كلٌّ يرى الأحداث بعين طبعه!
كلٌّ يرى الأحداث بعين طبعه!

الخبر: بحث وزير الخارجية التركي هاكان فيدان، مع نظيره الإيراني المكلف علي باقري، مخاطر انتشار الصراع في غزة إلى المستوى الإقليمي. جاء ذلك خلال اتصال هاتفي جرى بينهما الأحد، حسبما ذكرت مصادر دبلوماسية للأناضول. وقالت المصادر، إن الوزيرين بحثا آخر الأوضاع في غزة، ومخاطر انتشار الصراع إلى المستوى الإقليمي. وأشار الوزير فيدان، خلال الاتصال، إلى أن تصاعد التوتر في لبنان ستكون له انعكاسات سلبية على العراق وسوريا. ...

0:00 0:00
Speed:
July 03, 2024

كلٌّ يرى الأحداث بعين طبعه!

كلٌّ يرى الأحداث بعين طبعه!

الخبر:

بحث وزير الخارجية التركي هاكان فيدان، مع نظيره الإيراني المكلف علي باقري، مخاطر انتشار الصراع في غزة إلى المستوى الإقليمي. جاء ذلك خلال اتصال هاتفي جرى بينهما الأحد، حسبما ذكرت مصادر دبلوماسية للأناضول. وقالت المصادر، إن الوزيرين بحثا آخر الأوضاع في غزة، ومخاطر انتشار الصراع إلى المستوى الإقليمي. وأشار الوزير فيدان، خلال الاتصال، إلى أن تصاعد التوتر في لبنان ستكون له انعكاسات سلبية على العراق وسوريا.

كما تبادل الوزيران الآراء حول مكافحة الإرهاب والقضايا الثنائية في مجالات الاقتصاد والنقل. (وكالة الأناضول، 2024/06/30م)

التعليق:

حقا إن كل إنسان يرى الحوادث بعين طبعه! فمن طبعه السذاجة نظر للأمور بسطحية، ومن طبعه الجد نظر لها بجدية، ومن طبعه الإخلاص أعطاها كل اهتمام وإخلاص، ومن طبعه اصطياد الفرص وجد فيها ضالته، أما من طبعه الخيانة فهو خائن لأمته مهما تظاهر بالإخلاص والإنسانية.

ولأن الرأسمالية القائمة على النفعية والمصلحية تسيطر على العالم اليوم فإن تفاعل العالم دولاً وأفرادا لم يخرج عن هذا الإطار. فالشعوب تفاعلت مع الأحداث الجارية في غزة من تدمير وتخريب وقتل وتقطيع وتجويع على أنها مأساة إنسانية، فكانت الفطرة هي المسيّرة للشعوب في مواقفها. أما الحكومات والدول فتعاملت معها بما يوافق مصالحها وما يعود عليها بالنفع أو دفع الضرر، لذا نجد فكرة عدم توسيع الصراع مطلباً لدول العالم جمعاء.

وهذا التباين بين مواقف الدول وشعوبها ليس غريباً في الأنظمة الوضعية التي ألَّهَت نفسها وفرضت أحكامها الوضعية على شعوبها فكان طبيعيا أن تتناقض الشعوب مع حكوماتها يوما ما.

أما أن تتباين مواقف الشعوب الإسلامية وحكوماتها فهي المأساة التي يفوق جرمها جرم يهود!

فمن ناحية، فَصَلَ المسلمون شعورهم عن فكرهم حين تظاهروا احتجاجا على ما يحدث لإخوانهم في غزة لكنهم لم يبادروا إلى نجدتهم بالضغط على أبنائهم في القوات المسلحة بكل ما يملكون من قوة لتدفع همجية العدو الغاشم بالقوة لا بالمفاوضات مع أنهم يقرؤون قوله تعالى: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾، وقوله ﷺ: «مَا مِنْ امْرِئٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِماً فِي مَوْضِعٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ إِلَّا خَذَلَهُ اللهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ، وَمَا مِنْ امْرِئٍ يَنْصُرُ مُسْلِماً فِي مَوْضِعٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلَّا نَصَرَهُ اللهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ نُصْرَتَهُ» (رواه أحمد). هذه هي عين السطحي الذي يبادر لرد الفعل دون تمحيص ولا تدبر!

ذلك أن الشعوب المسلمة منها ما لا تزال منفصلة الفكر عن الشعور؛ فمشاعرها إسلامية لكن فكرها رأسمالي، ومنها ما تملك مشاعر وفكرا إسلاميا لكن فكرها لم يتبلور بعد تبلورا يزيل عن عيونها الغشاوة ويريها طريق النهوض بالإسلام وأهله.

ومع هذا فإن هناك ثلة واعية ارتبط فكرها بشعورها وأبصرت طريق نصرة فلسطين وأنه هو طريق النهضة بالأمة وإعادة دولة الخلافة التي هي وحدها ستنصر فلسطين وتحقن دماء المسلمين في كل مكان، وها هي تلك الثلة سائرة في هذا الطريق غير آبهة بمن خالفها. هذه هي العيون التي تنظر بها الأمة للأحداث والمآسي التي تعيشها فلسطين.

أما الحكام فهم يرون أحداث غزة بعيون الخيانة لله ولرسوله وللمؤمنين؛ فهم فئة منفصلة عن أمتها بعيدة بل متنكرة لدينها، فهم قد مردوا على الخيانة والنفاق، يوالون أعداء الأمة ويخلصون في خدمة مشاريعهم التي تستهدف تطويع الأمة وقتل مشروع نهضتها؛ مشروع إعادة حكم الله للأرض عن طريق إقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة. فيقفون في وجه العاملين للخلافة ويخلطون الأوراق كلما اقتربت الأمة من تحقيق مشروعها؛ فمن تخريب لمقدرات البلاد الصالحة لأن تكون نقطة ارتكاز للدعوة، إلى قتل وترويع واعتقال الناس لتيئيسهم من تحقيق غايتهم كما حصل ولا يزال يحصل في مصر وليبيا واليمن والعراق وسوريا والسودان وغيرها من بلاد الإسلام.

ومن هذا الباب تأتي تخوفات حكام الضرار ومنهم وزيرا خارجية إيران القومية الفارسية وتركيا أردوغان العلمانية، تأتي تخوفاتهما من توسع الحرب في غزة لتطال باقي دويلات الإقليم، وحرصهم على إنهاء هذه الحرب بأسرع وقت ممكن. فالخوف عندهم ليس هو على أهل غزة أو أهل فلسطين إذ هذا ليس في واردهم ولا في الحسبان، فلو كان خوفهم على أهل غزة لسارعوا إلى نجدتهم من بداية المأساة وقبل أن تتفاقم، وهما الدولتان القويتان القادرتان على تدمير كيان يهود وإنهائه من الوجود. فإذ لم يفعلوا مع مقدرتهم فالغاية إذن ليست هي حقن الدماء ولا حفظ البلاد بل الخوف كل الخوف من أن يستفيق أسود الأمة النيام فيزأروا زأرة تنسي أمريكا وبريطانيا وفرنسا وروسيا ومن خلفهم من الأقزام وساوس الشيطان، فحينها لن يبقى لمعتاش على فُتات هذه الدول الكافرة مقام وسيُركلون مع أسيادهم الكفار إلى هاوية سحيقة.

وفي الختام نقول لهؤلاء الأنذال: إنكم مجرد أتباع وسيكون مصيركم تبعا لأسيادكم الذين قال الله تعالى فيهم: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللهِ فَسَيُنْفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ * لِيَمِيزَ اللهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعاً فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾، ثم إن العاقبة للمتقين المخلصين وصدق الله العظيم إذ يقول: ﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ﴾ وإن غدا لناظره قريب.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسماء الجعبة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست