كرة القدم سلاح أنظمة الضرار في إلهاء الناس عن قضاياهم الحارقة!
كرة القدم سلاح أنظمة الضرار في إلهاء الناس عن قضاياهم الحارقة!

  الخبر: عاشت مدينة تطوان في شمال المغرب، ساعات رعب حقيقية الأحد في عطلة نهاية الأسبوع، على خلفية ما قام به أنصار لنادي الوداد الرياضي لكرة القدم، من مدينة الدار البيضاء كبرى مدن المغرب. (العربية).

0:00 0:00
Speed:
January 12, 2023

كرة القدم سلاح أنظمة الضرار في إلهاء الناس عن قضاياهم الحارقة!

كرة القدم سلاح أنظمة الضرار في إلهاء الناس عن قضاياهم الحارقة!

الخبر:

عاشت مدينة تطوان في شمال المغرب، ساعات رعب حقيقية الأحد في عطلة نهاية الأسبوع، على خلفية ما قام به أنصار لنادي الوداد الرياضي لكرة القدم، من مدينة الدار البيضاء كبرى مدن المغرب. (العربية).

شهدت مدينة تطوان صباح يوم الأحد، عمليات تخريب ممتلكات وسرقات واعتداءات على المارة ومحلات تجارية. (مصادر محلية).

التعليق:

حِرْصُ هذه الأنظمة البائسة الخائنة على جعل هذا العبث الغث لكرة القدم طقسا من طقوس الحياة العامة للناس، وجعل هذا اللهو المنظم لجلدة الريح نظاما من أنظمة حياة الناس ينفق عليه من دمائهم وعرقهم وقوت عيالهم، بل لقد أعلنها السفهاء موسما للتباري في تبديد أموال المسلمين على ألهية جلدة الريح، ما انتهينا بعد من سفيه قطر حتى طلع علينا سفيه الحجاز وتوالت مصائبنا مع سفهاء العراق وكأس خليجهم، بل في صلافة وحقارة تامة أنشأوا لجلدة الريح مدارس ونوادي بل جامعة وأكاديمية، وما كان هذا الحرص الشديد إلا حرص الجاني على طمس آثار جريمته وإخفاء أدلة جنايته.

فهذه الأنظمة البائسة الخائنة لا ترى في كرة القدم جلدة ريح تتقاذفها الأرجل، بل تراها قنبلة محشوة مكرا وغدرا تبغي بها نسف وعي الناس بل عقولهم ونشر التفاهة والسفاهة وصرفا للناس عن قضاياهم الحقيقية الحارقة.

فمع فقر الناس المدقع ومستواه غير المسبوق (في كتاب حقائق العالم فإن خمس أهل المغرب لا يملكون مواد العيش الأساسية)، وهذا الغلاء الأسود الفاحش لأدنى أسباب العيش (ارتفاع أسعار المواد الغذائية بنسبة 14.7% وتكلفة النقل 12.9% خلال الربع الثالث من سنة 2022، وهي أعلى الزيادات منذ انطلاق البيانات سنة 2008 للمندوبية السامية للتخطيط بالمغرب)،

وفضائح ساسة النهب والخراب التي لا تنتهي (حكام ووزراء وبرلمانيين وسياسيين...)

وتعليمٍ قفْرٍ من العلم، صُمِّمَ لنشر الجهالة والجهل (نسبة الأمية بمفهوم انعدام القدرة على التهجي ورسم الحرف بالمغرب تجاوزت 40%، نسبة التلاميذ الذين لا يحصلون على شهادة إنهاء المرحلة الثانوية 78%، حتى صرح وزير التربية والتعليم أحد المسؤولين عن هذا الخراب "إن مؤشرات وتقارير عالمية تجعلنا نفهم كم نحن فاشلون")،

وتطبيب ينخره سرطان فساد المنظومة، أصبحت مستشفياته على قلتها وافتقارها للأطقم الطبية والمعدات مسالخ بشرية (مركز صحي واحد لكل 42 ألف شخص، وأقل من سرير لألف شخص، وطبيب لكل 1630 شخص وممرض لكل 1109 شخص، هذه أرقام الخراب التي أدلى بها وزير الصحة، وما أخفاه أعظم)،

وأمن متوحش متغول نقيض الأمن والأمان،

وسوء رعاية بحجم غول يلتهم جهود الناس وحقوقهم (نسبة الضرائب لسنة 2022 تجاوزت 90.4% من إيرادات الميزانية العامة بالمغرب)،

وإعلام فاجر، جعل من نشر الضلالة والرذائل مذهبا (برامج وأفلام ومسلسلات مدبلجة وأغانٍ وإعلانات وإشهارات وأخبار وحوارات لعلمنة المجتمع وإقصاء الإسلام كلية من حياة أهل المغرب المسلمين)،

وقراء الرويبضات الأفاكون الكذبة جعلوا من دين الناس بضاعة تباع وتشترى، كل همهم الدرهم والدينار ورضا الرويبضة (الرابطة المحمدية على رأسها كبير الأفاكين أحمد عبادي لتحريف الإسلام وتزييف مفاهيمه، ومعهد تكوين الأئمة وهو بحق وكر لتخريج القراء الكذبة)...

فمع كل هذا الخراب والبوار ما وجدت أنظمة الضرار إلا غواية كرة القدم لإلهاء العامة عن جحيم عيشهم وخراب ديارهم وخسران آخرتهم. بل تم تطوير أُلْهِية جلدة الريح لتركيز مفعول تخديرها، فقد صيروها مهلوسا يتم بها تهييج مشاعر الغوغاء لتنفيس وتصريف احتقانهم ومعاناتهم من قبيح سوء أحوالهم حسب المآرب الخائنة لأنظمة الضرار، وإن كان تخريبا للأملاك وإجراما في حق الناس فلا ضير في عرف سياسة الرويبضات الخونة، فما كان إلا بائس يحطم بائسا!

فضلا عن زرع النعرات والعصبيات والضغينة بين الناس، خدمة لتلك الغاية الخبيثة لأنظمة الضرار "فرق تسد"، تفريقا للجمع ومحْقاً لوحدة الصف وتشتيتا للجهود وتحطيما للطاقات، هو حكم الرويبضة الغشوم ولو على أشلاء ضحاياه.

فما وقع بتطوان شمال المغرب قبل وعقب مباراة جلدة الريح من اعتداءات وجرائم وتخريب وسرقة لأملاك الناس هو جزء من سياسة هذه الأنظمة البائسة في تدوير خرابها والتعمية على فسادها وإفسادها، وتنفيس وتصريف احتقان الناس من ظلمها وجورها، وزرع الضغينة لتفريق وتمزيق جمعهم وكسر عزائمهم. أما ضياع حقوق الناس وتخريب وإتلاف ممتلكاتهم فلا ترى فيه أنظمة الضرار إلا آثارا جانبية اقتضتها غايتها الخبيثة.

فغواية ألهية الريح التي أنشأوا لها بالمغرب "أكاديمية لكرة القدم" ثم أكاديميات مماثلة في مدن أخرى لحرف الشباب عن الجدية والقصد وإغراقهم في السفاهة والتفاهة، بها حلت الغواية محل القمع والإكراه والقسر، وتكفلت بمسخ العقول وطمس التفكير ونشر التفاهة والسفاهة وصرف الناس وإلهائهم عن ضياع حقوقهم ونهب أموالهم وثرواتهم وضنك معيشتهم وشقاء حياتهم، ثم إثارة الغرائز وتهييج المشاعر لتصريف وتنفيس الاحتقان وزرع البغضاء والشحناء بين البؤساء حتى لا يرى البائس في قهره عدوا له إلا البائس الماثل أمام ناظريه، بل أنكى من ذلك أن يستغيث البؤساء في تطاحنهم بالرويبضة ومنظومة قمعه، أي بمن هو سبب بؤسهم وشقائهم وتطاحنهم!

وإن كان على حساب تخريب وإتلاف أملاك الناس، ومن قبل مكوساً وضرائب تقتطع من دماء البؤساء وعرقهم وقوت عيالهم، فما ضر هذه الأنظمة البائسة المجرمة إن كان كل ذلك هو ثمن بقائها جاثمة على صدورهم.

هي آفة زمانكم معشر المسلمين، رويبضاتكم الخونة الفجرة، هي رزيّتكم بشر الرعاء الحطمة، ما كانوا فيكم إلا أسباب فقركم وجهلكم وضلالكم وانحطاطكم، فيهم قيل:

وراعي الشاة يحمي الذئب عنها *** فكيف إذا الرعاة لها ذئاب؟!

معشر المسلمين: فروا إلى الله واتقوه وابتغوا إليه الوسيلة بتحكيم شرعه، بانتزاع سلطانكم المغصوب وبيعة خليفة نبيكم ﷺ الموعود والمنشود لعلكم تفلحون.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَابْتَغُواْ إِلَيهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُواْ فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مناجي محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست