كورونا، فقر المرأة وذر الرماد في العيون
كورونا، فقر المرأة وذر الرماد في العيون

الخبر:   أفاد تقرير للأمم المتحدة صدر يوم الأربعاء 2020/9/2 أن أزمة فيروس كورونا ستدفع 47 مليون امرأة وفتاة إلى الفقر المدقع وتوسع فجوة الفقر بين الجنسين. وتشير الدراسة، التي أعدتها هيئة الأمم المتحدة للمرأة وبرنامج الأمم المتحدة الإنمائي، إلى زيادة معدل الفقر بين النساء بنسبة 9.1 في المائة. وأشارت التقديرات الأولية ذات مرة إلى انخفاض بنسبة 2.7% في معدل الفقر بين النساء بين عامي 2019 و2021 وبسبب الجائحة، من المتوقع الآن أن يرتفع بنسبة 9.1%. وتُظهر بيانات هيئة الأمم المتحدة للمرأة وبرنامج الأمم المتحدة الإنمائي أنه سيكون هناك 118 امرأة مقابل كل 100 رجل تتراوح أعمارهم بين 25 و34 عاماً في فقر مدقع بحلول عام 2021 ومن المتوقع أن تتسع الفجوة إلى 121 امرأة في مقابل كل 100 رجل بحلول عام 2030. ...

0:00 0:00
Speed:
September 05, 2020

كورونا، فقر المرأة وذر الرماد في العيون

كورونا، فقر المرأة وذر الرماد في العيون

الخبر:

أفاد تقرير للأمم المتحدة صدر يوم الأربعاء 2020/9/2 أن أزمة فيروس كورونا ستدفع 47 مليون امرأة وفتاة إلى الفقر المدقع وتوسع فجوة الفقر بين الجنسين. وتشير الدراسة، التي أعدتها هيئة الأمم المتحدة للمرأة وبرنامج الأمم المتحدة الإنمائي، إلى زيادة معدل الفقر بين النساء بنسبة 9.1 في المائة.

وأشارت التقديرات الأولية ذات مرة إلى انخفاض بنسبة 2.7% في معدل الفقر بين النساء بين عامي 2019 و2021 وبسبب الجائحة، من المتوقع الآن أن يرتفع بنسبة 9.1%. وتُظهر بيانات هيئة الأمم المتحدة للمرأة وبرنامج الأمم المتحدة الإنمائي أنه سيكون هناك 118 امرأة مقابل كل 100 رجل تتراوح أعمارهم بين 25 و34 عاماً في فقر مدقع بحلول عام 2021 ومن المتوقع أن تتسع الفجوة إلى 121 امرأة في مقابل كل 100 رجل بحلول عام 2030.

قالت بومزيلي ملامبو-نوكا، المديرة التنفيذية لهيئة الأمم المتحدة للمرأة، إن "الزيادات في فقر النساء المدقع هي اتهام صارخ لعيوب عميقة في طرق هيكلة المجتمع والاقتصاد"، وأضافت: "نحن نعلم أن المرأة تتحمل الجزء الأكبر من مسؤولية رعاية الأسرة؛ النساء يكسبن أقل، ويدخرن أقل، ويشغلن وظائف أقل أماناً. في الواقع، وبشكل عام، فإن عمل المرأة معرض للخطر بنسبة 19 في المائة أكثر من عمل الرجال". وأضافت المسؤولة الأممية أن الأدلة على عدم المساواة المتعددة يجب أن تدفع الآن إلى "إجراءات سياسية تصالحية سريعة" تضع المرأة في قلب التعافي من الجائحة. (موقع الأمم المتحدة)

التعليق:

لقد تبنت الأمم المتحدة مصطلح "تأنيث الفقر" (زيادة نسبة الفقر بين النساء عن مثيلتها بين الرجال) ولا يخفى على أي متابع أن الأمم المتحدة تندد بالممارسات المجتمعية التي تسبب الفقر بين النساء من باب تدويل فكرة المساواة بين الرجل والمرأة وليس من أجل القضاء على الفقر في البلاد الفقيرة. ومن ذلك إعلان قمة الألفية التي انعقدت في نيويورك في أيلول/سبتمبر 2000م عن الالتزام بتحرير المرأة من الفقر الذي تعاني منه أكثر من مليار امرأة. وما تلا ذلك من سياسات رأسمالية لم تزد الفقراء عبر العالم إلا ضنكا وبؤسا.

اعترفت بومزيلي ملامبو-نوكا، المديرة التنفيذية لهيئة الأمم المتحدة للمرأة بأن زيادة الفقر بين النساء تعد "اتهاما صارخا لعيوب في طرق هيكلة المجتمع والاقتصاد" ولكن سرعان ما ربطت بين هذه الزيادة في معدل الفقر بين النساء وبين الديباجة النسوية المملولة حول المساواة ونظرة المجتمع للمرأة. وتناست أن الملايين من الرجال والنساء والأطفال في أفريقيا جنوب الصحراء الكبرى يعيشون في فقر مدقع، وهو ما يُعرَّف بالإعاشة على أقل من 1.9 دولار يومياً. وتناست أن منطقة جنوب آسيا مهددة بعودة ظهور الفقر المدقع. والأهم من ذلك أنها تناست أن الجوع لا يفرق بين ذكر وأنثى.

لم تتطرق المسؤولة الأممية إلى الخلل في "هيكلة المجتمعات والاقتصاد" المتمثل في هيمنة السياسات الرأسمالية المجحفة أو دور البنك وصندوق النقد الدوليين في خلق سياسات اقتصادية هشة أو تكبيل الدول الفقيرة بالديون وربطها بالمعونات وصرفها عن الإنتاج والتصنيع. كما لم تذكر المسؤولة الأممية أن الدول الرأسمالية تتباكى على فقر المرأة من جهة وتحكم الخناق على الدول الفقيرة من جهة أخرى. ولم تذكر زيادة تكاليف خدمة الديون إلى ما يقرب من 40 مليار دولار أمريكي سنويا، بسبب انخفاض العديد من العملات الأفريقية في عام 2020. واستغلال الدول الرأسمالية لكوفيد-19 في خلق أزمة ديون ستؤدي لتخلف بعض الدول عن السداد.

الأمم المتحدة تدق طبول الخطر وتعد الناس بالفقر والهلاك لتعزز من هيمنة الدول المسيطرة عليها على رقاب الناس وتستغل كل حادث لتفرض النظرة الرأسمالية. كان من المتوقع أن يعيش حوالي 570 مليون أفريقي في فقر مدقع بحلول عام 2030 ولكن الجائحة الحالية زادت التوقعات إلى 631 مليون. ومن المتوقع أيضا أن ترتفع نسبة الذين يعانون من نقص التغذية، وستكون وفيات الرضع بحلول عام 2030 أعلى بثلاث مرات من هدف الأمم المتحدة لعام 2030 في أهداف التنمية المستدامة.

لا شك أن جائحة كوفيد-19 لها تأثير على مستويات الفقر في العالم ولها تأثير مباشر على المرأة ولكن تضخيم تأثير الجائحة على المرأة في الدول الفقيرة هو من باب ذر الرماد في العيون.

﴿الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلاً وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

هدى محمد (أم يحيى)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست