراهيتها للإسلام والمسلمين يتجلى في تصديق البرلمان على قانون "حظر النقاب" (مترجم)

الخبر:   صادقت الجمعية الوطنية البلغارية في 15 حزيران/يونيو على القراءة الأولى لقانون حظر ارتداء الملابس التي تغطي الوجه كاملاً أو جزئياً في الأماكن العامة. وقد طرح قانون حظر ارتداء النقاب من قبل ائتلاف الأقليات القومية الجبهة الوطنية.

0:00 0:00
Speed:
June 22, 2016

خوف بلغاريا التاريخي وكراهيتها للإسلام والمسلمين يتجلى في تصديق البرلمان على قانون "حظر النقاب" (مترجم)

خوف بلغاريا التاريخي وكراهيتها للإسلام والمسلمين

يتجلى في تصديق البرلمان على قانون "حظر النقاب"

(مترجم)

الخبر:

صادقت الجمعية الوطنية البلغارية في 15 حزيران/يونيو على القراءة الأولى لقانون حظر ارتداء الملابس التي تغطي الوجه كاملاً أو جزئياً في الأماكن العامة. وقد طرح قانون حظر ارتداء النقاب من قبل ائتلاف الأقليات القومية الجبهة الوطنية.

وسيتم تطبيق الحظر على أهل بلغاريا وعلى أي شخص يتواجد في البلاد بشكل مؤقت. وينص القانون على عدم ارتداء الملابس التي تخفي الوجه في مؤسسات الإدارة المركزية والإدارات المحلية في بلغاريا والمدارس والمؤسسات الثقافية وأماكن الترفيه العامة والأماكن الرياضية وشبكات الاتصال.

وسيتم السماح بتغطية الرأس والعينين والأذنين والفم عند الضرورة فقط لأسباب صحية أو ضرورة مهنية وفي الأنشطة الرياضية والثقافية. وسيتم تطبيق الحظر أيضاً في دور العبادة.

وينص القانون على غرامة قدرها 200 ليفا (حولي 100 يورو) لمن ينتهك الحظر لأول مرة، وغرامة بمقدار 1500 ليفا والحرمان من المزايا المجتمعية لمن يعيد خرق الحظر بعد المرة الأولى.

وعلاوةً على ذلك، فإن من يقنع الآخرين بتغطية وجوههم سيواجه عقوبة تصل إلى السجن ثلاث سنوات و5000 ليفا ومواجهة الانتقاد العام. وفي حال كان الإقناع موجهاً لشخص قاصر فستصل العقوبة إلى أقصى حد وهي 5 سنوات سجناً وغرامة مالية بمقدار 10000 ليفا. (المصدر: صوفيا جلوب)

التعليق:

تعتبر بلغاريا موطناً لأكبر أقلية مسلمة في الاتحاد الأوروبي حيث بلغ عدد المسلمين 13% من عدد سكانها الذي يصل إلى 7 مليون نسمة. ولكن وعلى الرغم من وجود المسلمين في المنطقة منذ الخلافة العثمانية، إلا أن الأحزاب البلغارية الديمقراطية القومية اليمينية المتطرفة مثل الجبهة الوطنية تتبنى ارتفاع السياسات الأوروبية الغربية المعادية للأجانب والمعادية للمسلمين. وهكذا ستكون بلغاريا رابع دولة في الاتحاد الأوروبي بعد فرنسا وبلجيكا وهولندا التي تقوم بفرض حظر على ارتداء النقاب في الأماكن العامة. تشمل التفسيرات النموذجية المحيطة بمثل هذا الحظر ما يسمى مخاوف أمنية نحو دعاة " مناهضة الديمقراطية" و"الإسلام الراديكالي" وأفواج اللاجئين التي بدأت بالوصول  منذ 2013 من سوريا والعراق وأفغانستان عبر الحدود البرية الشرقية لبلغاريا مع تركيا.

إن ردة فعل رئيس الوزراء بوريسوف المنتخب ديمقراطياً لتدفق اللاجئين لا تعكس فقط "سياسة الخوف" ولكن أيضاً تعكس الموقف التاريخي الطويل من التعصب والتمييز ضد الإسلام والمسلمين، والذي يعود منبعه إلى الفترة الشيوعية وإلى الإجبار على تقبل "عملية إحياء" اللغة التركية. وقال بوريسوف: "أنا خائف والشعب البلغاري خائف، إذا كان الأمر متعلقاً بالأديان فنحن مسيحيون وهم مسلمون". كما دعا قادة الكنيسة الأرثوذكسية البلغارية الحكومة إلى منع دخول اللاجئين بعد الآن إلى البلاد لمنع "الغزو". وقال رئيس بلدية بازارجيك الذي كان من أوائل القادة السياسيين في حظر تغطية الوجه في مدينة بازارجيك: "ارتداء الملابس التي تخفي الوجه تعوق التعرف على الناس" وبالتالي فإن "الحظر سيزيد من الشعور بالأمن لدى المواطنين".

إن تصنيع "سياسة الخوف" من قبل السياسيين البلغار والأحزاب السياسية اليمينية هو بمثابة كبش الفداء الموجه تجاه المسلمين ولباسهم ومساجدهم وتجاه اللاجئين وأي شيء آخر لجعل الإسلام هو الملوم بعيداً عن التهديدات الحقيقية التي تواجه البلغار بسبب الديمقراطيات الفاشلة، حيث إن هذه الإخفاقات قد أنتجت التهديدات الحقيقية للبلغار واللاجئين مثل الجريمة المنظمة غير المسيطر عليها وتهريب البشر والفساد السياسي والاقتصادي والقضائي وزيادة الفقر والمشقة. وكما يقول المثل البلغاري: "كل بلد لديه مافيا وفي بلغاريا المافيا لديها البلاد". تصف برقية السفارة الأمريكية في بلغاريا والتي كشفت عنها ويكيليكس مدى انتشار الجريمة المنظمة. وكونها العضو الأفقر مادياً في الاتحاد الأوروبي قد أدى إلى موجة من الأضاحي الذاتية في الأماكن العامة والخاصة الناجمة عن احتجاجات 2013 البلغارية ضد رئيس الوزراء بوريسوف في أوائل الربيع.

ولذلك فإن التهديدات الحقيقية التي تواجه المجتمع في بلغاريا هو التحول الديمقراطي الفاشل من الشيوعية والتي رسخت نظاماً سياسياً فاسداً مقوداً من قبل السياسيين الفاسدين الذين يستغلون أي فرصة لدرء هذه الإخفاقات مثل حظر النقاب.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ثريا أمل يسنى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست