كراهية ترامب وخوفه من الأجانب في أمريكا: حيث يمزق المعلمون الحجاب عن رؤوس البنات المسلمات
كراهية ترامب وخوفه من الأجانب في أمريكا: حيث يمزق المعلمون الحجاب عن رؤوس البنات المسلمات

وضعت إحدى مدارس مقاطعة فرجينيا معلماً في إجازة لإزالته الحجاب عن رأس طالبة. والتجأت الطالبة إلى موقع التواصل تويتر بعد الحادثة التي حصلت يوم الأربعاء وقالت بأن "الحجاب" قد نزع عن رأسها من قبل أحد المدرسين حيث كانت تقدره وتحترمه. وفقاً لـWJLA.

0:00 0:00
Speed:
November 24, 2017

كراهية ترامب وخوفه من الأجانب في أمريكا: حيث يمزق المعلمون الحجاب عن رؤوس البنات المسلمات

كراهية ترامب وخوفه من الأجانب في أمريكا:


حيث يمزق المعلمون الحجاب عن رؤوس البنات المسلمات


(مترجم)


الخبر:


وضعت إحدى مدارس مقاطعة فرجينيا معلماً في إجازة لإزالته الحجاب عن رأس طالبة. والتجأت الطالبة إلى موقع التواصل تويتر بعد الحادثة التي حصلت يوم الأربعاء وقالت بأن "الحجاب" قد نزع عن رأسها من قبل أحد المدرسين حيث كانت تقدره وتحترمه. وفقاً لـWJLA.


وذكر على الحساب الذي يبدو أنه تابع للطالبة قولها بأنها كانت تتحدث مع صديقتها عندما نزع المعلم الحجاب من الخلف. وأثناء صدمتها قال: "أوه، شعرك جميل جداً"، كما قالت على تويتر.


وأصدرت مدارس مقاطعة فرفاكس الحكومية (FCPS) بياناً حيث تدعو الحادث بأنه "غير مناسب وغير مقبول". وقالت المقاطعة "بأن الـFCPS تأخذ هذا الحادث على محمل الجد، وفي الوقت الذي تجري فيه تحقيقات شاملة في الحادث، تم وضع المعلم في إجازة". وأكد مجلس العلاقات الأمريكية الإسلامية البيانات التي ذكرت على تويتر من قبل الطالبة. وقال نهاد عوض، المدير التنفيذي لمجلس العلاقات الأمريكية الإسلامية: "نرحب بقرار وضع المعلم في إجازة، والاعتذار للطالبة وأسرتها، ولكن يجب اتخاذ مزيد من الإجراءات التأديبية بناءً على نتائج التحقيق في هذا الحادث المزعج". "يجب ألا يتعرض أي طالب أو طالبة للترهيب أو المضايقات بسبب دينه، ويجب على المعلمين حماية الطلاب، وعدم إخضاعهم للمضايقات أو التخويف". (أخبار ياهو)

التعليق:


لقد أعطى تعميم الإسلاموفوبيا تجاه المسلمين والإسلام في أمريكا خلال الحملة الرئاسية، وفي المقدمة من قبل ترامب ترخيصاً لجميع قطاعات المجتمع بما في ذلك المعلمين للتنفيس عن الكراهية والتعصب تجاه المسلمين بما في ذلك الفتيات الصغيرات. إن تشويه الإسلام حيث ينظر إليه على أنه دين مجنون وعنيف وغير مقبول في المجتمعات الديمقراطية مثل أمريكا يعكس وضع المجتمع نفسه أكثر مما يعكس صورة الإسلام. وقد سلط تقرير مكتب التحقيقات الفدرالي السنوي الضوء على إحصائيات جرائم الكراهية حيث ذكر بأن 6121 حادثاً وقع ضمن جرائم الكراهية المسجلة في العام الماضي، أي بزيادة نسبتها 5 في المائة تقريباً عن عام 2015 وزيادة بنسبة 10 في المائة عن عام 2014. واستهدف المسلمون في 307 من الجرائم ذات الأساس الديني، بزيادة 19 في المائة عن عام 2015، وضعف العدد عن عام 2014، ولم يقدم سبباً لهذا الارتفاع (رويترز). ومن المؤكد أن النظام السياسي الديمقراطي ووسائل الإعلام والمعلقين مسؤولون عن ارتفاع جرائم الكراهية. إنهم ينشرون تعصبهم وكراهيتهم بشكل منظم في "الخطابات السياسية" حيث يكون الإسلام والمسلمون هما كبش الفداء كوسيلة لتجنب مسؤوليات وفشل النظام الرأسمالي الديمقراطي. إن هذه الطريق الملتفة بعيداً عن إخفاقات النظام الرأسمالي قد تحولت الآن لمستوى الصفوف الدراسية، حيث كان الطلاب المسلمون يهاجمون في السابق، والآن فإن ذلك يشمل المعلمين الذين يعتدون على الفتيات المسلمات عن طريق نزع حجابهن عن رؤوسهن.


وفي أيار/مايو من هذا العام، ذكرت التقارير الصحفية عن الفتاة صفا الزوكري، البالغة من العمر 8 سنوات، والتي قيل إنها تسيء التصرف في الصف، في مدرسة برونكس العامة (76). وذلك عندما رفضت "صفا" أن تخلع حجابها بعد أن أمرتها المعلمة البديلة أوغينيتيغا إيداه (31 عاما) بإزالته، فقامت "إيداه" بسحب الحجاب من رأسها، مما أدى إلى سقوط الوشاح على وجهها وتسبب في تهيج عينها اليمنى، وفقاً لما ذكرته الشرطة. وأصيب والد صفا محمد الزوكري، وهو مهاجر من اليمن، بالصدمة إزاء ما قالته ابنته في المدرسة. وقال الزوكري "لم أكن أتوقع من معلمة أن تفعل ذلك لطفلة".


ولذلك، فإن النظام العلماني الديمقراطي هو الذي مكن الأفكار الخطيرة ككراهية الأجانب والخوف منهم من أن تصبح أفكاراً سائدةً داخل المجتمعات، في حين إن الإسلام، وأيديولوجيته التي يهاجمونها ويشوهونها هي التي توفر المعتقدات والقوانين اللازمة للقضاء على هذه الآراء والأفكار الخطيرة منذ 1400 سنة، كذلك توفر نهجاً لا مثيل له لضمان الاحترام والحقوق والحماية للأقليات الدينية التي تقع تحت حكمها. وقد قال الإمام القرافي لرجل من رجال دهيما عن مسؤولية الخلاف (وهو أحد الرعايا غير المسلمين في الدولة)، "إن من مسؤولية المسلمين إلى شعب دهيما أن يهتموا بضعفهم، وأن يلبوا احتياجاتهم واحتياجات فقرائهم، وإطعام جياعهم، وتوفير الملابس لهم، وتوفير العلاج لهم، وحتى تحمل الأذى منهم حتى لو كانوا من الجيران... كما يجب على المسلمين تقديم النصح لهم بصدق في شؤونهم وحمايتهم من أي شخص يحاول إيذاءهم أو أسرهم أو سرقة ثرواتهم أو انتهاك حقوقهم".

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
ثريا أمل يسنى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست