كيان يهود الإرهابي يجعل من الضفة الغربية مقبرة للأطفال كما في غزة  بينما جيوش المسلمين تشاهد ذلك دون تحرك!
كيان يهود الإرهابي يجعل من الضفة الغربية مقبرة للأطفال كما في غزة  بينما جيوش المسلمين تشاهد ذلك دون تحرك!

الخبر: في السابع من شباط/فبراير، أفادت منظمة "أنقذوا الأطفال" بمقتل ما لا يقل عن 224 طفلاً في الضفة الغربية على يد قوات يهود أو المستوطنين منذ كانون الثاني/يناير 2023، أصغرهم يبلغ من العمر عامين فقط. ووفقاً للأمم المتحدة، قُتل 171 طفلاً في الضفة الغربية منذ 7 تشرين الأول/أكتوبر 2023، أي ما يعادل طفلاً كل يومين تقريباً.

0:00 0:00
Speed:
February 13, 2025

كيان يهود الإرهابي يجعل من الضفة الغربية مقبرة للأطفال كما في غزة بينما جيوش المسلمين تشاهد ذلك دون تحرك!

كيان يهود الإرهابي يجعل من الضفة الغربية مقبرة للأطفال كما في غزة

بينما جيوش المسلمين تشاهد ذلك دون تحرك!

(مترجم)

الخبر:

في السابع من شباط/فبراير، أفادت منظمة "أنقذوا الأطفال" بمقتل ما لا يقل عن 224 طفلاً في الضفة الغربية على يد قوات يهود أو المستوطنين منذ كانون الثاني/يناير 2023، أصغرهم يبلغ من العمر عامين فقط. ووفقاً للأمم المتحدة، قُتل 171 طفلاً في الضفة الغربية منذ 7 تشرين الأول/أكتوبر 2023، أي ما يعادل طفلاً كل يومين تقريباً. ولم يوجه أي اتهام أو محاسبة لأي جندي على جرائم القتل هذه. وأفاد مكتب الأمم المتحدة لتنسيق الشؤون الإنسانية بأن عدد أطفال فلسطين الذين قتلوا بغارات يهود الجوية في الضفة الغربية ارتفع بنحو 20 ضعفاً خلال السنوات الأخيرة. وذكرت الحركة العالمية للدفاع عن الأطفال في فلسطين أن الطفل صدام حسين إياد محمد رجب (10 أعوام) أصيب برصاصة في البطن خلال اقتحام الاحتلال لمدينة طولكرم في 28 كانون الثاني/يناير، وهو الآن في حالة حرجة في أحد مستشفيات نابلس. كما اعتدت قوات الاحتلال على والد صدام بالضرب واللكمات وهو يحاول حمل ابنه لتلقي الإسعافات الطبية. وخلال عملية النقل بين المستشفيات، أوقف جنود الاحتلال سيارة الإسعاف التي كان صدام يستقلها، وقال أحدهم لوالده: "أنا من أطلق النار على ابنك، أتمنى أن يموت". وفي 26 كانون الثاني/يناير، أصيبت الطفلة ليلى الخطيب البالغة من العمر عامين برصاصة في رأسها بنيران قناصة الاحتلال أثناء وجودها في منزلها في قرية الشهداء جنوب جنين. وفي الأول من شباط/فبراير، أفادت الأنباء أن أحمد السعدي (16 عاماً) كان من بين خمسة ممن قُتلوا بغارة جوية أصابت مجموعة من الناس في أحد شوارع جنين، وفي وقت لاحق، أصابت غارة لطائرة استطلاع سيارة في قباطية، ما أدى إلى استشهاد فتيين، وبعد دقائق، أصابت غارة أخرى لطائرة استطلاع في جنين فتيين آخرين كانا على متن دراجة نارية.

التعليق:

بعد أيام قليلة من إعلان وقف إطلاق النار في غزة، شن كيان يهود المجرم حملة "الجدار الحديدي" وبدأ بشن غارات دامية في جنين وطولكرم ونابلس ومدن أخرى في الضفة الغربية، حيث كان الأطفال هدفاً مشروعاً لقواته، كما حدث في غزة. والواقع أن هذا الاحتلال الوحشي سُمح له بذبح الأطفال والرضع دون أي عقاب، دون أن تتدخل أي دولة لوقف هذا القتل. وقد صرح مدير برنامج المساءلة في الحركة العالمية للدفاع عن الأطفال عايد أبو قطيش "أن قوات الاحتلال تستهتر بحياة أطفال فلسطين، حيث تستهدفهم عمداً بالذخيرة الحية دون محاسبة". كل هذا بالطبع إلى جانب الاعتقالات والاحتجازات والتعذيب الممنهج للأطفال في السجون، المستمرة منذ عقود. ومن الواضح أن اتفاقية الأمم المتحدة لحقوق الطفل وجميع القوانين الدولية المتعلقة بحماية الأطفال باطلة ولاغية عندما يتعلق الأمر بأطفال فلسطين!

يكرر الاحتلال الإرهابي في الضفة الغربية ما فعله في غزة حرفيا، من قتل جماعي واعتقالات تعسفية وهدم للمجمعات السكنية وتفجير المنازل وتدمير البنية التحتية الحيوية، ما تسبب في نزوح عشرات الآلاف من منازلهم. ففي عام 2024، نفذت قوات يهود 152 غارة جوية في الضفة الغربية. وقال رئيس بلدية جنين محمد جرار "إن جيش الاحتلال أجبر نحو 15 ألف مواطن من سكان المخيم على النزوح، وقام بهدم وحرق وتفجير أكثر من 100 منزل منذ بدء العملية، كما قام بتجريف الشوارع وتدمير شبكات المياه والكهرباء والصرف الصحي والاتصالات"، مضيفاً "الجديد في هذه العملية العسكرية هو التهجير الجماعي لسكان مخيم جنين". بالإضافة إلى ذلك، وصف تقرير جديد لمنظمة أطباء بلا حدود نظام الرعاية الصحية في الضفة الغربية بأنه في "حالة طوارئ دائمة" منذ تشرين الأول/أكتوبر 2023، وأن "التصعيد الدراماتيكي في العنف، الذي اتسم بالتوغلات العسكرية (الإسرائيلية) المطولة والقيود الأكثر صرامة على الحركة... أعاق بشدة الوصول إلى الخدمات الأساسية، وخاصة الرعاية الصحية، ما أدى إلى تفاقم الظروف المعيشية المتردية بالفعل للعديد من الفلسطينيين".

من الواضح أن الاحتلال، بمساعدة ودعم من أمريكا، لا يهدف فقط إلى تهجير أهل غزة من أرضهم، بل وضم بقية فلسطين إلى كيانه الإجرامي. ونحن نسأل جيوش المسلمين، الذين لديهم القدرة على اقتلاع هذا الاحتلال وإنهاء هذه الإبادة الجماعية والتطهير العرقي، كيف يمكنهم أن يجلسوا وفلسطين بأكملها تتحول إلى مقبرة لأبنائها؟! وكيف يظلون في ثكناتهم وهم يشاهدون المسجد الأقصى وأرض الإسراء والمعراج تدنس يوميا وإخوانهم وأخواتهم في فلسطين يذبحون ويطردون من ديارهم؟! ماذا سيقولون لربهم سبحانه وتعالى عندما يسألهم لماذا تخليتم عن أمتكم وأرضكم المباركة والأقصى؟! ما هو ردهم على قول الله سبحانه وتعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُواْ فِي سَبِيلِ اللهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الأَرْضِ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ﴾؟!

يا أبناء جيوش المسلمين، ماذا تنتظرون؟ لماذا لا تتحركون للدفاع عن إخوانكم وأخواتكم في فلسطين؟! ألم تروا أنه لا توجد اليوم أي دولة أو زعيم لديه الإرادة السياسية لحماية أرواح المسلمين، سواء في فلسطين أو كشمير أو ميانمار أو في أي مكان آخر؟! ألم تشاهدوا كيف أن هؤلاء الحكام والأنظمة لا يرقصون إلا على أنغام أسيادهم الغربيين، بما في ذلك حماية كيان يهود باتفاقيات التطبيع والسلام؟! أليس من الواضح أن فلسطين لن تتحرر ولن تتم حماية شعبها إلا باقتلاع هذه الأنظمة الخائنة واستبدال القيادة الإسلامية المخلصة بها، دولة الخلافة الدرع الواقية للمسلمين كما وصفها رسولنا ﷺ؟ لذا فإننا ندعوكم للإسراع بإعطاء نصرتكم لإقامة دولة الخلافة الراشدة التي ستحشدكم دون تأخير لاقتلاع هذا الاحتلال السرطاني إلى الأبد وحماية أمتكم وإعادة سلطان ونور الإسلام إلى هذه الأرض المباركة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسماء صديق

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست