خيبة أمل بايدن من خفض "أوبك+" لإنتاجها، كخيبة أمل الشيطان من معصية أحدهم!
خيبة أمل بايدن من خفض "أوبك+" لإنتاجها، كخيبة أمل الشيطان من معصية أحدهم!

الخبر: تحالف "أوبك+" يخفض إنتاج النفط بمقدار مليوني برميل يوميا.

0:00 0:00
Speed:
October 09, 2022

خيبة أمل بايدن من خفض "أوبك+" لإنتاجها، كخيبة أمل الشيطان من معصية أحدهم!

خيبة أمل بايدن من خفض "أوبك+" لإنتاجها، كخيبة أمل الشيطان من معصية أحدهم!

الخبر:

تحالف "أوبك+" يخفض إنتاج النفط بمقدار مليوني برميل يوميا.

صرح بعدها مستشار الأمن القومي الأمريكي والمجلس الاقتصادي الوطني جيك سوليفان بأن "الرئيس يشعر بخيبة أمل بسبب القرار قصير النظر الذي اتخذته "أوبك+" لخفض حصص الإنتاج بينما يتعامل الاقتصاد العالمي مع التأثير السلبي المستمر لغزو بوتين لأوكرانيا".

التعليق:

خيبة أمل بايدن من خفض "أوبك+" لإنتاج النفط بمقدار مليوني برميل يوميا هي خيبة مثار استغراب، فأمريكا تتعامل مع نفط المنطقة كسلاح من أسلحتها الاستراتيجية للهيمنة، وتتحكم في السياسة النفطية للدويلات الوظيفية التابعة لها تحكما تاما. فمتى عُلِم أن صاحب مقترح التخفيض والذي رَوَّجَه وسَوَّقَه هي دويلة السعودية في أوائل أيلول/سبتمبر الماضي، وروجت لفكرة "إمكانية أن يدرس التحالف خفضا للإنتاج وأن أعضاء من "أوبك+" مثل جمهورية الكونغو والسودان وغينيا الاستوائية منفتحون على الفكرة"، وكانت السعودية هي من يدير اجتماع "أوبك+" ويدفع باتجاه التخفيض، وتم إعلان الخبر من واشنطن، وفي السياق نفسه عبّر جي بي مورغان أكبر بنوك أمريكا في وقت سابق عن اعتقاده بأن "أوبك+"، "قد تحتاج إلى التدخل بخفض ما يصل إلى مليون برميل يوميا، لوقف هبوط الأسعار وإعادة تنظيم الأسواق الفعلية والورقية التي يبدو أنها منفصلة"، ثم صرح بعدها وزير الطاقة السعودي في مؤتمر صحفي بعد الاجتماع الأخير لـ"أوبك+": "قررنا في التحالف تعديل الإنتاج الإجمالي نزولا بمقدار 2 مليون برميل في اليوم، من مستويات الإنتاج المطلوبة في آب/أغسطس 2022، بدءاً من تشرين الثاني/نوفمبر 2022"، ومعلوم أن دويلة سلمان وابنه الغر تأتمر بأوامر الإدارة الأمريكية فكيف بأمر خطير كالسياسة النفطية التي لها تأثيرها المباشر وتداعياتها على الساحة الدولية وخاصة في زمن الحرب الروسية الأوكرانية؟ ما ينفي عن قرار الخفض أية استقلالية عن أمريكا فضلا أن يكون مفاجئا أو صادما يستدعي خيبة أمل رئيسها.

ما ينبئ أن الإدارة الأمريكية وراء الطبخة الجديدة في خفض إنتاج النفط، والسعودية مجرد أداة توظيف وتنفيذ، وتصريح بايدن عن خيبة الأمل، هو في حقيقته تصريح للداخل الأمريكي لامتصاص الغضب الشعبي، خاصة وأن الإدارة مقدمة على الانتخابات الأمريكية للتجديد النصفي.

فقرار الخفض أمريكي بامتياز وهو شق من استراتيجية أمريكا تجاه روسيا، فخفض الإنتاج بهذا المعدل غير مسبوق كما وصفه ألكسندر نوفاك نائب رئيس الوزراء الروسي، فمن خبايا أهدافه سعي أمريكا لخفض إيرادات روسيا من مبيعات النفط، وتطمح في المقام الأول لإلحاق هزيمة مالية بروسيا عبر ضرب قطاع طاقتها (النفط الخام والغاز الطبيعي بل وحتى الفحم)، هذا القطاع الذي يعتبر عصب ومحرك الاقتصاد الروسي، فروسيا هي ثالث أكبر منتج للنفط الخام بعد أمريكا والسعودية، بمتوسط إنتاج يومي يبلغ 11 مليون برميل تصدر منها قرابة 5 ملايين برميل يوميا.

فقرار الخفض دفعت به السعودية واعترضت روسيا على الفكرة أول الأمر في 4 أيلول/سبتمبر، ثم استثمرت أمريكا في ذلك التقارب السعودي الروسي الملغوم بالخديعة والفخاخ الأمريكية وذلك الدفء في العلاقة بين بوتين وابن سلمان، فكانت الوقيعة بالروس، وقال الكرملين "إن الرئيس الروسي فلاديمير بوتين وولي العهد السعودي الأمير محمد بن سلمان تحدثا الأسبوع الماضي وأشادا بالجهود المبذولة في إطار "أوبك+"، وأكدا عزمهما الالتزام بالاتفاقيات القائمة"، وأظهر بيان "أوبك+" بخفض إنتاج النفط، بأن السعودية وروسيا تتحملان الحصة الكبرى من خفض الإنتاج بواقع 526 ألف برميل يوميا لكل دولة، وبنحو 1.052 مليون برميل يوميا للدوليتين. الأمر الذي يقلص مداخيل الروس من مبيعات النفط ويستنزف ماليتهم التي تتآكل جراء حربهم ضد أوكرانيا وتفاقم وضعهم العسكري هناك.

أما أمريكا فخصاص النفط في السوق العالمية يخدم مبيعاتها ويدفع بالاستثمارات في سوق نفطها الأحفوري (التي كانت تعرف تقلصا)، فقد قال رجل الأعمال في مجال النفط الصخري مات غالاغير "إن قرار تحالف "أوبك+" بخفض سقف إنتاجه من النفط قد يمهد الطريق لارتفاع الأسعار الأمر الذي من شأنه تشجيع شركات استكشاف النفط الأمريكية من زيادة الحفر والتنقيب"، أما على مستوى المبيعات فلقد جاء في البيان الصادر عن البيت الأبيض بأن "بايدن سيأمر بخفض احتياطي النفط الأمريكي الاستراتيجي، ومن المقرر طرح 10 ملايين برميل في السوق الشهر المقبل في محاولة للحد من ارتفاع الأسعار"، الأمر الذي يخدم مصالح صناعة النفط الأمريكية وتجارة النفط الأمريكية، بل تعداها إلى ارتفاع الاستثمارات في قطاع الفحم الأمريكي الذي زادت مبيعاته.

هو شيطان الاستعمار الأمريكي اللعين وتلك أحابيله، يتغذى على الغباء السياسي لروسيا عطفا عليه خزي خيانة وعمالة رويبضاتنا، وتلك سياسته تنفذ بأدوات محلية حقيرة رخيصة من خونة الدار العملاء.

يا أهل الدار: هذا هو بؤس حالكم، فأمريكا تصارع روسيا حتى آخر قطرة من نفطكم، بعدما امتطت ظهور رويبضاتكم وأرخت ساقيها وتدلت، ونحن من يدفع الثمن غاليا!

يا أهل الدار: هذا هو بؤس حالكم، أما آن لكم قطع دابر الكفر والاستعمار؟! ﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مناجي محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست