كُلُّ إصْلاحٍ لا يَتبَنَّى اقتلاعَ أنظمةِ الكُفر، ويُحِلّ مكانَها نِظامَ حُكمِ الإسلام فهو خِداعٌ للناس
كُلُّ إصْلاحٍ لا يَتبَنَّى اقتلاعَ أنظمةِ الكُفر، ويُحِلّ مكانَها نِظامَ حُكمِ الإسلام فهو خِداعٌ للناس

في خِضم ما يعتري العراق اليوم من فوضى سياسية وانهيار لما تعارف عليه الناس من مفهوم (الدولة) ومؤسَّساتها، وما جرَّه علينا رئيس الوزراء (العباديّ) بسبب محاولات "الإصلاح" المزعومة التي طرحها منذ عام وأكثر دون جدوى.. وما رافق ذلك من انقساماتٍ وصراعات عنيفة بين الفرقاء (للفوز) بشيء يسيرٍ من حطام الدنيا وزينتها...

0:00 0:00
Speed:
April 20, 2016

كُلُّ إصْلاحٍ لا يَتبَنَّى اقتلاعَ أنظمةِ الكُفر، ويُحِلّ مكانَها نِظامَ حُكمِ الإسلام فهو خِداعٌ للناس

كُلُّ إصْلاحٍ لا يَتبَنَّى اقتلاعَ أنظمةِ الكُفر،

ويُحِلّ مكانَها نِظامَ حُكمِ الإسلام فهو خِداعٌ للناس

الخبر:

في خِضم ما يعتري العراق اليوم من فوضى سياسية وانهيار لما تعارف عليه الناس من مفهوم (الدولة) ومؤسَّساتها، وما جرَّه علينا رئيس الوزراء (العباديّ) بسبب محاولات "الإصلاح" المزعومة التي طرحها منذ عام وأكثر دون جدوى.. وما رافق ذلك من انقساماتٍ وصراعات عنيفة بين الفرقاء (للفوز) بشيء يسيرٍ من حطام الدنيا وزينتها، فقد نقلت وكالات الأنباء، ومنها (شبكة أخبار العراق - 2016/04/19) خبر زيارة وفدٍ برلمانيٍّ لمدينة النجف التقوا خلالها أحد مراجع الشيعة الكبار عندهم (...) لإطْلاعِه على مُجريات الأحداث التي تعصف بالبلاد.. فوبَّخَهم بشِدةٍ على سوء صنيعهم فيما مضى من سنوات حُكمهم منذ احتلال العراق في 2003 م قائلاً لهم - بحسب مصدرٍ مطلعٍ في مَكتبِه:

- أنَّ خطوتهم بالاعتصام داخل قبة البرلمان "شأنٌ سياسيّ ونحن لا نَتدخَّلّ به".

- وأنَّ "الفساد مضى عليه (13) عاما فأين كُنتُم؟ واتَّهمَ كل عضو منهم بالاستحواذ على رواتب (30) رجلاً من الحرس الخاصّ - على أقل تقدير -   فعليكم التخلص من الفساد الموجود عندكم وفي كُتلِكم أولا".

- وأضافَ: "نحن نعتقد أنكم غيرُ قادرين على الخروج من الأزمة إلا مِن خِلال:

1- اتفاق جميع الكتل السياسية على محاربة الفساد،

2- ونبذ المصالح الشخصية،

3- ومراعاة الصالح العام،

4- وبدون ذلك، لا أنتم ولا غيركم قادرٌ على الإصلاح".

التعليق:

بالرغم من اندفاع سياسيِّي العراق (الجديد) بقوةٍ في طريق العَلمانيَّة الكافرة، والديمقراطية الفاشلة بل ومحاربتهم لكل المُعالجات الشرعية الإسلامية الحَقَّة لمشاكل الناس.. فإنهم يُصِرون على التمسُّحِ (بمَرَاجع الدِّين) لإضفاء صبغة الشرعية على ظلمهم وفسادهم، ولخِداع أهل العراق أنَّ سلوكهم كحُكام لا يخرج عن دائرة الشرع، وقد صَدَق فيهم قولُ الحقّ سبحانه: ﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ﴾.

وتعالوا ننظرُ بعُمقٍ فيما تفَضَّل به ذلك (المَرجِعُ الدينيّ) من توجيهات، فنقول:

أولاً: الأصل في اللجوء إلى علماء الإسلام: أن يُسألوا عن حُكمٍ شرعيٍّ لحادثة معينة اختلف الناس فيها، أو لفضِّ خصومةٍ بين الحاكم ورعيَّتِه، لكن الذي يجري أنَّ البَرلمانيِّيْنَ - الذين يُنازعون الله عَزَّ وجَلَّ في وضع تشريعاتٍ وقوانينَ تُصادم الشرع الحنيف - يُطلِعون (المَرجع) على إجراءاتٍ يرفُضها الشرع أساساً، ذلك أنها من ثمرات الحكم الديمقراطي الذي أبطله الإسلام، وبانَ عَوَارُهُ في عقر ديار الكفار دُعاة الديمقراطية.. فأين هذا من توجيهات (مراجعهم) بضرورة اتفاق الكُتَل السياسية العميلة لأمريكا عدُوَّة الإسلام والمسلمين للخروج من الأزمات التي هي من صنع أيديهِم الآثمة..؟! أليسَ هذا مما يدعو للعَجَب..؟!

ثانياً: أنَّ قولَ (المَرجِع) بشأن ما يَجري من ظلمٍ وفساد عظيم: أنهُ "شأنٌ سياسيّ ونحنُ لا نَتدخَّلّ به" يَدُلُّ دلالةً واضحةً لا لبس فيها أنَّهُ يُؤيِّد العلمانية والديمقراطية بل ويَتبنَّاهَا رغم قيام الأدلة الشرعية الدامغةِ على بُطلانها، ووجوب الحُكم بشرع الله تعالى وبالنُصُوص الشرعية الصَّريحةِ والصحيحة التي لا مجال لدحضها أو تأويلها: ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ * أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾.

ثالثاً وأخيراً: فهذا حَالُ مَن يَزعُمون أنهم علماءُ شرع الله تعالى، والقائمون على حِفظهِ والذَّودِ عن حياضهِ في وجهِ الحرب الشعواء التي تقودها أمريكا الكافرة على بلاد المسلمين عامة وعلى أحكام دينهم خاصة، بل وتتَّهِم كلَّ داعٍ للرجوع إلى حكم الإسلام بأنهُ إرهابيٌّ ينبغي تصفيتهُ، وتفرضُ على المسلمين - بما أوتِيَت من قوة - تبني الدعوةِ إلى الإسلام "المُعتَدِل" الذي يُسَوِّي بين الكافر والمُؤمن، وبين اليهوديّ الغاصب لأرض الإسراء والمعراج وبين أهلها المسلمين المظلومين، والذي يَخْلو من كل ما يَدعُو لجهاد الكافرين المُعتدين وطردهم من ديارنا... وليس ذلك فحسب، بل ويتبنى عقيدة الكفار "فصل الدين عن الحياة والدولة والمجتمع".

هذا حال (علماء الدين)، أما حال حكام المسلمين المفروضين بالحديد والنار على أمة الإسلام فحدِّث ولا حرج، فقد عمَّ ظُلمُهم لرعاياهم وطمّ، وباتوا سبباً رئيساً لقتل وتهجير شعوبهم، وصاروا أشدَّ إخلاصاً من الكافرين أنفُسِهِم على تلك المبادئ الهدَّامة... فنسأل الله العليَّ القديرَ أنْ يُنجِزَ لنا وعدَه، وينصُرَ جُندَه، ويُعِزَّ دينَه، ويَأخذ بأيدي الثُلَّة المؤمنة العاملة على تحقيق مشروع استئناف الحياة الإسلامية بإقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النُّبُوَّة فترفعُ لواء الحقّ والعدل، وتُطهِّر ديارَ المسلمين من دَنَس كلّ كافرٍ معتدٍ، وتقتصُّ منه جزاءَ ما آذى المسلمين وأضرَّ بمصالحِهِم.. وما ذلك على الله بعزيز.

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الرحمن الواثق

المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية العراق

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست