كلام غير مسؤول أم حقد على الإسلام والمسلمين؟
كلام غير مسؤول أم حقد على الإسلام والمسلمين؟

الخبر:   لا تزال التصريحات التي أطلقها المرشح المحتمل عن الحزب الجمهوري لانتخابات الرئاسة الأمريكية بحق المسلمين من أهالي البلاد تثير جدلا في الأوساط المحلية والدولية، خاصة في أعقاب دعوته إلى محاصرة أحيائهم. في هذا الإطار، أشارت صحيفة واشنطن بوست في افتتاحيتها إلى الخطاب غير المسؤول لكروز إزاء المسلمين المقيمين في الولايات المتحدة، ودعوته إلى تسيير دوريات في الأحياء التي يقيمون فيها. وقالت إن دعوة كروز إلى تأمين أحياء المسلمين تشبه دعوة منافسه من الحزب ذاته دونالد ترامب إلى مراقبة أو إغلاق المساجد.

0:00 0:00
Speed:
March 28, 2016

كلام غير مسؤول أم حقد على الإسلام والمسلمين؟

كلام غير مسؤول أم حقد على الإسلام والمسلمين؟

الخبر:

لا تزال التصريحات التي أطلقها المرشح المحتمل عن الحزب الجمهوري لانتخابات الرئاسة الأمريكية بحق المسلمين من أهالي البلاد تثير جدلا في الأوساط المحلية والدولية، خاصة في أعقاب دعوته إلى محاصرة أحيائهم. في هذا الإطار، أشارت صحيفة واشنطن بوست في افتتاحيتها إلى الخطاب غير المسؤول لكروز إزاء المسلمين المقيمين في الولايات المتحدة، ودعوته إلى تسيير دوريات في الأحياء التي يقيمون فيها. وقالت إن دعوة كروز إلى تأمين أحياء المسلمين تشبه دعوة منافسه من الحزب ذاته دونالد ترامب إلى مراقبة أو إغلاق المساجد.

وأضافت أن كروز يريد من السلطات "العمل مع الجاليات الإسلامية" لتحديد واجتثاث التطرف، وهو ما يشبه إلى حد كبير استخدام تكتيكات الشرطة المجتمعية في مكافحة العصابات. وأشارت إلى أن كروز حذر من "أحياء المسلمين المعزولة" في أوروبا والتي أصبحت مرتعا لتجنيد الإرهابيين، وقالت إن هذه مشكلة كبيرة لا يملك كروز أو ترامب خطة للاستجابة لها، بل إن كلا منهما يبدو عازما على جعل المشكلة تبدو أكثر سوءا. (كما نقلت الجزيرة نت 2016/3/27).

التعليق:

لم يعد قادة دول الكفر الكبرى يطيقون حبس مشاعرهم تجاه المسلمين خاصة وهم يرون عملاق الإسلام يتململ من قريب. وأصبحت المسألة ليست الإرهاب كما درجوا على وصف تحركات المسلمين، فالآن أصبحت القضية المركزية هي الإسلام والأمة الإسلامية وطلائعها التي تقطن دول الكفر هذه. فالخوف من المسلمين كأمة، ومناهضة الإسلام كمبدأ أصبحت أكثر وضوحاً في ضوء الحيوية والنشاط التي تبديها الأمة الإسلامية للعودة إلى دينها وبناء حضارتها على أساس الدين. فكثر الحديث عن دوافع المسلمين لـ"الإرهاب" وأصبح الغرب يقترب من الحقيقة فيما يفسره هو بمظلومية الشرق وتحميل الغرب مسؤولية الاستبداد والفقر في ربوع بلاد المسلمين. وقد ذكر أوباما في تصريحاته لمجلة "ذي أتلانتيك" الأمريكية أن أمريكا تقاوم مصطلحات هنتجتون التي يستخدمها رئيس وزراء بريطانيا كاميرون بالحديث مثل التطرف الإسلامي والراديكالية الإسلامية وتكتفي باستخدام مصطلح "الإرهاب"، ولكن أوباما حمل الإسلام مسؤولية ذلك بقوله "إن الإسلام لم يتعرض إلى حركة تحديث على غرار النصرانية"، وطالب المسلمين بالقيام بذلك.

وهكذا أصبح حصار المسلمين مطلوباً لأنهم فراخة الإرهاب، وذلك لأنهم يرفضون النفوذ الغربي في المنطقة ويثورون ضد الحكومات الظلامية المستبدة التي يدعمها الغرب. وكأن الغرب يريد منا أن لا ندرك أو نتغافل عن أن جرائم الأسد في الشام التي ما كان لها أن تتم لولا الغطاء الدولي من الدول الكبرى وعلى رأسها الولايات المتحدة، فمن يمدّ إجرامه بالمال والسلاح؟ ولماذا تسكت الهيئات الدولية عن ذلك؟ ولماذا يُدعى إلى مفاوضات في الأمم المتحدة؟ ولماذا تدعمه علناً وتحارب إلى جانبه دولة كبرى من دول الكفر "روسيا" وسراً أمريكا التي تنسق كل أعمالها مع روسيا. وليست سوريا هي الوحيدة، فكل المنطقة الإسلامية بشكل أو بآخر هي جرائم يدعمها الغرب ضد أبناء الأمة، ويريدنا أن نتغافل عنها ونشكره على إجرامه ونرفع الراية البيضاء وكأن الإسلام ليس فينا! لا يريدنا الغرب أن نلاحظ أن الدموع التي ذرفتها موغيريني وزيرة خارجية الاتحاد الأوروبي على بضع عشرات من ضحايا بروكسل لم تذرفها أبداً على ضحايا سوريا الذين يسقطون بالعشرات، وأحياناً بالمئات يومياً وليس حدثاً عابراً، أم أن سوريا بعيدة عنهم، وهل كانت ليبيا بعيدة عن هذه الإيطالية عندما كان القذافي يقتل شعبه أثناء الثورة بالمئات؟!

وهكذا حملت الأحداث الكبرى التي تمر بها المنطقة الإسلامية والحيوية العالية للأمة الإسلامية ويقينها بأن حل مشاكلها كلها هي بتطبيق دينها، كل ذلك حمل قادة الأحزاب والحكومات في الغرب على التصريح لا التلميح بأن المسلمين هم الخطر، وأن الإسلام عدو، ويجب الحذر كل الحذر من الجاليات الإسلامية التي تقطن أوروبا وأمريكا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عصام أبو نبيل

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست